سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کے شہدا ¿ کی پکار ….”کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں “

 

salman-anwerاللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی بنیاد انصاف پر قائم کی اور یہ انصاف ہی اب تک اس کائنات کے وجود کا ثبوت ہے۔ اگر فرشتوں کو یہ حکم دے دیاجائے کہ وہ اپنے اپنے کاموں میں کمی بیشی کرلیں تو اس کائنات اور اس میں رہنے والی ہر چیز اپنے مرکز سے ہٹ جائے اور پھر وہ عمل وقوع پذیر ہوجائے جسے ہم قیامت کہتے ہیں۔اللہ کے آخری رسولﷺنے ارشاد کیا تھا:” وہ قومیں برباد ہوئیں جو اپنے کمزوروں کو سزا دیتیں اور طاقتوروں کو معاف کر دیا کرتی تھیں۔ملک اور معاشرے انصاف کے بول بالا سے اپنا وجود قائم رکھتے ہیں۔انصاف کے بغیر امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ کوئی معاشرہ ترقی کرسکتا ہے“۔
پچھلے دنوں لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کے اہم کردار گلو بٹ کو رہا کردیا گیا جس سے ماڈل ٹاﺅن کے شہدا ¿ کے ورثا کے زخموں سے ایک نئی ”ٹیس “ اُٹھی ہو گی۔ 17 جون 2014ءکو حکومت کی سرپرستی میں عوامی تحریک کے نہتے کارکنوں پر دن دیہاڑے گولیاں برسائی گئیں اور 14 افراد کو ہلاک اور 100 سے زائد کو زخمی کیا گیا، جبکہ اس ریاستی دہشت گردی میں پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت دونوں ملوث تھیں۔یہ واقعہ ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال تھی۔
کیمرے کی آنکھ نے دل دہلا دینے والے مناظر عکس بندکیے تھے۔ پنجاب پولیس نے ماڈل ٹاو¿ن میں جو ہتھے چڑھا اس پر لاٹھیاں برسادیں ، مرد و زن ، عمر ، بزرگی اور انسانیت کی تمیز شائد اس دن صفحہ ہستی سے مٹ گئی تھی۔ جب حالات مزید خراب ہوتے ہوئے دیکھائی دیے تو پھرقانون نافذ کرنے والو ں نے جلاد کا روپ دھاڑ لیا سیدھی فائرنگ شروع کر دی جسکے نتیجے میں منہاج القرآن کے 14کارکن شہید ہوگئے جن میں 2خواتین تنزیلہ اور شازیہ بھی شہید ہوئی۔
تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں کو 17 جون 2014 کے دن جس بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا وہ پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین واقعات ہیں۔
رات ڈیڑھ بجے کے قریب شروع ہونے والے پولیس آپریشن کو بعض چینل رات سے ہی دکھانا شروع کر چکے تھے، تاہم صبح پانچ بجے تک تمام ٹی وی چینلوں نے پولیس کی کارروائی کو براہ راست دکھانا شروع کر دیا۔ گھروں میں بیٹھے کروڑوں عوام پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پر لاٹھی چارج ،آنسو گیس اور سیدھی گولیوں کا بےدریغ استعمال ہوتا دیکھ رہے تھے۔ پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز کی براہ راست کوریج کے باوجود دوپہر اڑھائی بجے تک جاری رہنے والے اس آپریشن کو روکنے کے لئے حکومتی نمائندہ حرکت میں نہ آیا۔ کسی وزیر، کسی مشیر، کسی رکن اسمبلی کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وزیر داخلہ، وزیر قانون یا وزیراعلی پنجاب کو فون کرکے اس قتل عام کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرتا۔