کرپشن عروج پر ہے کرپشن کرنے والا کوئی نہیں!

سابق وزیر برائے حج و مذہبی امور حامد سعید کاظمی اپنے دیگر ساتھیوں سمیت بدنام زمانہ حج کرپشن کیس میں باعزت طور پر بری کر دیئے گئے ہیں۔ انہیںسزا بھی ایک عدالت نے ہی دی تھی اور انہیں بری بھی ایک عدالت نے ہی کیا ہے۔ کون سی عدالت کو درست اور کس کو غلط کہا جائے اس کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ پاکستان ایک ایسا انوکھا ملک ہے جس میں کرپشن اس تواتر اور کثرت کے ساتھ ہوتی ہے جس تواتر اور کثرت کے ساتھ ہمالیہ یا کے ٹو کی چوٹیوں پر برف پڑتی ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر کرپشن کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ جو کچھ بھی ہوتا ہے خود بخود ہوتا ہے۔۔ خود بخود پاناما میں کمپنیاں قائم ہو جاتی ہیں۔ خود بخود لندن میں محل نما اپارٹمنٹ یا فلیٹ اپنی ملکیت تبدیل کرلیتے ہیں۔ اور خود بخود سوئٹزرلینڈ کے اکاﺅنٹس میں کروڑ ہا ڈالر جا کر جمع ہو جاتے ہیں اور خود بخود غائب بھی ہو جاتے ہیں۔
پاناما کیس سننے والے بنچ کے سربراہ جسٹس کھوسہ نے ایک مقدمہ میں کہا تھا کہ ججوں کو بھی اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہوتا ہے۔
ہم سب کو پیش ہونا ہوگا۔ کیا ایسے جج اللہ تعالیٰ سے انصاف کی توقع رکھ سکتے ہیں جو اپنے اندر انصاف کرنے کا حوصلہ یا صفت پیدا نہیں کر سکتے۔؟
دوسری خبر محترمہ مریم نواز کی ہے جنہوں نے اپنے تازہ ترین ٹویٹ میں اعلان فرمایا ہے کہ نہایت دیانت دارانہ غور وفکر کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ ابا حضور کی جانشینی کے لئے اُن سے بہتر امیدوار کوئی نہیں۔ وہ ابا حضور کی درازی¿ عمر کی دعا کیوں نہیں مانگتیں۔؟

Scroll To Top