حسین حقانی اور ٹرائے کاگھوڑا

aj-ki-baat-new

  • ” ایک بار پھر حسین حقانی نے خبروں کا موضوع بننے کے لئے بڑے ہی دلچسپ موقع اور حالات کا انتخاب کیا ہے۔ جب پاناما کیس کا فیصلہ آنے والا ہے ۔
  • گزشتہ کچھ دنوں سے حکومت نے ”توجہ ہٹاﺅ مہم “شروع کررکھی ہے جس کا تازہ ترین نمونہ حسین حقانی کا واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والا مضمون ہے اِس مضمون میں پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کی وفاداریاں مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ عام خیال یہ ہے کہ یہ مضمون حسین حقانی نے اپنے بہترین دوست نجم سیٹھی کی فرمائش پر لکھا ہے
  • جو آج کل وزیراعظم میاں نوازشریف کے نظریاتی و سیاسی مشیر بنے ہوئے ہیں۔میرایہ کالم26نومبر2011ءکو شائع ہوا تھا جب ”میموگیٹ“کی وجہ سے حسین حقانی پہلی بار خبروں کا موضوع بنے تھے۔۔۔ آپ کی دلچسپی کے لئے یہ کالم دوبارہ پیش کیا جارہا ہے۔۔۔“

جو لوگ تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا کرتے وہ تاریخ کا حصہ بن جایا کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہاں یہ ہے کہ اس تاریخی سچ پر زور کسی اور شخص نے نہیں ¾ اُس شخص نے دیا تھا جسے ہم تاریخ کا باپ قرار دیتے ہیں۔ میری مراد ہے ہیروڈوٹس۔
یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب اسلام کا ظہور ہوا اور ساتویں اور آٹھویں صدیوں میں مسلمانوں کو کرہ ءارض پر ویسا ہی غلبہ حاصل ہو گیا جیسا انیسویں صدی میں برطانیہ کو اور بیسویں صدی میںامریکہ کو نصیب ہوا تو ہیروڈوٹس نام کے کسی شخص کو دنیا نہیں جانتی تھی۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ قبل از اسلام کی دنیا میں اگرچہ قیصر و کسریٰ کا ڈنکا بجا کرتا تھا مگر فلسفہ ¾سائنس اور دوسرے علوم انسانی زندگی سے خارج ہوچکے تھے۔ یہ امتیاز اور فخر مسلمانوں کے حصے میں جاتا ہے کہ انہوں نے تمام علوم کو نہ صرف یہ کہ دریافت کیا بلکہ انہیں عربی زبان میں منتقل کرکے ہسپانیہ کے راستے یورپ کو ان سے روشناس کرایا۔ ہیروڈوٹس کو بھی اسی زمانے میں دریافت کیا گیا۔ البیرونی اور اس کے بعد ابن خلدون نے ہیروڈوٹس کا ذکر بڑے احترام سے کیا ہے۔ ہیروڈوٹس کے علاوہ ہمیں زمانہءقدیم کی تاریخ کا علم اگر ہوتا ہے تو ہومر کی تصانیف سے ہوتا ہے جو بنیادی طور پر ایک شاعر تھا۔ ایک ایسا شاعر جس نے قدیم یونان کے افسانوی اور دیو مالائی کرداروں کو دو منظوم داستانوں کے ذریعے غیر فانی بنا دیا۔ پہلی داستان الیڈ (Iliud)تھی اور دوسری اڈویسی (Odyssey)۔ا ن داستانوں کے چند کردار صدیوں کے بعد بھی زندہ ہیں اور تاریخی صداقتوں کا درجہ رکھتے ہیں۔میں یہاں چند کردار وں کی مثال دوں گا۔ایک تو ایکلیز جو یونانی روایات میں جرا¿ت و شجاعت کی علامت کا درجہ رکھتا ہے۔ دوسرا ہیکٹر جو ٹرائے کا وہ عظیم سورما تھا جسے ایکلیز سے پہلے کسی نے شکست نہیں دی تھی۔ اور اس کے علاوہ یولیسس یا اوڈیسس (Odyssess)جس کی چالاکی اور عیاری نے ٹرائے کی ہاری ہوئی جنگ کا پانسہ یونان کے حق میں پلٹ دیا۔ یونان کا یہی وہ افسانوی کردار ہے جس کے ذہن میں لکڑی کا وہ دیوقامت گھوڑا بنانے کا خیال آیا جو ٹرائے کی تباہی کا باعث بنا اور جس کے وجود میںآنے سے پہلے یونان کی افواج دس برس تک جاری رہنے والی ” جنگِ ٹرائے “ عملی طور پر ہار چکی تھیں۔
اس گھوڑے کا ذکر ہیروڈوٹس نے بھی کیا ہے۔ اور اس کا ذکر کرتے وقت ہی اس نے یہ بات لکھی تھی کہ جو لوگ تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا کرتے وہ تاریخ کا حصہ بن جایا کرتے ہیں۔ یعنی تاریخ کے کباڑخانے میں پھینک دیئے جایا کرتے ہیں۔
آپ یقینا یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آج کے حالات میں مجھے ہیروڈوٹس ہومر یولیسس اور ٹرائے کے ” فریبی“ گھوڑے کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے۔ تو میں وضاحت کئے دیتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کیوں ” منصور اعجاز اور حسین حقانی “ والے اس قصے کے   ” اسرار و رموز “ نے میرا ذہن ٹرائے کے اس گھوڑے کی طرف دوڑایا ہے جو جب تک ٹرائے )قدیم ترکی (کے دارالحکومت ” اِلیم“ کی فصیلوں سے دور کھڑا نظر آتا رہا ¾ ایک بے جان اور بے ضرر کھلونا دکھائی دیتا تھا جو شاید یونانیوں نے اپنی شکست کا غم غلط کرنے کے لئے تفریح کی خاطر بنایا تھا۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ مجھے اس سارے ڈرامے کے پس منظر میں کسی نہ کسی ” یولیسس“ کا دماغ ضرور نظر آرہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ” یولیسس “ منصور اعجاز یا حقانی نہ ہو۔ ہوسکتا ہے کہ اس یولیسس کی چمڑی کا رنگ وہ نہ ہو جو منصور اعجاز اور حقانی کی چمڑی کا رنگ ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ٹرائے کا گھوڑا “ اسی نے تیار کیا ہو جس کے بارے میں عام طور پر خیال کیا جارہا ہے کہ وہ اس کا خالق ہے لیکن ٹرائے کا گھوڑا خود بخود تیار نہیں ہواتھا۔ وہ میمو خود بخود تیاری کے مراحل طے کرکے منصوراعجاز کے ہاتھوں جنرل جیمز جونس تک ¾ جنرل جیمز جونس کے ہاتھوں ایڈمرل مولن تک ¾ اور ایڈمرل مولن کے ہاتھوں امریکہ کے موجودہ وزیر دفاع پنیٹا کے پاس نہیں پہنچا۔ کیا کوئی شخص یہ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا معاملہ مختلف مراحل طے کرنے کے بعد صدر اوباماکے پاس نہیں پہنچا تھا ¾ جنہوں نے کافی غور و فکر کے بعد اپنے مشیروں اور وزیرو ں سے یہ کہہ دیا ہو کہ اس قسم کا ایڈونچر کرنا ایسے خطرات سے خالی نہیں ہوگا جن کا متحمل امریکہ موجودہ حالات میں نہیں ہوسکتا؟
