”جاﺅ اپنے باپ کے قاتلوں سے موتہ کے شہیدوں کا انتقام لو۔۔۔“

میرا ایمان ہے کہ اگر حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول اور محبوب نہ ہوتے تو یہ کائنات ہی وجود میں نہ آتی۔۔۔ اگر آپ ﷺ سپہ سالار نہ ہوتے تو مسلمان ایک عالمگیر قوت نہ بنتے۔۔۔ اور اگر آپ ﷺریاست ساز نہ ہوتے تو اسلام کبھی کا داستانِ پارینہ بن چکا ہوتا۔۔۔

میں اگر آج یہ الفاظ لکھ رہا ہوں اور پاکستان نامی ایک مملکت کا شہری ہوں تو اس وجہ سے ہوں کہ میرا تعلق جس رجلِ عظیم ﷺکی امّت سے ہے وہ رسول ِخدا بن کر دنیا میں آئے ` ایک سپہ سالار بن کر دشمنان اسلام پر غلبہ پایا اور ایک ریاست ساز بن کر اپنی امّت کے لئے مشعل ِراہ بنے۔۔۔ اگر ریاستِ مدینہ نہ بنتی اسلام کا وجود کہاں ہوتا۔۔۔ پاکستان کیوں اور کیسے بنتا۔۔۔ اور حق اور باطل کے درمیان فرق قائم رکھنے والا معرکہ کیسے اتنی صدیوں پر محیط رہتا۔۔۔؟
اسلام ایک مذہب نہیں ہے۔۔۔ اگر اسلام مذہب ہوتا تو ہم کیسے یہ کہتے کہ حضرت آدم ؑ دنیا کے پہلے مسلمان تھے۔۔۔؟ اسلام تو پھر آنحضرت ﷺ کا دین ہوتا۔۔۔اس کا نام محمدنزم یا دینِ محمد ہوتا۔۔۔
اگر ہمارا یہ عقیدہ درست ہے کہ قرآن حکیم لوحِ محفوظ پر ہمیشہ سے محفوظ ہے تو اسلام کو ایک مذہب قرار دینا اور محمد ﷺ کو اس کا بانی سمجھنا کیسے درست ہوسکتا ہے ۔۔۔؟
اسلام وہی دین ہے جس کی خاطر تخلیق ِکائنات ہوئی ` اللہ نے آدم ؑ کو پیدا کیا اور ” آدمیت “ کی معراج رسول اکرم ﷺ کو بنایا۔۔۔
یہ درست ہے کہ انسان سب ہیں مگر انسانِ کا مل وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتا ہے ` اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں پر ایمان لاتا ہے ` تمام فرشتوں اور کتابوں کو مانتا ہے ` آخرت اور یوم حساب کو تسلیم کرتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی اشرف ترین مخلوق تصور کرتا ہے۔۔۔
میں یہ تمام باتیں آ ج اس گمراہ کن ” بیانیہ “ کی وجہ سے لکھ رہا ہوں جس کا آغاز میاں صاحب نے ہولی کے تہوار کے موقع پر کیا اور جسے اب ایک بہت بڑی اور مہنگی اشتہاری مہم کا مرکزی خیال بنا دیا گیا ہے۔۔۔
میں پاکستان کے سیاستدانوں کی کم علمی اور کج فہمی پر اظہار افسوس اور اظہارِ ندامت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔
ہم اپنے انگریز اور امریکی آقاﺅں کی خوشنودی کے لئے تاریخ دوبارہ نہیں لکھ سکتے۔۔۔ قرآن حکیم بھی ازسر نو نہیں لکھا جاسکتا۔۔۔ یہ حقیقت تبدیل نہیں کی جاسکتی کہ معرکہ ءحق و باطل کا آغاز میدانِ بدر سے ہوا تھا۔۔۔ اس کا ایک کلائمیکس فتح ِ مکہ تھا۔۔۔ دوسرا کلائمیکس فتح ِ طائف تھا۔۔۔ اور تیسرا کلائمیکس اُس لشکر کو ترتیب دینا تھا جس کی سالاری آنحضرت ﷺ نے اپنے وصال سے ذرا پہلے حضرت اسامہ بن زید ؓ کو سپرد کی تھی۔۔۔اِس حکم کے ساتھ کہ ” جاﺅ اپنے باپ کے قاتلوں سے موتہ کے شہیدوں کا انتقام لو۔۔۔“
یہ بہت بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ مغرب نے خود ہی دہشت گردی کے عفریت کو جنم دیا ہے اور خود ہی اس کے خلاف ایک عالمگیر جنگ کا آغاز کرکے اسلام کے آفاقی پیغام کو اس کے ساتھ نتھی کردیا ہے۔۔۔
لیکن یہ حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہوگی۔۔۔ دنیائے اسلام میں بیداری کا عمل شروع ہوچکا ہے۔۔۔ اسلام کا نیا بیانیہ مغرب کی رہنمائی میں مغرب زدہ دانشوروں کے ہاتھوں سے نہیں لکھاجائے گا۔۔۔ اسلام کا اصل بیانیہ جو ریاستِ مدینہ کے قیام کے ساتھ لکھا گیا تھا اپنی تمام تر رفعتوں سمیت بحال ہوگا۔۔۔

Scroll To Top