یہ زندگی تو ایک خواب ہے جو بالآخر ٹوٹ جاتا ہے

یہ بھی سچ ہے کہ انسان اکثر زندگی سے روٹھا رہتا ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ ایک دن زندگی انسان سے روٹھ جاتی ہے۔ جب میں زندگی کی بات کرتا ہوں تو میرا مطلب ا±س زندگی سے ہے جسے ہم زندگی سمجھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ جو زندگی درحقیقت زندگی ہوتی ہے وہ دوبارہ جی اٹھنے کے بعد شروع ہوتی ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتی۔ دوبارہ جی اٹھنے پرایمان رکھے بغیر کوئی شخص خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ عام مفہوم میں اسے آخرت کہتے ہیں۔ اور جنت اور جہنم کا تعلق آخرت سے ہی ہے۔ہماری سب سے عاجزانہ دعا بھی اللہ تعالیٰ سے یہی ہوتی ہے کہ ” ہمیں آگ کے عذاب سے بچا مولا۔۔۔“
آج میرے قلم نے اس موضوع کا انتخاب اس لئے کیا ہے کہ ابھی ابھی مجھے اطلاع ملی ہے کہ میرے ایک بہت پرانے دوست اور روزنامہ الاخبار کے بانی زاہد ملک اس زندگی سے روٹھ گئے ہیں۔ میں یہاں اپنے رنج و غم کے اظہار کے ساتھ یہ د±عا بھی شامل کرنا چاہوں گا کہ ” یا رب میرے دوست نے اِس زندگی سے جس زندگی کی طرف سفر اختیار کیا ہے ا±س زندگی میں اسے اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھنا۔ وہ ایک انسان تھا۔ تمام انسانی کمزوریوں کے ساتھ۔۔۔ مگر وہ ایک اچھا انسان تھا۔ جس نے کسی کا بھی بر±ا نہیں چاہا۔۔۔ جو تمام زندگی اپنے انداز میں ایک ایسی جدوجہد میں مصروف رہا جس کا مقصد وطنِ عزیز کے پرچم کو سربلند دیکھنا اور اس پرچم کی تضحیک کرنے والوں کو سرنگوں دیکھنا تھا۔۔۔“
زاہد ملک مرحوم نے روزنامہ الاخبار کا اجرائ اگست 1994ئ میں کیا تھا۔ اس روزنامہ کا آئیڈیا میرے ذہن میں 1992ئ میں آیا تھاجب محترمہ بے نظیر بھٹو نے پریس کے رویے سے نالاں ہو کر مجھ سے کہا تھا۔ ” ہمیں ایک اخبار نکالنا چاہئے۔۔۔“
” اخبار تو آپ کے پاس ہے۔ روزنامہ مساوات “ میں نے جواب دیا تھا۔
” میں سمجھتی ہوں کہ اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔ آپ منصوبہ بنائیں۔ ہم مل کر اخبار نکالیں گے۔۔۔“ انہوں نے کہا تھا۔
” منصوبہ تو میرے پاس موجود ہے۔ “ میں نے جواب دیا تھا۔ ” ایک کم قیمت اخبار جو عوام کی جیب پر بوجھ نہ ہو اور جو عوامی خواہشات کا ترجمان بھی ہو۔۔۔“
محترمہ اس کے بعد ” لانگ مارچ “ میں مصروف ہوگئیں اور میں اپنی بقائ کی جدوجہد میں۔ اِن ہی دنوں ایک ملاقات میں میرے اور مرحوم زاہد ملک کے درمیان اس موضوع پر بات ہوئی۔ ا±ن کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
” زبردست آئیڈیا ہے۔۔۔ انہوں نے کہا۔ اور اگست1994ئ کے پہلے ہفتے میں یہ آئیڈیا ” الاخبار “ کی صورت میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔۔۔
الاخبار کی ابتدائی کامیابی حیرت انگیز تھی۔ لیکن مرحوم زاہد ملک کے وسائل اس بات کی اجازت نہ دے سکے کہ وہ بیک وقت آبزرور اور الاخبار دونوں کو زندہ رکھ سکتے۔
چنانچہ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔۔۔
تب میرا ارادہ کچھ اور تھا۔۔۔ میں ایک انگریزی روزنامہ جاری کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
لیکن جیسے ہی زاہد ملک مرحوم نے روزنامہ الاخبار کو زندہ رکھنے کی خواہش میرے سامنے رکھی میں نے بغیر زیادہ سوچے فیصلہ کرلیا۔ تمام معاملات اسی ایک نشست میں طے پاگئے۔
اتفاق سے آج کا ہی دن تھا۔۔۔ پورے بیس برس قبل جب میرے دوست زاہد ملک نے روزنامہ الاخبار کی ملکیت مجھے منتقل کی تھی۔ میرے یہ بیس برس روزنامہ الاخبار کو زندہ رکھنے میں گزرے ہیں۔ مگروہ شخص جس نے یہ پودہ لگایا تھااب اِس دنیا میں نہیں۔۔۔ خدا انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور ا±ن کے لواحقین کو صبر و جمیل عطا فرمائے۔
دوام ا±سی زندگی کوہے جس زندگی کی طرف وہ جاچکے ہیں۔۔۔
یہ زندگی تو ایک خواب ہے۔۔۔ جو بالآخر ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔

Scroll To Top