میں نہیں جانتا کہ جناب نجم سیٹھی کی ہمدردیاں ٹرائے والوں کے ساتھ ہیں یا یونانیوں کے ساتھ مگر جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر حسین حقانی نے یہ سب کچھ کرنا ہوتا تو وہ مولن سے براہ راست بات بھی کرسکتے تھے ¾ انہیں کیا ضرورت پڑی تھی کہ منصور اعجاز جیسے ” بدنامِ زمانہ “ شخص کی خدمات حاصل کرتے ¾ تب وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اگر اس قسم کا اقدام حسین حقانی نے خود کیا ہوتا اور کسی نہ کسی مرحلے پر اور کسی نہ کسی وجہ سے یہ ” راز“ کسی کے سینے سے باہر آجاتا تو کیا وہ اس قدر دلیری کے ساتھ یہ کہہ سکتے کہ ” میں ہر قسم کی انکوائری کا سامنا کروں گا؟“
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس ڈرامے کے مرکزی کردار حسین حقانی ہی ہیں۔ مگر یہ امر طے شدہ ہے کہ اس سارے ڈرامے میں کہیں نہ کہیں یولیسس جیساکوئی نہ کوئی دماغ ضرور موجود ہے جس نے ” ٹرائے کا گھوڑا “بنانے کے بارے میں سوچا تھا۔
بات آگے بڑھانے سے پہلے میں یہاں ” ٹرائے کے گھوڑے“ پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جب یونان کا ” مردِ شجاع “ ایکلیز ٹھیک نشانے پر تیر کھا کر مر گیا اور یونانیوں کے حوصلے پست ہوگئے تو یولیسس نے لکڑی کا ایک ایسا گھوڑا بنانے کے بارے میں سوچا جس کے پیٹ میں چالیس پچاس سپاہی چھپ سکیں۔ اِلیم سے چند میل دور جنگلوں میں یونانی کئی ماہ تک یہ گھوڑا بناتے رہے۔ پھر وہ دن آیا جب اِلیم کے لوگ سو کر اٹھے اور انہوں نے اپنے قلعے کی فصیلوں سے باہر دیکھا تو یونانی افواج کا دو ر دور تک کوئی نشان نہ تھا۔کھلے میدان میں صرف ایک بہت قدآور گھوڑا کھڑا تھا جو لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ پورا اِلیم فتح و کامرانی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ سپاہی قلعہ کا دروازہ کھول کر گھوڑے کو گھسیٹ کر اندر شہر میں لے آئے۔ ان کا خیال تھا کہ دیوتاﺅں نے انہیں ” فتح کی ٹرافی “ عطا کی ہے۔ رات کو جب جشن ِفتح منایا جارہا تھاجو گھوڑے کا پیٹ کھلا ۔اس میں سے یونانی سپاہی رسیوں سے لٹک کر باہر نکلے اور انہوں نے جاکر قلعہ کا دروازہ کھول دیا۔ وہ لڑائی جو دس برس کی خونریزی کے باوجود یونانی نہیں جیت سکے تھے ¾ ایک ہی رات میں اِلیم کی مکمل تباہی کے ساتھ انجام کو پہنچ گئی۔
ٹرائے کے گھوڑے اور یولیسس کے دماغ نے وہ کام کر دکھایا تھا جو دیو مالائی شہرت رکھنے والے یونانی سورما نہیں کرسکے تھے۔یہی تاریخ کا سبق ہے کہ جنگیں صرف میدانوں میں تلواروں اور گولہ بارود کے ذریعے نہیں لڑی جاتیں ¾ دماغوں ¾ منصوبوں اور سازشوں کے ذریعے بھی لڑی اور جیتی یا ہاری جاتی ہیں۔
