تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


چنانچہ اہل حرمین (مکہ و مدینہ) نے اور کوفہ اور بصرہ کے رہنے والوں نے مجھ سے بعیت کر لی۔ اب اس معاملہ خلافت میں ایک ایسا شخص میر مدمقابل ہے جس کی نہ قرابت میری مانند ہے نہ علم، نہ سبقت اسلام، حالانکہ میں مستحق خلافت ہوں۔
ایک شخص نے حضرت علیؓ سے دریافت کیا کہ آپ نے ایک خطبہ میں کہا تھا کہ الہٰی ہم کو ویسی ہی صلاحیت عطا فرما جیسی تو نے خلفائے راشدین کو فرمائی تھی تو آپ کے نزدیک وہ خلفائے راشدین کون تھے؟ یہ سن کر حضرت علیؓ آنکھوں میں آنسو بھر لائے اور فرمانے لگے: وہ میرے دوست ابو بکر وعمرؓ ہیں۔ دونوں امام الہدیٰ اور شیخ الاسلام تھے۔ قریش نے بعد رسول اللہﷺ کے ان دونوں کی پیروی کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی، انہوں نے نجات پائی اور جو لوگ ان کے راستے پر پڑ گئے وہی اللہ کا گروہ ہیں۔ حضرت علیؓ کو جھوٹ سے سخت نفرت تھی۔ ایک مرتبہ آپ کچھ فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے آپ کو جھٹلایا۔ آپ نے بدوعا کی، وہ ابھی مجلس سے اٹھنے بھی نہ پایا تھا کہ اس کی آنکھیں جاتی رہیں۔
ایک مرتبہ دو آدمی کھانا کھانے بیٹھے۔ ایک کے پاس نچ روٹیاں تھیں اور دوسرے کے پاس تین۔ اتنے میں ایک آدمی اور آگیا۔ ان دونوں نے اسے اپنے ساتھ کھانے پر بٹھا لیا۔جب وہ تیسرا آدمی کھانا کھا کر چلنے لگا تو اس نے آٹھ درہم ان دونوں کو دے کر کہا کہ جو کچھ میں نے کھایا ہے اس کے عوض میں سمجھو۔ اس کے جانے کے بعد ان دونوں میں درہموں کی تقسیم کے متعلق جھگڑا ہوا۔ پانچ روٹیوں والے نے دوسرے سے کہا کہ میں پانچ درہم لوں گا اور تجھ کو تین ملیں گے کیونکہ تیری روٹیاں تین تھیں۔ تین روٹیوں والے نے کہ میں تو نصف سے کم پر ہرگز راضی نہ ہوں گا یعنی چار درہم لے کر چھوڑوں گا۔ اس جھگڑے نے یہاں تک طول کھینچا کہ وہ دونوں حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ان دونوں کا بیان سن کر تین روٹیوں والے سے کہا کہ تیری روٹیاں کم تھیں۔ تین درہم تجھ کو زیادہ مل رہے ہیں بہتر ہے تو رضا مند ہو جا۔ اس نے کہا کہ جب تک میری حق رسی نہ ہوگی، میں کیسے راضی ہو سکتا ہوں۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ پھر تیرے حصہ میں صرف ایک درہم آہے گا اور تیرے ساتھی کے حصے میں سات درہم آئیں گے۔ یہ سن کر اس کو بہت ہی تعجب ہوا۔ اس نے کہا کہ آپ بھی عجیب قسم کا انصاف کر رہے ہیں۔ ذرا مجھ کو سمجھا دیجئے کہ میرے حصہ میں ایک اور اس کے حصہ میں سات کس طرح آتے ہیں؟
(جاری ہے)

Scroll To Top