تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


لوگ جب حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت کے لئے عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ تو مجھ کو خلیفہ انتخاب کرتے ہو لیکن تم لوگوں کے انتخاب کرنے سے کیا ہوتا ہے جب تک کہ اصحاب بدر مجھ کو خلیفہ تسلیم نہ کریں۔ یہ سن کر لوگ اصحاب بدر کی طرف گئے اور جہاں تک ممکن ہوا ن کو جمع کر کے حضرت علیؓ کی خدمت میں لائے۔ سب سے پہلے مالک اشتر نے بعیت کی۔ اس کے بعد اور لوگوں نے ہاتھ بڑھائے۔
حضرت علیؓ نے فرمایا کہ طلحہ اور زبیر ؓ کی نیت بھی معلوم ہونی چاہئے۔
چنانچہ مالک اشتر طلحہؓ کی جانب اور حکیم بن جبلہؓ زبیر ؓ کی جانب روانہ ہوئے اور دونوں حضرات کو زبردستی پکڑ کرحضرت علیؓ کی سامنے لائے۔ حضرت علیؓ نے ان دونوں حضرات سے فرمایا کہ آپ میں سے جو شخص خلافت کا خواہش مند ہو، میں اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ان دونوں نے انکار کیا، پھر ان دونوں سے کہا گیا کہ اگر تم خود خلیفہ بننا نہیں چاہتے ہو تو حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ یہ دونوں کچھ سوچنے لگے تو مالک اشتر نے تلوار کھینچ کر حضرت طلحہؓ سے کہا کہ ابھی آپ کا قصہ پاک کر دیا جائے گا۔ حضرت طلحہؓ نے یہ حالات دیکھ کر حضرت علیؓ سے کہا کہ میں اس شرب پر بیعت کرتا ہوں کہ آپ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کے مطابق حکم دیں اور حدود شرعی جاری کریں یعنی قاتلان عثمان ؓ سے قصاص لیں۔ حضرت علیؓ نے ان باتون کا اقرار کیا۔ حضرت طلحہؓ نے بیعت کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا جو کٹا ہوا تھا۔ (جنگ احد میں ان کا ہاتھ زخموں کی کثرت سے بے کار ہو گیا تھا) بعض لوگوں نے اس مجلس میں سب سے پہلے

Scroll To Top