تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


حضرت علیؓ نے فرمایا: سنو! کل آٹھ روٹیاں تھیں اور تم تین آدمی تھے۔ چونکہ یہ مساوی طور پر تقسیم نہیں ہو سکتیں۔ لہٰذا ہر ایک روٹی کے تین ٹکڑے قرار دے کر کل چوبیس ٹکڑے سمجھو۔ یہ تو معلوم نہیں ہو سکتا کہ کس نے کم کھایا اور کس نے زیادہ۔ لہذا یہی فرض کرنا پڑے گا۔ کہ تینوں نے برابر کھانا کھایا اور ہر ایک شخص نے آٹھ آٹھ ٹکڑے کھائے۔ تیری تین روٹیوں کے نوٹکڑوں میں سے ایک تیسرے شخص نے کھایا اور آٹھ تیرے حصے میں آئے اور تیرے ساتھی کی پانچ روٹیوں کے پندہ ٹکڑوں میں سے ساتھ اس تیرے شخص نے کھائے اور آٹھ ساتھی کے حصہ میں آئے۔چونکہ تیرا ایک ٹکڑا اور تیرے ساتھی کے ساتھ ٹکڑے کھا کر اس نے آٹھ درہم دیئے ہیں۔ لہٰذا ایک درہم تیرا ہے اور ساتھ درم تیرے ساتھی کے۔ یہ سن کر اس نے کہا کہ ہاں، اب میں راضی ہوتا ہوں۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ کے یہاں نالش کی کہ فلاں شخص یہ کہتا ہے کہ اس نے خواب میں میری ماں سے جماع کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: اس خواب بیان کرنے والے کو دھوپ میں کھڑا کر کے اس کے سایہ کے کوڑے لگاو¿۔
آپ کے اقوال حکمیہ:آپ نے فرمایا: لوگو! اپنی زبان اور جسم سے خلا ملا اور اپنے اعمال و قلوب سے جدائی پیدا کرو۔قیامت میں آدمی کو اسی کا بدلہ ملے گا جو کچھ کر جائے گا اور ان ہی کے ساتھ اس کا حشر ہوگا جن سے اسے محبت ہوگی۔ قبول عمل میں اہتمام بلیغ کرو کیونکہ کوئی عمل بغیر تقویٰ اور خلوص کے قابل قبول نہیں ہے۔ اے عالم قرآن عامل قرآن بھی بن ۔ عالم وہی ہے جس نے پڑھ کر اس پر عمل کیا اور اپنے علم و عمل میں موافق پیدا کی۔ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ عالموں کے علم و عمل میں سخت اختلاف ہوگا۔ وہ لوگ حلقے باندھ کر بیٹھیں گے اور ایک دوسرے پر فخر و مباہات کریں گے حتیٰ کہ کوئی شخص ان کے پاس آبیٹھے گا تو اس کو الگ بیٹھنے کا حکم دیں گے۔ یاد رکھو کہ اعمال حلقہ و مجلس سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ذات الہٰی سے۔ حسن خلق آدمی کا جوہر، عقل اس کی مددگار اور ادب انسان کی میراث ہے۔ وحشت غرور سے بھی بد تر چیز ہے ۔ ایک شخص نے حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے مسئلہ تقدیر سمجھا دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اندھیرا راستہ ہے نہ پوچھ۔ اس نے پھر وہی عرض کیا۔ آپ نے فرمایا کہ بحر عمیق ہے، اس میں غوطہ مارنے کی کوشش نہ کر، اس نے پھر وہی عرض کیا۔ آپ نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا بھیدے سمجھ سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ کیوں اس کی تفتیش کرتا ہے؟ اس نے پھر اصرار کیا تو آپ نے فرمایا کہ اچھا یہ بتا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو اپنی مرضی کے موافق بنایا یا تیری فرمائش کے موافق؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی کے موافق بنایا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ بس پھر جب وہ چاہے،تجھے استعمال کرے، تجھے اس میں کیا چارہ ہے۔ ہر مصیبت کی ایک انتہا ہوتی ہے اور جب کسی پر مصیبت آتی ہے تو وہ اپنی انتہا تک پہنچ کر رہتی ہے۔ عاقل کو چاہئے کہ مصیبت میں گرفتار ہو تو بھٹکتا نہ پھرے اور اس کے دفع کی تدبیریں نہ کرے کیونکہ اور زحمت ہوتی ہے۔ مانگنے پر کس کو کچھ دینا تو بخشش ہے اور بغیر مانگے دینا سخاوت۔ عبادت میں سستی کا پیدا ہونا، معیشت میں تنگی واقع ہونا، لذتوں میں کمی کا آجانا گناہ کی سزا ہے۔ حضرت حسنؓ کو آپ نے آخری بار نصیحت کی کہ سب سے بڑی تو نگری عقل ہے اور سب سے زیادہ مفلسی حماقت ہے ۔ سخت ترین و حشت غرور ہے اور سب سے بڑا کرم حسن خلق ہے۔ احمق کی صحبت سے پرہیز کرو۔ وہ چاہتا تو ہے کہ تمہیں نفع پہنچائے لیکن نقصان پہنچاتا ہے۔ جھوٹے سے پرہیز کرو کیونکہ وہ قریب ترین کو بعید اور بعید ترین کو قریب کر دیتا ہے۔ بخیل سے بھی پرہیز کرو کیونکہ وہ تم سے وہ چیز چھڑا دے گا جس کی تم کو سخت احتیاط ہے۔ تاجر کے پاس بھی نہ بیٹھو کیونکہ وہ تمہیں کوڑیوں کے بدلے بیچ ڈالے گا۔ پانچ باتیں یاد رکھو! کسی شخس کو سوائے گناہ کے اور کسی چیز سے نہ ڈرنا چاہئے۔ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی آدمی سے امید نہ رکھنی چاہئے۔ جو شخص کوئی چیز نہ جانتا ہو اس کے سیکھنے میں کبھی شرم نہ کرے۔ کسی عالم سے جب کوئی ایسی بات پوچھی جائے جس کو وہ نہ جانتا ہو تو اسے بلا دریغ کہہ دینا چاہئے کہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔ صبر اور ایمان میں وہی نسبت ہے جو سر اور جسم میں۔ جب صبر جاتا رہے تو سمجھو ایمان جاتا رہا۔ جب سر ہی جاتا رہا تو جسم کیسے بچ سکتا ہے۔

Scroll To Top