تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


کیونکہ دنیا کا قصاص آخرت کے بدلے سے بہر حال آسان ہے۔ قرآن کریم کی اشاعت اور قرآن کریم کی ایک قرات پر سب کو جمع کرنا اوپر مذکورہو چکا ہے۔ مسجد نبویﷺ کی توسیع کا حال بھی اوپر آچکا ہے۔ آپ نے روز ینوں کی تقسیم اور وظائف کے دینے کے لئے ایام واوقات مقرر فرما رکھے تھے۔ ہر ایک کام وقت پر اور باقاعدہ کرنے کی آپ کو عادت تھی آنحضرتﷺ ، حضرت ابو بکر صدیق،عمر فاروق ؓ کے زمانے میں جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر جاتا تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں لوگوں کی کثرت ہوئی تو آپ نے حکم دیا کہ خطبہ کی اذان سے پہلے بھی ایک اذان ہوا کرے۔ چنانچہ اس وقت سے لے کر آج تک جمعہ کے دن یہ اذان دی جاتی ہے۔
بعض ضروری اشارات: جس وقت بلوائیوں نے مدینہ منورہ میں داخل ہو کر بد تمیزیاں شروع کر دی تھیں۔ اس وقت حضرت عائشہ صدیقہؓ مدینہ سے مکہ کی جانب حج کے لئے روانہ ہوئیں۔ حج سے فارغ ہو کر آپ مدینہ منورہ کو واپس آرہی تھیں کہ مقام سرف میں بنی لیث کے ایک شخص عبید بن ابی سلمہ نامی کے ذریعہ خبر سنی کہ حضرت عثمان غنیؓ کو بلوائیوں نے شہید کر دیا۔ یہ خبر سن کر آپ مکہ واپس لوٹ گئیں۔
جس وقت بلوائیوں نے مدینہ میں ہجوم کیا تو حضرت عمرو بن العاصؓ بھی مدینہ میں موجود تھے مگر جب انہوں نے یہ دیکھا کہ بلوائیوں کی گستاخیاں اور ان کا تلسط ترقی کر کے تمام مدینہ کو مغلوب کر چکا ہے اور شرفائے مدینہ بلوائیوں کے مقابلے میں مجبور ہو چکے ہیں تو عمرو بن العاصؓ نے مع اپنے دونوں بیٹوں عبداللہ اور محمد کے مدینہ سے کوچ کیا اور فلسطین میں آکر رہنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس فلسطین میں حضرت عثمان غنیؓ کے شہید ہونے کی خبر پہنچی۔
عبداللہ بن سعدؓ گورنر مصر یہ سن کر مدینہ منورہ میں بلوائیوں نے حضرت عثمان غنیؓ کا محاصرہ کر رکھا ہے ۔ مصر سے مدینہ کی جانب روانہ ہوئے مگر راستے میں یہ سن کر کہ عثمان غنیؓ شہید ہوگئے، مصر کی جانب لوٹے تو معلوم ہوا کہ وہاں محمد بن ربیعہ نے مصر پر قبضہ کر لیا ہے۔ عبداللہ بن سعدؓ مجبوراً فلسطین میں مقیم ہوگئے اور پھر دمشق کی طرف چلے گئے۔
قتل عثمان غنیؓ کے وقت مدینہ منورہ میں علی، طلحہ اور زبیر ؓ تین بڑے اور صاحب اثر حضرات موجود تھے۔ ان کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت سعدبن وقاصؓ وغیرہ بھی اسی مرتبہ کے حضرات تشریف رکھتے تھے مگر بلوائیوں اور باغیوں کے ہاتھوں سب کی عزتیں معرض خطر میں تھیں۔ مدینہ کی حکومت تمام و کمال ان بلوائیوں کے ہاتھ میں تھی۔12300965386_2a143d63b4_b

Scroll To Top