دو بڑوں کا گٹھ جوڑ دوسرے ” دو“ کے خلاف

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر اب تک حکومتی ٹیم اور پی پی پی کے درمیان مذاکرات کے تمام دور ناکام ہوئے ہیں۔۔۔ یہ ناکامی اِس لحاظ سے معنی خیز ہے کہ چند روز قبل مصّدقہ ذرائع یہ بتا رہے تھے کہ متذّکرہ عدالتوں میں دو سال کی توسیع پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔۔۔ پھر اچانک یہ اتفاق رائے ڈیڈ لاک میں تبدیل ہوگیا۔۔۔ اِس ڈیڈ لاک کی ظاہری وجہ پی پی پی کے انتہائی بائیں بازو کی نام نہاد جمہوریت پسندی اور آئین سے انسیت ہے۔۔۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2014ءمیں جب فوجی عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں اتفاق رائے ہوا تھا تو محترم رضا ربانی رو پڑے تھے۔۔۔ یہ تاثر دینے کے لئے کہ جیسے اُن سے اُن کی کوئی عزیز ازجان چیز چھن گئی ہو یا چھینی جارہی ہو۔۔۔ چوہدری اعتزاز احسن اس معاملے میں کافی حقیقت پسند ہیں اور زیادہ ڈرامہ بازی نہیں کرتے۔۔۔

لیکن جیسا کہ میں نے اوپر کہا ہے ` یہ محض ایک ظاہری وجہ ہے۔۔۔ اصل وجہ میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری کا خفیہ ” برادرانہ گٹھ جوڑ“ ہے ۔۔۔دونوں کو خطرہ ہے کہ فوجی عدالتوں کی موجودگی اُن کے لئے کسی بھی وقت خطرے کی گھنٹی بجا سکتی ہے۔۔۔ آصف علی زرداری ان معاملات سے خوفزدہ ہیں جن کا تعلق عزیر بلوچ اور ڈاکٹر عاصم حسین کے انکشافات سے ہے۔۔۔اور میاں نوازشریف کا تعلق ماڈل ٹاﺅن کی خوں ریزی اور ایسے ہی دوسرے معاملات سے رانا ثناءاللہ جیسے وفاداروں کی سرگرمیوں کی بدولت جوڑا جاسکتا ہے۔۔۔
میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری میں خفیہ طور پر کوئی نہ کوئی ” سمجھوتہ “ حالیہ مسائل کے پس منظر میں بھی `اور دور رس معاملات کے حوالے سے بھی طے پا چکا ہے۔۔۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر ایسا ہے تو نون لیگ اور پی پی پی نے اچانک ایک دوسرے پر گولہ باری کیوں شروع کردی ہے۔۔۔ تو اس گولہ باری کے دو مقاصد ہیں۔۔۔ ایک تو اپنے اپنے ووٹ بنکوں کو یہ اطمینان دلائے رکھنا کہ ” حق وباطل“ کا فرق قائم ہے ۔۔۔ دوسرا یہ کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہی حقیقی اپوزیشن جماعت ہے۔۔۔
آپ کے ذہن میں یہ خیال آرہا ہوگا کہ ان دونوں بڑے ” سیاست دانوں“ میں خفیہ سمجھوتہ کیوں ہے۔۔۔ تو اس کی بھی دو وجوہات ہیں۔۔۔ دونوں نے بے انداز دولت ” اقتدار کی برکات“ کی بدولت کمائی ہے اورکماکر بہت بڑے پیمانے پر ملک سے باہر بھی بھیجی ہے۔۔۔ اور دونوں کو اپنی بقاءایک ہی صورت میں نظر آتی ہے کہ عمران خان کو نہ تو اقتدار میں آنے دیا جائے اور نہ ہی انہیں پارلیمنٹ میں ایک موثر قوت بننے دیا جائے۔۔۔
اس سے بھی بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں سمجھتے ہیں کہ اُن کا اشتراک فکر و عمل ہی فوج کا راستہ روک سکتا ہے۔۔۔ دونوں یہ جانتے ہیں کہ اِن کے غیر ملکی سرپرست اِن کے سرپرست بھی اِسی وجہ سے ہیں کہ وہ پاکستان کی فوج کو اپنے ایجنڈے کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top