ضرورت کی کوکھ کہیں پھر تو آباد نہیں ہورہی ؟

پاکستان میں مردم شماری کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔ کاش کہ کوئی ایسا آلہ یا ایسا طریقہ کار ہوتا کہ ہماری صفوں میں جو حسین حقانی ہیں ان کی نشاندہی ہوسکتی اور ان کا شمار ہم الگ کرسکتے۔۔۔ ویسے تو جتنے میاں نوازشریف ہیں ` جتنے آصف علی زرداری ہیں اور جتنے مولانا فضل الرحمان ہیں ان کا شمار بھی الگ ہونا چاہئے۔۔۔ آپ یہ کہیں گے کہ حسین حقانی تو ایک ہی ہے ` میاں نوازشریف بھی ایک ہی ہیں ` آصف علی زرداری تو ہیں ہی ایک اور مولانا فضل الرحمان کے ” ون اینڈ دی اونلی“ ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں۔۔۔ پھر ایسی مشق کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ تو یقین کریں ایسا نہیں ہے۔۔۔ یہ محض افراد کے نام نہیں۔۔۔ یہ صفات کے نام ہیں۔۔۔
حسین حقانی `حسین حقانی اس لئے ہے کہ وہ حسین حقانی ہے۔۔۔ وہ یہ سوچ کر پروان چڑھا ہے کہ انسان کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ضمیر ہے۔۔۔
یہ ایک صفت ہے جو بدرجہ اتم آپ میں بھی موجود ہو تو آپ بھی اپنی قسم کے حسین حقانی بن سکتے ہیں۔۔۔ آپ چاہیں تو آپ آصف علی زرداری بھی بن سکتے ہیں لیکن آپ آصف علی زرداری اپنی محدود دنیا کے بنیں گے۔۔۔آصف عل زرداری بھی آصف علی زرداری اس لئے بنے کہ ان کی شادی ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو سے ہوئی۔۔۔ اگر وہ شادی نہ ہوئی ہوتی تو آپ کو معلوم ہی نہ ہوتا کہ آصف علی زرداری نام کا کوئی شخص دنیا میں موجود ہے۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آصف علی زرداری موجود نہ ہوتے۔۔۔ ضرور ہوتے۔۔۔ مگر کیا ہوتے ؟ اور کہاں ہوتے ؟ کوئی نہ جانتا۔۔۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نہ ہوتیں تو آصف علی زرداری بھی نہ ہوتے ۔۔۔ اور اگر آپ غور کریں تو میاں نوازشریف بھی نہ ہوتے۔۔۔ اس لئے نہ ہوتے کہ جنرل ضیاءالحق اور ان کے رفقاءکو میاں نوازشریف کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔۔۔ اور یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔۔۔
جمہوریت بھی ہمارے ملک میں ضرورت کے تحت ہی ایجاد ہوئی ہے۔۔۔ اگر جمہوریت نہ ہوتی تو میاں نوازشریف وزیراعظم کیسے بنتے۔۔۔؟ مولانا فضل الرحمان کشمیرکمیٹی کے چیئرمین کیسے بنتے۔۔۔؟ اور آصف علی زرداری وہ کچھ کیسے بنتے جو کچھ وہ ہیں۔۔۔
ضرورت یقینا ایجاد کی ماں ہے۔۔۔
اس کا ادراک جنرل ایوب خان کو 1958ءمیں ` جنرل یحییٰ خان کو 1969ءمیں ¾ جنرل ضیاءالحق کو 1977ءمیں ` اور جنرل پرویز مشرف کو 1999ءمیں ہوا ۔۔۔
1999ءاور 2017ءمیں اٹھارہ برس کا وقفہ ہے۔۔۔ اور ہماری تاریخ میں یہ سب سے بڑا وقفہ ہے۔۔۔ ضرورت کی کوکھ کہیں پھر تو آباد نہیں ہورہی ۔۔۔؟

Scroll To Top