فرشتے کون اورشیطان کون ؟ 03-12-2011

صدر زرداری کی درخواست پر بھٹو کیس کی سماعت از سرِ نو ہونے والی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اس ضمن میں بنچ تشکیل دے چکے ہیں۔ سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری کارروائی سے کیا حاصل کرنا مقصود ہے۔ تاریخ کا از سرِ نو لکھا جانا ؟ حقائق کا از سرِنو تعین ؟ بھٹو مرحوم کے ساتھ کی جانے والی نا انصافی کا ازالہ ؟ یا پھر آج کے پاکستان کو مزید پیچیدگیوں میں الجھانا ؟
اگر بھٹو مرحوم کو دی جانے والی بے رحمانہ اور غیر منصفانہ سزا پر نظرِثانی کرنے سے پاکستان کا ” پیچیدہ آج“ اس راہ پر گامزن ہوسکتا جو صرط المستقیم کہلاتی ہے اور جو نجات اور فلاح کی منزل کی طرف جاتی ہے ` تو کوئی شخص اسے سعیٰ لاحاصل قرار دینے کی جسارت نہ کرتا۔ مگر وقت کے پہیوں کو واپسی کا سفر اختیار کرنے پر مجبور کر بھی دیا جائے تو بھی قبروں میں گڑے مُردے” حیاتِ نو “ پاکر اُٹھ کھڑے نہیں ہوں گے۔
اور اگر آنے والے پاکستان کے عظیم تر مفاد کے لئے یہ بات ناگزیر ہے کہ ہم ماضی کی شاہراہ پر ناقابل تردید سچ تلاش کرنے کے لئے نکلیں تو پھر اس سچ کی تلاش کا آغاز ہمیں اپریل 1958ءکے اس خط سے کرنا ہوگا جو تیس سالہ ذوالفقار علی بھٹو نے تب کے صدرِ پاکستان سکندر مرزا کو لکھا تھا۔ جو لوگ تاریخ کو تاریخ کے طور پر پڑھتے ہیں ان کی فائلوں میں یہ خط آج بھی محفوظ ہے۔
تب ذوالفقار علی بھٹو کیا تھے؟ کیسی سوچ رکھتے تھے ؟ فکری طور پر کس قدر قد آور تھے ؟ ان سوالوں کے جواب کے لئے میں متذکرہ خط کے چند اقتباسات پیش کروں گا۔ پہلا اقتباس ملاحظہ فرمائیں ۔
’ ’ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کو دوبارہ یہ یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ میری تمام تر وفاداریاں پوری شدتوں اور توانائیوں کے ساتھ آپ کے لئے ہیں۔ مرنے سے پہلے میرے والد نے مجھے نصیحت کی تھی کہ زندگی بھر آپ کا وفادار رہوں کیوں کہ آپ محض ایک فرد نہیں ایک ادارہ بھی ہیں۔ “
دوسرا اقتباس یہ ہے۔
” آپ کی ذات پاکستان کے لئے رحمت کا درجہ رکھتی ہے۔ جب بھی ہمارے ملک کی تاریخ لکھی جائے گی تو تمام غیر جانبدار مورّخ آپ کو مسٹر جناح سے بلند تر مقام پر رکھیں گے۔ سر۔۔۔ میں یہ حقیقت اس لئے بیان نہیں کررہا کہ آپ صدرِ پاکستان ہیں بلکہ اس لئے کہ میں سچ مچ ایسا ہی سمجھتا اور محسوس کرتا ہوں۔“
جب چالیس برس قبل یہ خط میری نظروں سے گزرا تھا تو مجھے شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جس ” بطلِ جلیل“ کو میں نے اپنے قومی خوابوں کی تکمیل کے لئے ” مسیحائی “ کے عظیم منصب پر فائز کیا تھا وہ خوشامد کی اتنی نچلی سطح پر اتر سکتا ہے کہ سکندر مرزا جیسے طالع آزما کو بابائے قوم محمد علی جناح ؒسے بلند تر مرتبے کا حامل قرار دے ڈالے !