یہ لوگ اتنے بے حس ہوچکے تھے کہ واقعہ رونما ہونے کے بعد بھی کوئی حکومتی کارندہ عوام الناس کی دادرسی کے لے نہیں آیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب جو اپنے آپ کو خادم اعلیٰ پنجاب کے نام سے منسوب کرتے ہیں ،نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس واقعہ کی کوئی خبر نہیں ہے ۔حالانکہ وہ اپنے آپ کو انصاف کا سب سے بڑا داعی سمجھتے ہےں۔شائدوہ شب و روز کی”خدمت گری¿“ سے تھک ہار کر اس دن وہ میڈیا کے دور سے نکل زمانہ قدیم کے کسی گوشہ¿ تنہائی میں جاسوئے تھے۔ اسلئے انہیں اپنی ناک کے نیچے ہونے والے اس ظلم عظیم کی خبر تک نہ ہو سکی۔
سانحہ ماڈل ٹاون کے ردعمل میں کم و بیش پاکستان کی تمام جماعتوں نے نہ صرف بھرپور مذمت کی بلکہ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ بھی کیا۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے سانحہ¿ ماڈل ٹاو¿ن کی مذمت کے لئے اپنے ملکوں میں واقع پاکستانی سفارت خانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے اور سفیروں کو مذمتی قراردادیں پیش کیں، جن میں سپین ، فرانس ،فرینکفرٹ جرمنی ، برلن جرمنی ، ڈنمارک ، آسٹریا اور یونان شامل ہیں۔
اس واقع پرانکوائری انہوں نے اگلے دن ایک خود سے یک طرفہ پریس کانفرس کرتے ہوئے ایک جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا اور یہ تک دعویٰ کر ڈالا کہ اگر میری طرف انگلی اُٹھی تو میں استعفیٰ دے کر گھر چلا جاﺅں گا۔ اس کمیشن کو ”باقر نجفی کمیشن“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس نے وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی حکومت کو مکمل ذمہ دار قرار دیا اس واقع کیا ۔ یہ شاید یہ دعویٰ بھی بجلی اور دیگر موضوعات کی گئی جناب موصوف کے دعوو¿ں کی طرف محض سیاسی تقریر تھی۔ آج تک اس کمیشن کی رپورٹ کو بھی جاری نہیں ہونے دیا گیا ہے۔
!جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو منظر عام پر نہ لایا گیا آخر کیوں ؟ یہ کمیشن تو آپ نے ہی تشکیل دیا تھا وزیر اعلی صاحب؟؟؟ اس کمیشن نے پنجاب حکومت کو سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے 14 افراد کے قتل کا انصاف نہ ملنے پراب تک کئی بار احتجاج کیا ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے انصاف کی اپیل کی ، کیونکہ اس قتل عام کے واقعہ کے خلاف اسلام آباد میں دھرنے کے دروران پاک فوج کے سپہ سالار کی مداخلت پر معاملے کی ایف آئی آر درج کی گئی۔
سماجی انصاف کی عدم فراہمی نے پاکستان کے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔کرپشن ،موت کا خوف ،رشتہ داریاں ،سفارش ،رشوت ،میرٹ اور سب سے بڑھ کر آخرت کا خوف نہ ہونا یعنی دین اسلام سے دوری انصاف کی راہ میں رکاوٹیں ہیں۔ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں غربا ءکو انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ،اور برسوں چکر لگانے کے بعد بھی ان کو انصاف نہیں ملتا ،کیونکہ وہ انصاف کو خریدنے کے لیے زر نہیں رکھتے۔ لیکن جب اس فلسفہ انصاف‘ عدل اور احتساب میں بگاڑ آیا تو انسانی معاشرے پھر سے حیوانی دور کی طرف لوٹ آئے۔ جہاںصرف اور صرف طاقت کا سکہ چلتا ہے طاقت ہی خدا کا روپ دھار لیتی ہے۔ بقول شاعر:
تم سے پہلے بھی جو اک شخص یہاں تخت نشین تھا
اس کو بھی خدا ہونے کا اتنا ہی یقین تھا

Scroll To Top