انتظار قحط کے خاتمے کا اور بات پانچ انگلیوں کے مُکے کی۔۔۔

kuch khbaroo ky bary me

kuch khbaroo ky bary me

آپ کو معلو م ہوگا کہ حضرت یوسف (علیہ اسلام)کے دور میں مصر بہت بڑے قحط کا شکار ہوا تھا اور خلق خدا نے کئی برس تک ابرِ رحمت کی دعائیں مانگی تھیں۔ اسی قدر لمبا انتظار اب پاکستان کے عوام کو پاناماکیس کے فیصلے کا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ قوم مایوس ہونے والی نہیں۔ ورنہ اب تک اسے جس قدر عذاب ناک اخلاقی قحط اور حکومتی بد اعمالیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہ دعائیں مانگنا بھی بھول جاتی۔
آج اے آر وائی کے پروگرام رپورٹرز میںصابرشاکر نے ایک بڑا ہی دلچسپ سوال شیخ رشید کو داغا۔
”آپ کے خیال میں کیا پانچوں انگلیاں برابر ہوں گی؟ اگر نہیں تو پھر کیا ہوگا۔؟“
شیخ رشید بڑے زیرک آدمی ہیں۔ بولے ”مُکا پانچ انگلیوں کا ہی ہوتا ہے۔ اورمیں مُکا ہی دیکھ رہا ہوں۔“
پروگرام کے اختتام پر صابر شاکر نے ایک سوال عوام پر چھوڑ دیا کہ ”مُکا ہوا تو پھر کس کو پڑے گا۔؟“
میرا جواب ہے ۔”اگر یہ مُکا بھی عوام کو ہی پڑا تو بہت سارے لوگوں کا ایمان انصاف پر سے اٹھ جائے گا۔ اس ملک کے عوام نے اس نظام کے خاقانوں سے بڑے مُکے کھائے ہیں۔ ان کا چہرہ لہو لہو ہے۔ اوراس مرتبہ قدرت کا فیصلہ کچھ اور ہوگا۔“

Scroll To Top