مجھے اعتراف ہے کہ پانچ برس تک بھٹو کے سحر میں گرفتار رہنے کے بعد میرے فکری سفر نے نئی راہ کا انتخاب اسی خط سے پیدا ہونے والی ذہنی اذیت کے زیرِ اثر کیا تھا۔ یہ نئی راہ مجھے بھٹو سے کس قدر دور لے گئی اس کا اندازہ میری تصنیف ” جھوٹ کا پیغمبر “ کے ابتدائی جملوں سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ میں نے متذکرہ کتاب کا آغاز اِن جملوں سے کیا تھا۔
” میں ایک مجرم ہوں۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے بھٹو کو ووٹ دیا۔“
آج میں یہ سب کچھ صرف اس بات پر زور دینے کے لئے لکھ رہا ہوں کہ جب ہم کسی شخص کی پرستش کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے وہ تمام خوبیاں اور خصوصیات بھی منسوب کردیتے ہیں جو خدا نے صرف فرشتوں کے لئے مخصوص کیں۔ اور جب ہم کسی شخص کو اپنی نفرتوں کا نشانہ بناتے ہیں تو اس میں بدی اور ابلیسیت کے سوا کچھ نہیں دیکھتے۔
ہماری اسی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ جب ہم تاریخ لکھنے بیٹھتے ہیں تو حقیقی ” سچ “ ہماری محبتوں اور نفرتوں کے طوفان میں بے بس تنکے کی طرح اڑجاتا ہے۔ ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ” آدم ؑ “ کو خدا نے وہ سب کچھ کرنے کے لئے ہی پیدا کیا جو اس نے کیا۔ ممنوعہ شجر کا پھل نہ کھانا بھی آدم ؑ کے اختیار میں تھا۔ اور اس کا پھل کھا کر خداوند کریم کی حکم عدولی کرنا بھی آدم ؑ کے اختیار میں تھا۔ اس نے یعنی آدم ؑ نے اپنا کون سا اختیار استعمال کیا ` ہم سب جانتے ہیں ۔ اور ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ اس نے یہ اختیار اس لئے استعمال کیا کہ منشائے ایزدی یہی تھی۔
جب ہم دوسروں کے بارے میں فیصلے صادر کیا کرتے ہیں تو ” سچ “ کی عینک سے انہیں نہیں دیکھتے۔ ہم نے عینک اپنی مخصوص سوچ ` اپنے خصوصی تعصبات ` اپنے منتخب مفادات اور اپنی اختیار کردہ وفاداریوں کی لگائی ہوتی ہے۔
مثال میں یہاں ان بیانات کی دے رہا ہوں جو سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے بارے میں تحریک انصاف میں انکی شمولیت کے بعد دیئے جارہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ انہیں زرداری صاحب میں برائی تب کیوں نظر نہ آئی جب وہ وزیر تھے۔ ٹھیک کہا جارہا ہے۔ مگر کہنے والے بھٹو مرحوم پر اپنی بے پایاں عقیدتیں نچھاور کرتے وقت یہ یاد کیوں نہیں کرتے کہ عوام کی جمہوری امنگوں کا پرچم اٹھانے سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم فیلڈ مارشل ایوب خان کے دربار میں کورنش بجالایا کرتے تھے ` اور اس سے بھی پہلے سکندر مرزا کی عنایات سے مستفیض ہونے کے لئے وہ سارے ہتھکنڈے استعمال کیا کرتے تھے جو کامیاب درباریوں کا ” طرہءامتیاز “ ہوا کرتے ہیں ؟
یہاں مثال ان بیانات کی بھی دی جاسکتی ہے جو مسلم لیگ نون کے اکابرین عمران خان کے بارے میں دے رہے ہیں اور جن میں ایک ہی الزام بار بار دہرایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ آج انقلاب لانے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان نے کل جنرل مشرف جیسے فوجی ڈکٹیٹر کا ساتھ دیا تھا۔
