پاکستان کا ڈاکٹر کسنگر

 

” ایک بار پھر حسین حقانی نے خبروں کا موضوع بننے کے لئے بڑے ہی دلچسپ موقع اور حالات کا انتخاب کیا ہے `جب پاناما کیس کا فیصلہ آنے والا ہے ۔
گزشتہ کچھ دنوں سے حکومت نے ”توجہ ہٹاﺅ مہم “شروع کررکھی ہے جس کا تازہ ترین نمونہ حسین حقانی کا واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والا مضمون ہے اِس مضمون میں پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کی وفاداریاں مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ عام خیال یہ ہے کہ یہ مضمون حسین حقانی نے اپنے بہترین دوست نجم سیٹھی کی فرمائش پر لکھا ہے
جو آج کل وزیراعظم میاں نوازشریف کے نظریاتی و سیاسی مشیر بنے ہوئے ہیں۔میرایہ کالم 19نومبر2011ءکو شائع ہوا تھا جب ”میموگیٹ“کی وجہ سے حسین حقانی پہلی بار خبروں کا موضوع بنے تھے۔۔۔ آپ کی دلچسپی کے لئے یہ کالم دوبارہ پیش کیا جارہا ہے۔۔۔“

ڈاکٹر کسنگر نے 1980ءمیں اپنی ایک کتاب میں لکھا تھا۔
” بھٹو کے خوابوں کے لئے پاکستان ایک چھوٹا ملک تھا۔ تختہ دار پر چڑھ جانے والے اس لیڈر نے اپنے آپ کو اپنے ملک سے بھی زیادہ قد آور ثابت کرنے کے لئے ایسے اقدامات کئے جو بالآخر اسے قبل ا زوقت موت کی منزل کی طرف لے گئے۔ مجھے دکھ ہے کہ اتنے ذہین آدمی کا ایسا افسوسناک انجام ہوا۔“
ڈاکٹر کسنگر کی یہ بات مجھے آج یوں یاد آئی ہے کہ اِن دنوں جناب حسین حقانی ایسی خبروں کا سبب اور موضوع بنے ہوئے ہیں جو اُن کے خوابوں کے لئے خوش آئند نہیں۔ جناب حسین حقانی سے میرا تعلق تقریباً دو دہائیوں سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ ہمیشہ سے پاکستان کے ڈاکٹر کسنگر بننے کا خواب دیکھتے چلے آئے ہیں۔ اسے ہم حالات کی ستم ظریفی کہیں یا کچھ اور ` حسین حقانی کی پبلک لائف کا آغاز بھٹو کیمپ پر گولہ باری کرنےوالے مورچوں سے ہوا ` اور وہ اپنی غیر معمولی ذہانت اور موقع شناسی کی بدولت پلک جھپکتے میں بھٹو کیمپ کے فکری کوتوال بن گئے۔ بہت سارے لوگ یہاں کہیں گے ` اور درست کہیں گے کہ آج جس کیمپ کی فکری کوتوالی کے فرائض وہ انجام دے رہے ہیں اس کی پہچان ” بھٹو “ کے نام سے نہیں زرداری کے نام سے ہوتی ہے۔اگر محترمہ بے نظیر بھٹو زندہ رہتیں تو حسین حقانی یقینی طور پر بھٹو ازم کی چھتری تلے اپنا سیاسی قد کاٹھ بڑھا رہے ہوتے ` پھر شاید ان کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر کسنگر کے طور پر اپنے آپ کو منوانا بہت مشکل ہوتا۔ کیوں کہ مرحومہ خود خاصا بڑا فکری قد کاٹھ رکھتی تھیں ` اور انہیں اپنی سیاسی بصیرت کا لوہا منوانے کے لئے کسی ڈاکٹر کسنگر کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے وہ مناظر آج بھی یاد ہیںجن میں محترمہ کوئی بات کہنے کا ابھی ارادہ ہی کررہی ہوتی تھیں تو حسین حقانی کمال پُھرتی کے ساتھ کاغذ اور قلم نکال لیا کرتے تھے۔ دل میں ` میں سوچا کرتا تھا کہ ڈاکٹر کسنگر بننے کا خواب دیکھنے والا یہ ” مردِ دانش “ خود کو ایک ” سٹینو گرافر “ کی سطح پر کیوں لے آیا کرتا ہے۔بہرحال یہ بات اٹھارہ برس قبل کی ہے۔ ساڑھے تین برس قبل جب حسین حقانی سے میری آخر ی ملاقات ہوئی تو ہنوز حکومت سازی کا عمل شروع نہیں ہوا تھا۔ وہ اپنی پی آر فرم ”سی آر ایس “کے آفس میں چیف ایگزیکٹو کی کرسی پر بیٹھے تھے۔
” کیا آپ کا ارادہ اب اس فرم کو اوجِ ثریا تک پہنچانے کا ہے۔؟ “ میں نے پوچھا۔
” میرا ارادہ اب سیاست میں جانے کا ہے ۔“ حسین حقانی نے مسکرا کر کہا۔ ” بزنس کے فرائض اب آپ کی بھابی سنبھالے گی۔“