اگر پلاسی کی جنگ میں میر جعفر وہ کردار ادا نہ کرتے جو اس نے کیا ¾ یا سرنگا پٹم کے میر صادق نے اپناضمیر اس طرح نہ بیچا ہوتا جس طرح اس نے بیچا ¾ تو برصغیر کی تاریخ شاید اتنی تیزی کے ساتھ ہماری غلامی کی تاریخ نہ بنتی جتنی تیزی کے ساتھ وہ بنی۔
اگر غرناطہ کے ابو عبداللہ نے اپنے باپ ابو الحسن کے خلاف قسطلہ کے حاکم فرڈی نینڈ کے ساتھ مل کروہ سازش تیار نہ کی ہوتی جو اس نے کی ¾ تو شاید ہسپانیہ کی سرزمین پر مسلمانوں کا عرصہ ءحیات اتنی تیزی کے ساتھ تنگ نہ ہوتا جتنی تیزی کے ساتھ ہوا۔
اگر چنگیز خان کے عہد کاعباسی خلیفہ منگول فاتح کے ساتھ وہ خفیہ معاہدہ نہ کرتا جو اس نے کیا ¾ اور جس کی رو سے اس نے چنگیز خان کو یہ یقین دلایا کہ خوارزم پر منگول حملے کی صورت میں خلافتِ بغداد غیر جانبدار رہے گی تو شاید بلخ و بخارا ¾ سمر قند و تاشقند اور کاشغر و بغداد کو اس خوفناک تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو ان کا مقدر بن گئی۔
تیرہویں صدی کے اوائل میں بغداد سے ایک وفد چنگیز خان کے دربا ر میں یہ پیغام لے کر گیا تھا کہ وہ خوارزم شاہ کے خلاف طاقت کے استعمال سے باز رہے ورنہ اسے عالمِ اسلام کی مشترکہ فوج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ مگر جو سفیر بغداد سے یہ پیغام لے کر گئے تھے ان کے سروں پر بالکل ہی مختلف پیغام کندہ تھا ۔ منگولوں نے ان کے سر منڈ وا کر وہ پیغام پڑھا جس میں خلیفہءبغداد کی طرف سے خاقان اعظم چنگیز خان کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ ” ہماری نیک تمنائیں آ پ کے ساتھ ہیں ۔“
اگر چنگیز خان کو یہ خفیہ پیغام ایسے سازشی طریقہ کار کے ذریعے نہ ملا ہوتا تو وہ پوری قوت کے ساتھ سلطنتِ خوارزم پر ٹوٹ نہ پڑتا ¾ اور 1258 میں دریائے دجلہ ¾ اہلِ بغداد کے خون سے نہ بھرجاتا۔
اپنی تاریخ میں ہم نے خود اپنے ہی خلاف جتنی بھی خوفناک سازشیں کی ہیں ان کے پیچھے ہمیشہ اقتدار کی بھوک اور اس بھوک کی کوکھ سے جنم لینے والا اندھا پن کا رفرما رہا ہے۔
ٹرائے کا وہ گھوڑا جو ٹرائے کی تباہی کا باعث بنا تاریخ کی شاہراہ پر ہمیشہ ہمارے مقدر کے تعاقب میں رہا ہے۔
بات صر ف ایک میمو کی نہیں ۔ اس سوچ کی ہے جو ایسے ڈراموں کو تخلیق کیا کرتی ہے اور جس کے نتیجے میں نظر آنے والے اور نظر نہ آنے والے ٹرائے کے گھوڑے قوموں کی تقدیر سے کھیلنے کے لئے وجود میں آیا کرتے ہیں۔
صدیوں کے فاصلے سے ہیروڈوٹس پکار پکار کر ہم سے کہہ رہا ہے کہ اس تاریخ سے سبق حاصل کرو جس میں فاتحین اور مفتوحین کے درمیان فرق صرف ایک گھوڑے نے پیدا کیا۔
اور پکار تو ہمیں اپنے ابن خلدون کی بھی سننی چاہئے جس نے اپنے مقدمہ میں لکھا تھا کہ ” جنگ منگولوں نے نہیں جیتی تھی ¾ عباسیوں نے ہاری تھی۔“
ہمیں آج دو جنگوں کا سامنا ہے۔ ایک وہ جو ہمارے دشمنوں نے ہم پر مسلط کر رکھی ہے ۔ اور ایک وہ جس میں ہم پر وار ہمارے اپنے کررہے ہیں۔

Scroll To Top