اس الزام کا ورد کرنے والے یہ یاد کیوں نہیں کرتے کہ اگر کسی فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ مصافحہ کرنا اتنا ہی قبیح جرم ہے کہ اسے ناقابلِ معافی سمجھا جائے تو میاںنوازشریف جمہوریت کی کس نرسری کس سکول اور کس کالج سے تعلیم و تربیت حاصل کرکے روسو `والٹیئر اور تھامس مین کے جانشین بنے تھے ؟ اگر ان اصحاب کا حافظہ ساتھ نہیں دے پا رہا تو میں انہیں مشورہ دوں گا کہ وہ کسی بھی پبلک لائبریری میں جاکر 1989ءتک کی اخباری فائلیں نکلوائیں اور وہ تمام بیانات غور سے پڑھیں جو میاں نوازشریف جنرل ضیاءالحق کی غیر فانی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے دیا کرتے تھے۔ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے انہوںنے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1996ءمیں کیا تھا جب کوئی فوجی آمر دائیں بائیں یا آگے پیچھے موجود نہیں تھا۔ جہاں تک جنرل پرویز مشرف کاساتھ دینے کا معاملہ ہے تو ان کے ” انقلاب “ کا خیر مقدم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کیا تھا ` جمہوریت کے لئے جن کی خدمات جمہوریت کے دیگر دعویداروں اور پرچم برداروں سے کہیں زیادہ مسلّمہ ہیں۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جب بھی تاریخ لکھنے بیٹھتے ہیں تو اپنی مرضی اور اپنے فائدے کے ” سچ “ گھڑ لیتے ہیں ۔ جس ” سچ “ کے بھی خدوخال ہماری پسند اور ہمارے فائدے کے ” سچ “ سے نہیں ملتے اسے ہم کُوڑے کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ حتمی سچ کوئی بھی نہیں۔ ایک حتمی سچ موجود ہے جس پر ایمان لائے بغیر ہم ” سچ “ کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔
وہ سچ کیا ہے ؟
” میں ایمان لایا اللہ پر ۔ اور اس کے فرشتوں پر، اور اس کی کتابوں پر ` اور اس کے رسولوں پر ` اور قیامت کے دن پر۔ اور اچھی بُری تقدیر پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ` اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر۔“
ہم میں سے جو بھی اس سچ کو سچ سمجھتے ہیں `اس کا اقرار زبان سے اور اس کی تصدیق دل سے کرتے ہیں ` وہ درحقیقت ایک ہی جماعت کے رکن ہیں۔
جس دین کی بنیاد عبدالمطلب کے پوتے اور عبداللہ کے لختِ جگر نے رکھی تھی وہ دین ہمیں ایک جماعت بنانے کے لئے نافذ ہوا تھا۔ تفریق کا عمل تب شروع ہوا جب عبداللہ ابن ابی اور اس کے پیروکاروں نے محمد ﷺ اور اُن کے پیروکاروں کے خلاف پہلی سازش کی۔
اس بات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ہمارے دین میں جمہوریت نہیں۔
ایک رائے حضرت ابوبکر ؓ کی ہوا کرتی تھی۔ اور دوسری رائے حضرت عمر فاروق ؓ کی۔ یہ آراءمتصادم بھی ہوا کرتی تھیں۔ اور آپ کسی ایک رائے کا ہی انتخاب کیا کرتے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری رائے باطل ہوا کرتی تھی۔میں اس موضوع کو کافی آگے بڑھا سکتا ہوں لیکن اس کالم میں مزید گنجائش صرف اس حقیقت کی نشاندہی کرنے کی ہے کہ محمدی انقلاب نافذ کرنے کے لئے فرشتے آسمانوں سے نہیں اترے تھے یا فرشتہ صفت انسان ” بیرون حجاز“ سے درآمد نہیںکئے گئے تھے ۔ وہی جو کبھی مشرک تھے ` دشمنانِ محمد تھے ` خدا کے آخری پیغام کے علمبردار اور محمدی انقلاب کے معمار بن گئے۔

Scroll To Top