زلزلہ بتا کر نہیں آیا کرتا !

face-book-aj-ki-baat

  • گذشتہ 23 مارچ کے موقع پر جو کچھ میں نے لکھا تھا وہ آپ دوبارہ پڑھ لیں۔۔۔!

آج میرے ایک قاری نے فون پر مجھ سے ایک ایسا سوال پوچھا ہے جس کا جواب فی الحال میرے پاس نہیں اور نہ ہی اس کا اطمینان بخش جواب تلاش کرنامیرے لئے آسان ہے۔
موصوف نے پوچھاہے: ”23مارچ 1940ءکو جس پاکستان کے حصول کا عزم ایک قرارداد کی صورت میں سامنے آیا تھا کیا وہ قائم ہوچکا ہے ؟ اگر قائم ہوچکا ہے تو کیا قائداعظم ؒ اور برصغیر کے مسلمانوں نے قیامِ پاکستان کی تاریخی جدوجہد اس لئے کی تھی کہ اسے بنا کر میاں نوازشریف ` آصف علی زرداری ` الطاف حسین ` مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی خان کے حوالے کردیاجائے ۔؟اگر نہیں تو پھر ایسا کیوں ہے کہ کئی دہائیوں سے ان ہی فرزندانِ تقدیر اور ان کے خاندانوں کی حکمرانی قائم ہے۔؟“
میری خاموش پر اس قاری نے کہا۔ ” حال ہی میں دو دیگر نام گونجنے شروع ہوئے تھے جن کے ساتھ مجھ جیسے خواب پرستوں نے امیدیں وابستہ کرلی تھیں۔ لیکن اِن دو ناموں کی گونج بھی اب ہمارے کانوں اور ہماری امیدوں سے دور ہوتی چلی جارہی ہے ۔“
” آپ کن دو ناموں کی بات کررہے ہیں ؟“ میں نے پوچھا۔
” عمران خان اور جنرل راحیل شریف ۔ ہمارا خیال تھا کہ ان کی بدولت کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوگا جس سے اس ملک کی جان اس کے جانے پہچانے حکمرانوں او ر ان کے خاندانوں سے چھوٹ جائے گی۔ “ موصوف نے جواب دیا۔ ” لیکن یہ بادل بھی گرجنے والے ہی نکلے برسنے والے نہیں۔“
” امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔“ میں نے کہا۔” میرا ایمان ہے کہ وہ پاکستان ایک روز ضرور قائم ہوگا جس کا خواب 23مارچ1940ءکو دیکھا گیا تھا۔“
” کیا ایک ایسے زلزلے کے بغیر یہ ممکن ہوگا جس میں اِس نظام کے سارے ستون ٹوٹ کر گریں اور مسمار ہوجائیں۔ ؟“ میرے اس قاری نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔
” زلزلہ بتا کر نہیں آیا کرتا۔“ میں نے بے ساختہ جواب دیا۔
” خدا آپ کی زبان مبارک کرے “ میرا یہ قاری بولامیں سوچ رہا ہوں کہ ” اس نظام کو گرانے کے لئے کیا سچ مچ زلزلہ ہی آنا چاہئے۔۔۔۔؟“

Scroll To Top