23مارچ تجدید عہد کا دن

zaheer-babar-logo

قومی دن کے موقعہ پر ملک بھر میں مثالی جوش وخروش نظر آیا ۔پاکستان کے 77 ویں کے قومی دن پر چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔پاکستانیوں نے 23 مارچ دراصل اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا کہ ان تمام عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے جو لسانی ، سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر اس دھرتی پر اپنا مذموم کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستانیوں نے عملا یہ عہد کیا کہ انتہا پسند اور دہشت گرد قوتوں کوشکست دے کر ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے پوری لگن سے کام کیا جائے گا۔
اس موقعہ پر وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ ملک بھر میں نماز فجر کے بعد مسجدوں میں ملک کی ترقی، خوشحالی، سلامتی اور امن کے لیے خصوصی دعاوں کا اہتمام کیا گیا۔ گذشتہ سالوں کی طرح اس بار بھی 23 مارچ کے دن سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
یقینا 23مارچ کے دن کو ملکی تاریخ میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔آج سے 77 سال قبل اسی دن لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری کی گی جو بالاآخر برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ وطن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرگی۔ حالیہ سالوں میں اس دن کی اہمیت گزرے ماہ وسال کے برعکس خاصی بڑھ چکی۔ وطن عزیز کو جو چیلجنز درپیش ہیں ان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لازم ہے کہ اس سرزمین کی ملکیت کو اعلانیہ طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس ضمن میں محض زبانی جمع خرچ ہی کافی نہیں بلکہ عملا پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔ دراصل زندہ قوموں کا ایک شیوہ یہ ہوا کرتا ہے کہ وہ اپنی قومی دن پورے جوش وخررش سے منایا کرتی ہیں۔ماضی سے برعکس اس بار 23 مارچ کی خاص بات یہ رہی ملکی فورسز کے ساتھ ساتھ چینی و سعودی فوجی دستوں نے بھی اس میں حصہ لیا ۔
سعودی عرب کا فوجی دستہ نے خصوصی طورپر مارچ پاسٹ میں حصہ لیا۔ یوم پاکستان کی پریڈ میں دوست ملک چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے خصوصی دستے بھی نمایاں رہے۔ترک ملٹری بینڈ مہتر نے بھی پریڈ میں شرکت کی اور جیوے جیوے پاکستان سمیت مختلف ملی نغموں کی دھنیں بجائیں۔
بطور مہمان خصوصی صدر مملکت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے پر امن دوستانہ تعلقات چاہتا ہے مگر بھارتی جارحیت نے خطے کے امن کو دا پر لگادیا۔ ممنون حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ خطے میں امن اور ترقی کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر ساتھ ہی پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی سال سے دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے۔ فوج اور عسکری و سیکیورٹی اداروں کی کوششوں سے امن کا قیام ممکن ہوا لہذا اب پاکستان معاشی ترقی کی جانب گامزن ہے مذید یہ کہ ہمارا مقصد علاقائی اور عالمی امن کو یقینی بنانا ہے۔
صدر پاکستان نے جس انداز میں ملک وقوم کے مسائل اور اس کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کا زکر کیا وہ قابل تحسین ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ بطور قوم اگر ہم نے بہت کچھ گنوایا ہے تو حاصل بھی کیا۔ حالیہ دنوں میں ہم ایسے دشمن سے نبرد آزما ہیں جس کی شناخت ظاہر ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔پاکستان کے علاقائی اور عالمی بدخواہوں نے جس منظم انداز میں یہاں قتل وغارت گری کرنے والے گروہوں کی سرپرستی کی اس نے تباہ کن اثرات مرتب کیے۔ ہمیں تعمیر وترقی کا سفر جاری رکھنا ہوگا۔ بطور قوم ہمیں ان عناصر کو اپنی صفوں سے نکال باہر کرنا چاہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ملک کی جڑیں کمزور کررہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیںکہ سیاست، صحافت اور مذہبی طبقات میں ایسے افراد کو باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے جن کے مفادات اس دھرتی کی بجائے کئی اور قوتوں سے وابستہ ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ آج کا پاکستان جمہوری ہے جہاں عدلیہ اور میڈیا آزاد ہے, اللہ تعالی پاکستان کو سلامت رکھے اور ترقی یافتہ مملکت بنائے“.
وطن عزیز میں ملکی تعمیر و ترقی کے لیے پاک-چین اقتصادی راہداری جیسے تاریخ ساز منصوبوں پر پورے جوش وخروش سے کام جاری ہے ۔ بادی النظر میں تین سال میں اقتصادی خوشحالی اور ترقی کیلئے اطمینان حدتک پیشترفت ہوئی۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ سی پیک کی شکل میں آج پاکستان کے عوام کو کھوئی ہوئی منزل کا سراغ مل گیا مگر اس میں شک نہیں کہ اگر ملک کو دیانتدار قیادت میسر ہوتو ناممکن کو ممکن بنایاجاسکتا ہے۔
(ڈیک) 23 مارچ کے دن کھلے لفظوں میں ہمیں تسلیم کرنا چاہے کہ ہم بطور قوم ہم اپنے اندار موجود خرابیوں کو تیزی سے ختم کرنے میں سست روی کا شکار ہیں۔ ہمارے زمہ داروں کو ترجیحات کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا۔ ذاتی و گروہی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف اس دھرتی اور اس کے باسیوں کے روشن اور محفوظ مسقبل کو مقدم جاننا ہی حقیقی کامیابی دلا سکتا ہے(ڈیک)۔ رہنمائی کی آڈ میں ان عناصر کو اپنے اوپر مسلط ہونے کی کسی صورت اجازت نہیں دینی چاہے جو کئی دہائیوں سے اس ملک کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر لوٹنے میںمشغول ہیں۔ دراصل 23مارچ کا ایک پیغام یہ بھی ہے۔

Scroll To Top