” کون سی بھابی ؟“ میں نے بے ساختہ پوچھا۔
حسین حقانی پہلے تو میرا منہ تکنے لگے ۔ پھر قہقہہ لگا کر بولے۔ ” اب آپ کی ایک ہی بھابی ہے۔“
” جن کا ذکر آپ نے آٹھ برس قبل کیا تھا؟ غالباً اصفہانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ۔ آپ نے کہا تھاکہ وہ آپکی تقدیر کے دروازے کھولنے کی وجہ بنیں گی۔ وہی ناں ؟“ میں نے کہا۔
” بالکل میرے بھائی۔ آپ کا یہ بھائی بڑا آدمی بننے کے لئے پیدا ہوا ہے۔ اور وہ وقت اب آگیا ہے۔ “ حسین حقانی نے جواب دیا۔
” سیاست کا آغاز آپ سنیٹر بن کر کریں گے ؟ “ میں نے پوچھا۔
” میری سوچ اتنی چھوٹی نہیں۔ میں بہت آگے جاﺅں گا۔ آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ پی پی پی میں اگر کسی چیز کی کمی ہے تو دماغ کی کمی ہے۔اسے دماغ میں مہیاکروں گا ` اور بدلے میں ` میں سب کچھ حاصل کرسکتا ہوں۔ آپ پی پی پی کی ساری قیادت پر نظر دوڑائیں۔ کوئی شخص آپ کوایسا نظر آتا ہے جو آپ کے اس بھائی کے ساتھ کھڑا ہوسکے؟ ایک سے ایک بونا ہے۔“
اس ملاقات اور گفتگو کے چند ہی روز بعد حسین حقانی امریکہ میں پاکستان کے سفیر بن کرچلے گئے۔ اور مجھے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں ذرا بھی دشواری پیش نہ آئی کہ پاکستان کے خارجہ امور اب وزارت ِخارجہ کی بجائے واشنگٹن میںمقیم ہمارے سفیر کی دسترس میںرہیں گے۔
ڈاکٹر کسنگر بننے کی طرف حسین حقانی کا سفر شروع ہوچکا تھا۔
گزشتہ ساڑھے تین برس کے عرصے میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں جو طوفان اٹھے ہیں وہ صرف ” پیالی میں طوفان “ نہیں تھے۔ ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکی حکومت اور ہماری اپنی آئینی حکومت کااتحاد ہمارے فوجی ادارے اور اس کی قیادت کے خلاف درپردہ کام کررہا تھا۔ یہ بات کھل کر ” کیری لوگر بل “ پر اٹھنے والے طوفان کے موقع پر سامنے آئی۔ اور اب اس سے بھی بڑا طوفان ” منصور اعجاز “ نامی ایک ” فری لانسر “ کے انکشافات کی بدولت اٹھاہے۔
مجھے یقین ہے کہ حسین حقانی نے وہ مراسلہ منصور اعجاز کے ذریعے امریکہ کی اعلیٰ قیادت تک ضرور پہنچایا ہوگا جس میں پاکستان کی جمہوری سول حکومت کو اس کی فوجی قیادت کے ”خون آشام جبڑوں “سے بچانے کی درخواست کی گئی تھی۔
حسین حقانی نے واشنگٹن کی ذہنی غلامی حال ہی میں اختیار نہیں کی۔ مجھے ان کا وہ مضمون اچھی طرح یادہے جو 1991ءمیں ” دی نیوز “ میں شائع ہوا تھا اور جس کا عنوان تھا۔۔۔
Heroes of Humiliation یعنی رسوائیوں کے ہیرو۔ اس مضمون میں صدام حسین کو ٹارگٹ کیا گیا تھا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حسین حقانی ” میاں نوازشریف کے فکری و سیاسی توپخانے “ کے انچارج تھے۔
میں تب مڈ ایشیا کے نام سے ایک ہفت روزہ نکال رہا تھا جس میں میں نے حسین حقانی کے ان حملوں کاکھل کر جواب دیا تھا جو صدام حسین کو سامنے رکھ کر اُس سوچ پر کئے گئے تھے جو امریکہ کی سامراجی بالادستی کو للکارتی ہے۔ میں نے حسین حقانی سے پوچھا تھا۔
” اگر وقت کے فرعونوں کو للکارنا رسوائیوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے تو کیا آپ چنگیز خان کے خلاف جلال الدین خوارزم کی مزاحمتی جنگوں کو بھی پاگل پن قرار دیتے ہیں ؟“
تب حسین حقانی سے میری ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ان سے میری پہلی ملاقات محترمہ بے نظیر بھٹو نے کرائی۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب معین قریشی کی نگران حکومت قائم ہوچکی تھی اور پاکستان میں نئے عام انتخابات کی تیاریاں ہورہی تھیں۔
