تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


آپ کے فضائل:حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر جب آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ میں رہنے کا حکم دیا تو حضرت علیؓ نے کہا کہ آپ مجھ کو عورتوں اور بچوں پر خلیفہ بنا کر چھوڑ جاتے ہیں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہوتے کہ میں تم کو اسی طرح چھوڑ جاتا ہوں جس طرح حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت ہارون ؑ کو چھوڑا تھا۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ جنگ خیبر میں آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ کل میں ایسے شخص کو علم دوں گا جس کے ہاتھ پر قلعہ فتح ہوگا۔ اور جس نے اللہ اور رسولﷺ کو خوش کر لیا ہے ۔ اگلے روز صبح کو تمام صحابہؓ منتظر تھے کہ دیکھیں وہ کون سا خوش قسمت شخص ہے ۔ آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کو بلوایا اور جھنڈا سپرد کیا اور قلعہ فتح ہوا۔ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ فاطمہ، حسن اور حسینؓ کو طلب فرمایا اور کہا کہ الہٰی یہ میرے کنبہ کے لوگ ہیں۔ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جس کا میں دوست ہوں، اس کے علیؓ بھی دوست ہیں، پھر فرمایا کہ الہٰی جو شخص علیؓ سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو علیؓ سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے شمنی رکھ۔ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ چار آدمی ایسے ہیں جن سے محبت رکھنے کا مجھ کو حکم دیا گیا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ ان کا نام بتا دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: علی، ابوذر، مقداد اور سلمان فارسیؓ۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرتﷺ نے صحابیوں میں بھائی چارہ کرایا تو حضرت علیؓ روتے ہوئے آنحضرتﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ نے ہر ایک میں مواخاة قائم کر ادی لیکن میں رہ گیا۔ آپ نے فرمای کہ تم دنیا وآخرت میں میرے بھائی ہو۔ آنحضرتﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں تو علیؓ اس کا دروازہ ہیں۔ حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ ہم سب میں حضرت علیؓ سے زیادہ سنت کا اب کوئی واقف نہیں رہا۔ حضرت عمار بن یاسرؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ دو شخص شقی ترین ہیں۔ ایک احمر جس نے حضرت صالح کی اونٹنی کی کونچیں کاٹیں اور دوسرا وہ شخص جو تیرے سر پر تلوار مار کر تیری داڑھی کو جسم سے جدا کرے گا۔
آپ کے قضایا وکلمات: حضرت علیؓ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے، دین کے معاملہ میں میرا دشمن بھی مجھ سے استفتاءکرتا ہے۔ معاویہؓ نے مجھ سے پوچھ بھیجا ہے کہ خنشی مشکل کی میراث میں کیا کیاجائے۔ میں نے اسے لکھ بھیجا ہے کہ اس کی پیشاب گاہ کی صورت سے میراث کا حکم جاری ہونا چاہئے یعنی اگر پیشاب گاہ مردوں کی مانند ہو تو اس کا حکم مرد کا ہوگا اور اگر عورت کی طرف ہو تو عورت کا۔ حضرت علیؓ جب بصرے میں تشریف لے گئے تو ابن کوا اور قیس بن عبادہ نے آپ کی خدمت میں عرض کیاکہ بعض لوگوں کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے آپ سے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے بعد تم خلیفہ بنائے جاو¿ گے۔ اس معاملہ میں آپ سے بڑھ کر اور کون ثقہ ہو سکتا ہے۔ ہم آپ سے ہی دریافت کرتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے۔ یہ سن کر حضرت علیؓ نے فرمایا: یہ بالکل غلط ہے کہ آنحضرتﷺ نے مجھ سے کوئی وعدہ فرمایا تھا۔

Scroll To Top