آئندہ اس سے بھی بڑے پاگل آئیں گے

kuch khbaroo ky bary me

kuch khbaroo ky bary me

اتر دپریش میں بی جے پی کی ناقابل یقین انتخابی کامیابی اور اس کے بعد بھارتی وزیر اعظم مودی کا ایک نیم پاگل جنونی ہندو انتہا پسند کو اترپردیش کا وزیر اعلیٰ نامزد کرنا قدرت کی طرف سے ایک جھنجھوڑ ڈالنے والا پیغام ہے، ان لوگوں یا حلقوں کے لئے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ”امن کی آشا“ کے راستے پر ڈال کر نئی دہلی کے کنٹرول میں دینا چاہتے ہیں۔ اِن لوگوں یا حلقوں میں کچھ عناصر تو ایسے ہیں جو دیانتداری سے اِس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ بھارت کو امن کی اہمیت کا احساس دلایا جا سکتا ہے اور مذاکرات کے ذریعے برصغیر کے لئے ایسے مستقبل کا راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے جس میں دونوں ممالک اپنے زیادہ وسائل ہتھیاروں پر خرچ کرنے کی بجائے عوام کی غربت دور کرنے پر صرف کر سکیں۔ لیکن زیادہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو دانستہ یا نادانستہ طور پر بھارتی لابی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ ہمارے وزیر اعظم کو کس قسم کے لوگوں نے اپنے نرغے میں لے رکھا ہے لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ وہ اپنے اقتدار کی بقاءکیلئے بہت زیادہ انحصار واشنگٹن اورنئی دہلی کی خوشنودی پر کر رہے ہیں۔

اگر بھارت کی تا ریخ کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے ارسطو کی ذہانت درکار نہیں ہو گی کہ 1980ءکی دہائی کے بعد وہاں ”انتہا پسند ہندو توا“ کی سیاست نے بہت بڑی اکثریت کو اپنے شکنجے میں کسنا شروع کر دیا ہے۔ مودی کے بعد مودی سے بھی زیادہ خوفناک ذہن ابھرے گا۔
ہمیں آج سے ہی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن کا مقصد صرف پاکستان کی آزادی کا تحفظ نہیں۔ بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے حقوق کا دفاع بھی ہوگا۔ ایک طاقتور پاکستان طاقت کی زبان بول کر ہی یہ تاریخی فریضہ انجام دے سکتا ہے۔

Scroll To Top