تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


آخر عبداللہ بن سبا نے ایک تدیبر سمجھائی اور مدینہ منورہ میں ان باغیون اور بلوائیون نے ایک ڈھنڈوراپٹوادیا کہ اہل مدینہ ہی ارباب حل وعقد ہیں اہل مدینہ ہی ابتدا سے خلیفہ کا انتخاب کراتے آئے ہیں اور اہل مدینہ ہی کے مشورے اور انتخاب سے منتخب کئے ہوئے خلیفہ کو مسلمانون نے ہمیشہ خلیفہ تسلیم کیا ہے۔ لہذا ہم اعلان کرتے ہیں اور اہل مدینہ کو آگاہ کئے دیتے ہیں کہ تم کو صرف دو دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس دوران کے عرصہ میں کوئی خلیفہ منتخب کر لو۔ ورنہ دو دن کے بعد ہم علی، طلحہ اور زبیرؓ تینوں کو قتل کر دیں گے۔ اس اعلان کو سن کر مدینہ والوں کے ہوش و حواس جاتے رہے۔ وہ بیتا بانہ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر حضرت علیؓ کے پاس گئے۔ اسی طرح باقی دونوں حضرات کے پاس بھی مدینہ والوں کے وفود پہنچے۔ حضرت طلحہ و زبیر ؓ نے تو صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ہم خلافت کا بار اپنے کندھوں پر لینا نہیں چاہتے ۔
حضرت علیؓ نے بھی اول انکار ہی کیا تھا لیکن جب لوگوں نے زیادہ اصرار ومنٹ سماجت کی تو وہ رضا مند ہوگئے۔ ان کے رضامند ہوتے ہی لوگ جوق درجوق ٹوٹ پڑے۔ اہل مدینہ نے بھی اور بلوائیوں کی جمعیت نے بھی ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔
حضرت علیؓ
نام و نسب:علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب۔
آنحضرتﷺ نے آپ کو ابو الحسن اور ابو تراب کی کنیت سے مخاطب فرمایا۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت اسد بن ہاشم تھا۔ آپ پہلی ہاشمیہ تھیں کہ خاندان ہاشمیہ میں منسوب ہوئیں۔ اسلام لائیں اور ہجرت فرمائی۔ حضرت علیؓ آنحضرتﷺ کے چچازاد بھائی تھے اور داماد بھی یعنی حضرت فاطمہؓ بنت آنحضرتﷺ کے شوہر تھے۔ آپ میانہ قد، مائل بہ پستی تھے۔ دوہرابدن ، سر کے بال کسی قدر اڑے ہوئے۔ باقی تمام جسم پر بال اور لمبی گھنی داڑھی، گندم گوں تھے۔
آپ کی خصوصیات:حضرت علیؓ سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ آپ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے قرآن مجید کو جمع کر کے آنحضرتﷺ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ آپ بنی ہاشم میں سب سے پہلے خلیفہ تھے۔ آپ نے ابتدائے عمر سے کبھی بتوں کی پرستش نہیں کی۔ آنحضرتﷺ نے جب مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی تو آپ کو مکہ میں اس لئے چھوڑ گئے کہ تمام امانتیں لوگوں کو پہنچا دیں۔ آنحضرتﷺ کے اس حکم کی تعمیل کرنے کے بعد آپ بھی ہجرت کر کے مدینہ میں پہنچ گئے ۔ سوائے ایک جنگ تبوک کے اور تمام لڑائیوں میں آپ آنحضرتﷺ کے ساتھ شریک ہوئے۔ جنگ تبوک کو جاتے وقت آپ کو آنحضرتﷺ مدینہ کا عامل یعنی قائم مقام بنا گئے تھے۔ جنگ احد میں حضرت علیؓ کے جسم مبارک پر سولہ زخم آئے تھے۔ جنگ خیبر میں آنحضرتﷺ نے جھنڈآپ کے ہاتھ میں دیا تھا اور پہلے سے فرما دیا تھا کہ خیبر آپ کے ہاتھ پر فتح ہوگا۔ آپ نے خیبر کا دروازہ اپنی پشت پر اٹھا لیا تھا۔ یہ دروازہ جب بعد میں لوگوں نے اٹھانا چاہا تو بہت سے آدمیوں کا زور لگے بغیر اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ آپ کو اپنا نام ابو تراب بہت پسند تھا۔ جب کوئی شخص آپ کو اس نام سے پکارتا تو آپ بہت خوش ہوتے تھے۔ اس نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایک روز آپ گھر سے (حضرت فاطمہؓ سے کسی وجہ سے ناراض ہو کر) نکل کر مسجد میں آئے اور وہیں پڑکر سو رہے۔ آنحضرتﷺ (کو جب معلوم ہوا تو آپ) مسجد میں تشریف لائے اور حضرت علیؓ کو اٹھایا تو ان کے جسم سے مٹی پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ابو تراب (مٹی کے باپ) اٹھو۔

Scroll To Top