بھونچال آئے گا یا سناٹا طاری ہوگا؟

اب کاو¿نٹ ڈاو¿ن واقعی شروع ہو چکا ہے۔ اس ہفتے یعنی25مارچ تک فیصلہ آجائے گا۔ جب فیصلے کی بات ہوتی ہے تو فوراً ذہن پاناما کیس کی طرف جاتا ہے اور خیال آتا ہے کہ شریف خاندان نے آخر ایسا کیا کمال دکھایا ہوگا کہ وہ پراسرار انداز میں لندن کے امیر تین خاندانوں میں شامل ہوگیا۔ لندن کے جس علاقے میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی اولادکے فلیٹ ہیں وہ غیر معمولی امارت کا پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔ میں اگر وزیر اعظم ہوتا اور مجھ پر دولت کی بارش ہو رہی ہوتی تو میں وہ فلیٹ خرید کر دنیا کی نظروں میں آنے کی حماقت نہ کرتا۔ دنیا بہرحال بڑی حاسد ہے۔ میرے اندر غریبوں کے لئے خواہ محبت کے سمندر بہہ رہے ہوتے، میرے مخالفوں کی حاسدانہ نظریں میری منہ بولتی امارت کو دیکھ کر میری وزارت عظمیٰ کو خطرے میں ڈال دیتیں۔ میں اپنے بیٹوں سے کہتا۔”لندن میں اور بھی اچھے اچھے گھر ہیں۔ ضروری نہیں کہ دنیا پر اپنی امارت کا سکہ جماو¿۔“

بہر حال میاں نواز شریف اور ان کے ”جان نثار نقارچی“ سمجھتے ہیں کہ ان کی وزارت عظمیٰ کو کوئی خطرہ نہیں اور جب عدالت کا فیصلہ آئے گا تو دشمنوں کی امیدوں پر پانی پھر جائے گا۔
دیکھنا یہ ہے کہ عدلیہ حکمران خاندان کی امیدوں پر پانی پھیرتی ہے یا قوم کی توقعات پر۔ لیکن جس خمیر سے یہ عدلیہ اٹھی ہے وہ قوم کو ایک نئے مستقبل کی نوید سناتا دکھائی دے رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں جو کچھ بھی ہوگا بہر حال ایک سیاسی بھونچال کا باعث بنے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایکدم سناٹا طاری ہو جائے۔ ایک بات یاد رکھی جانے والی ہے اور وہ یہ کہ ”حکمران طبقہ“ اپنی بقا کے لئے کوئی نہ کوئی مشترک منصوبہ ضرور تیار کر رہا ہے۔ اس طبقے کی دو بڑی علامتوں کے نام نواز شریف اور آصف زرداری ہیں۔
اس ضمن میں مولانافضل الرحمان اور اسفندیار ولی خان ثانوی کردار ہیں۔ ان سب نے خفیہ طور پر آپس میں کیا سمجھوتہ کر رکھا ہے کوئی نہیں جانتا لیکن اس بات کا احساس سب کو ہے کہ ایک دیوار گری تو سارا نظام گر پڑے گا۔
یہ جو چھوٹی چھوٹی خبریں آرہی ہیں چھوٹی چھوٹی نہیں۔ اس موقع پر فاروق ستار کی گرفتاری اور رہائی کا ڈرامہ۔۔ اور پھر شرجیل میمن کی اچانک واپسی۔۔ یہ خبریں اپنے پیچھے مقصد ضرور رکھتی ہوں گی۔ شرجیل میمن کو زرداری صاحب نے کوئی نہ کوئی ضمانت ضرور دلوائی ہوگی۔
اسی لئے وہ سیدھے اسلام آباد پہنچے جو میاں صاحب کا علاقہ ہے ۔ یہاں عدالت میں پیش ہو کر وہ کراچی جائیں گے جو زرداری صاحب کا علاقہ ہے۔
اس علاقائی تقسیم میں پاکستان کہاں کھڑا ہے اس کا فیصلہ ہماری عدلیہ اس ہفتے کرے گی۔
یہاں فوج کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے عوام”عدم تحفظ“ کے موجودہ ماحول میں اپنی فوج کو ہی اپنے ملک کی آزادی اور بقا کی ضمانت سمجھتے ہیں۔
یہاںاس خبر کا ذکر بھی ہو جائے کہ زرداری صاحب کا ایک مضمون کسی غیر ملکی جریدے میں شائع ہوا ہے جس میں امریکہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ”پاکستان کے ساتھ ذرا شفقت کا برتاو¿ کرے۔ یہاں اس کے اپنے ہی لوگ بیٹھے ہیں۔ “
ایک بات طے شدہ ہے کہ یہ مضمون حسین حقانی نے نہیں لکھا۔ زرداری صاحب کو فرحت للہ بابر صاحب کی خدمات بھی تو حاصل ہیں!
کہیں آپ یہ تو نہیں سوچ رہے کہ زرداری صاحب لاہور کیوں آئے ہیں؟

Scroll To Top