تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


اول الذکر ہر سہ اصحاب اگر چہ بلوائیوں کا نگاہ میں خاص عزت و وقعت بھی رکھتے تھے لیکن ان سب نے اپنی اپنی عزتوں کی حفاظت کے خیال سے گھروں کے دروازے بند کر لئے تھے اور سب خانہ نشین ہو بیٹھے تھے۔ کوئی گھر سے باہر نہیںنکلتا تھا۔ حضرت علیؓ بعض ضرورتوں سے مدینہ کے باہر بھی تشریف لے جاتے تھے اور بعض کا یہ خیال ہے کہ آپ مدینہ سے باہر اسی غرض سے گئے تھے کہ ان بلوائیوں کی شرارتوں سے محفوظ رہیں ۔ چنانچہ جب حضرت عثمان غنیؓ شہید ہوئے تو آپ مدینہ سے کئی میل کے فاصلہ پر تھے۔
مدینہ منورہ میں بلوائیوں کی حکومت:مصر، کوفہ اور بصرہ کے باغیوں نے جب سے مدینہ منورہ میں داخل ہو کر حضرت عثمان غنیؓ کو گھر سے نکلنے اور مسجد میں آنے سے روک دیا تھا۔ اسی روز سے مدینہ منورہ میں ان کی حکومت تھی لیکن چونکہ خلیفہ وقت گو حالت محاصرہ ہی میں کیوں نہ ہو، موجود تھا۔
لہذا بلوائیوں کی ظالمانہ حکومت کو حکومت کے نام سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا لیکن حضرت عثمان غنیؓ کے شہید ہونے کے بعد مدینہ میں تقریباً ایک ہفتہ غافتی بن حرب مکی بلوائیوں کے سردار کی حکومت رہی۔ وہی ہر ایک حکم جاری کرتا اور وہی نمازوں کی امامت کراتا تھا۔ان بلوائیوں مین بعض لوگوں مآل اندیش اور سمجھ دار بھی تھے۔ انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر ہم اسی طرح قتل عثمانؓ کے بعد یہاں سے منتشر ہوگئے تو ہمارے لئے بھی کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ ہم جہاں ہوں گے قتل کئے جائیں گے اور یہ شورش محض فساد اور بغاوت سمجھی جائے گی، پھر اس طرھ بھی ہم جائز احتجاج کا جامہ نہیں پہنا سکیں گے۔ لہٰذا انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے سب کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اب کسی کو جلد خلیفہ منتخب کراو¿ اور بغیر خلیفہ منتخب کرائے ہوئے یہاں سے واپس ہونے اور جانے کا نام نہ لو۔ انہیں ایام شورش کے دوران میں یہ اطمینان کر لینے کے بعد کوفہ و بصرہ سے بھی اس تجویز و قرار داد کے موافق لوگ روانہ ہو کر مدینہ پہنچ گئے۔ عبداللہ بن سبا بھی مصر سے روانہ ہوا اور نہایت غیر مشہور اور غیر معلوم طریقے پر مدینہ میں داخل ہو کر اپنے ایجنٹوں اور دوستوں میں شامل ہوگیا ۔ چونکہ بلوائیوں کے اس تمام لشکر میں سب کے سب ہی ایسے اشخاص نہ تھے جو عبداللہ بن سبا کے راز دار ہوں بلکہ بہت سے بے وقوف و واقعہ پسند اور دوسرے ارادوں کے لوگ تھے۔ لہٰذا عبداللہ بن سبا نے یہاں آکر خود کوئی سرداری یا نمبرداری کی شان مصلحتاً حاصل نہیں کی بلکہ اپنے دوسرے ایجنٹوں ہی کے ذریعہ تمام مجمع کو متحرک کر کے اپنے حسب منشاءکام لیتا رہا۔ یہ انتخاب خلیفہ کی تجویز بھی عبداللہ بن سبا کی تھی۔ چنانچہ یہ لوگ جمع ہو کر حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت علیؓ کے پاس الگ الگ گئے اور ان بزرگوں میں سے ہر ایک سے درخواست کی کہ آپ خلافت قبول فرما لیں اور ہم سے بیعت لیں۔ ہر ایک بزرگ نے خلافت کے قبول کرنے سے انکار کیا اور یہ مجبورو نامراد ہو کر رہ گئے۔

Scroll To Top