ایک روز میں اپنے ایک دوست کے ساتھ میریٹ میں ڈنر کررہا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ¾ جناب آصف علی زرداری اورملیحہ لودھی کے ہمراہ داخل ہوئیں۔ اور سیدھی سامنے والی میز کی طرف چلی گئیں۔ ڈنر کے بعد وہ اٹھیں اور میں نے دیکھا کہ وہ باہر کی طرف جانے کی بجائے میری طرف آرہی ہیں۔ میں خو د اٹھ کر ان کی طرف گیا۔
” آپ اگلی بدھ کو مجھ سے گلزار ہاﺅس لاہور میں ملاقات کریں۔ میں آپ کو حسین حقانی سے ملوانا چاہتی ہوں۔“
” حسین حقانی سے ؟“ میں ایک دم چونک پڑا۔
” ہاں حسین حقانی سے ۔“ محترمہ مسکرائیں۔” وہ اب ہمارے لئے کام کررہے ہیں۔ آپ دونوں مل کر کام کریں۔“
میرے لئے یہ ایک دھماکہ تھا ۔ کیوں کہ میں اس گولہ باری کا سامناکرچکا تھا جو حسین حقانی نے 1990ءاور1991ءمیں ” بھٹو کیمپ “ پر کی تھی۔
بہرحال وہ وقت اس مشہور مقولے کو یا د کرنے کا تھا کہ ” سیاست میں نہ تو دشمنیاں مستقل ہوا کرتی ہیں اور نہ ہی دوستیاں۔“
1993ءکے عام انتخابات کے لئے پی پی پی کا جو پبلسٹی سیل بنا وہ تین ارکان پر مشتمل تھا۔ ایک خود میں تھا۔ دوسرے حسین حقانی تھے۔ اور تیسرے شفقت محمود۔
یوں جناب حسین حقانی کے ساتھ میری شناسائی” دوستی “اور رفاقت کا دور شروع ہوا۔
اس دور کے ساتھ میری چند بڑی دلچسپ یادیں وابستہ ہیں۔ ایک بات مجھے بڑی شدت سے یاد آتی ہے۔
ہم دونوں ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر سے ملنے گئے۔ شام کا وقت تھا۔ لفٹ میں حسین حقانی نے اچانک مجھ سے کہا۔
” کبھی آپ نے سوچا اکبر صاحب کہ پی پی پی فکری طور پر کس قدر یتیم ہے؟ اس وقت میڈیا کے محاذ پر اس کا پورا انحصار ہم دونوں پر ہے۔ اگر آج ہم نوازشریف کے پاس چلے جائیں اور اپنی وفاداریاں تبدیل کرلیں تو ہم کروڑوں کما سکتے ہیں۔“
میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔ وہ ایک دم بولے۔
” میں سیریس نہیں ہوں۔ مگر سیریس ہونے میں کوئی ہرج بھی نہیں۔“
” گویا جعفر و صادق کی کہانی کو دور ِحاضر کے پس منظر میں لکھاجائے ؟“ میں نے مسکر ا کرکہا۔
” سیاست میں کوئی جعفر اور کوئی صادق نہیں ہوا کرتا۔ صرف مفاد ہوا کرتاہے۔ “ حسین حقانی نے بڑے معنی خیز لہجے میں جواب دیا۔
وہ جواب آج مجھے بڑی شدت سے یاد آرہا ہے۔
میں نہیں جانتا کہ حسین حقانی میں ڈاکٹر کسنگر جتنی دانش ہے یا نہیں۔ مگر وہ ذہانت غیر معمولی رکھتے ہیں۔ دانش اور ذہانت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ جیسا فرق موقع شناسی اور موقع پر ستی میں ہوتا ہے۔ شاید میں صحیح موازنہ نہیں کررہا۔ موقع شناسی اور موقع پرستی دونوں منفی خصوصیات ہیں۔ اور یہ دونوں عبداللہ ابن ابی سے لے کر جعفر و صادق تک اِس قبیل کے ہر شخص میں پائی جاتی رہی ہیں ۔ مگر دانش اور ذہانت دونوں مثبت خصوصیات بھی ہیں اور انہیں منفی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر کسنگر کے ساتھ دونوں خصوصیات منسوب ہیں۔ حسین حقانی کو میں نے دانش کے ترازو میں کبھی نہیں تولا۔ مگرذہانت ان کے پاس بے پناہ ہے جس کا اعتراف سی آئی اے والے بھی کرتے ہوں گے۔ اور جو اُن کے اُن مضامین میں بھی رچی بسی ہوتی ہے جو جناب آصف علی زرداری کے نام سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔
یہ اور بات ہے کہ ذہانت کا زیادہ استعمال آدمی کو کبھی کبھی بند گلی میں بھی لے جاتا ہے۔۔۔

Scroll To Top