حکومت عدالت کے کردار کو مشکوک کیوں بنانا چاہتی ہے ؟

آج میرے پاس موضوعات کی کمی نہیں۔۔۔ ایک موضوع تو حسین حقانی کا ہی ہے جنہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ” اسامہ بن لادن“ والے امریکی مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں وہ نہ صرف یہ کہ اپنے امریکی سرپرستوں کے آلہ کار تھے بلکہ امریکی انتظامیہ اور ” زرداری حکومت “ کے درمیان پُل کا کردار بھی ادا کررہے تھے چونکہ یہ بڑا احساس معاملہ ہے اس لئے اس پر تفصیل کے ساتھ میں آئندہ کبھی لکھوں گا۔۔۔
دوسرا موضوع اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا یہ عزمِ صمیم ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے بدبختوں کو کیفرکردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔۔۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پوری قوم اس مقدّس مشن میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ ہے اور ان کے عزمِ صمیم کو قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔۔۔ اس ضمن میں اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ہمارے میڈیا میں ایسے عناصر بھی موجود ہی جو آنحضرت ﷺ کی اہانت کے معاملے کو کوئی اہمیت دیتے ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ کچھ اینکر پرسنز اور تجزیہ کاروں نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے سپریم جوڈیشل کونسل والے معاملے کو زیر بحث لانا شروع کردیا ہے جس کے جواب میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو یہ کہنا پڑا ہے کہ وہ کھلے عام مقدمے کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں مگر خدارا آنحضرت ﷺ کی شان میں ہونے والے گستاخی کو اس قسم کے معاملے سے الگ رکھا جائے۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ جسٹس موصوف اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوں گے کہ ہمارے وزیراعظم آج کل سیکولر لابی کے نرغے میں گھرے ہوئے ہیں (نجم سیٹھی اور عاصمہ جہانگیر وغیرہ)اس لئے توہینِ رسالت ﷺ جیسے ” غیر اہم “ معاملات کے لئے ان کے پاس وقت نہیں (نعوذ باللہ)
تیسرا موضوع اُس غیر متوقع پریس کانفرنس کا ہے جو ” شہرہ ءآفاق“ دانیال عزیزکی معیت میں وفاقی وزیر مملکت برائے انفارمیشن محترمہ مریم اورنگزیب نے کی اور جس میں چند اہم انکشافات اور اعلانات کئے گئے۔۔۔ ایک اعلان تو یہ تھا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے اور اپیل میں بھی نہیں جائیں گے۔۔۔ چوہدری اعتزاز احسن نے اس ” غیر متوقع اور غیر معمولی “ اعلان کا مطلب یہ لیا ہے کہ وزیراعظم کو معلوم ہوچکا ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا اور اِس آگہی کی بنیاد پر وہ اپیل کی ضرورت ہی محسوس نہیں کریں گے۔۔۔ دوسرے الفاظ میں فیصلہ میاں صاحب کی توقعات کے خلاف نہیں آرہا۔۔۔ چوہد ری اعتزاز احسن کے نقطہ ءنظر کی تائید کرتے ہوئے جناب مولانا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ قوم کو سپریم کورٹ کے ایسے فیصلے کے لئے شاید اور زیادہ لمبا انتظار کرنا پڑے گا جو سندھ یا پی پی پی کے وزیراعظم اور پنجاب یا پی ایم ایل )این(کے وزیراعظم میں فرق مدنظر نہ رکھتا ہو۔۔۔ چانڈیو صاحب کا لب ولہجہ غصے اور بے زاری سے اس قدر بھرا ہوا تھا کہ وہ یہ بھی کہہ گئے کہ میاں نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینا ہمارے عدالتی نظام کے بس کی بات ہی نہیں۔۔۔
میں ذاتی طور پر اس نکتہ نظر سے اتفاق نہیں کرتا۔۔۔
مریم اورنگزیب صاحبہ اور دانیال عزیز صاحب کی پریس کانفرنس کا مقصد یہی گمراہ کن تاثر پیدا کرنا تھاکہ فیصلہ حکومت کے حق میں آرہا ہے۔۔۔ یہ تاثر حکومتی حلقے بڑے تواتر کے ساتھ پیدا کرتے چلے آرہے ہیں۔۔۔ اگر فیصلہ واقعی وزیراعظم کے حق میں آرہا ہے اور یہ بات وزیراعظم کے علم میں آچکی ہے تو اس قسم کی پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی کیوں کہ ” عدالتی کردار “ کو مشکوک بنانے کا فائدہ حکومت کو بہرحال نہیں پہنچے گا۔۔۔
مجھے یقین ہے کہ جو بھی فیصلہ آئے گا۔۔۔ اس قوم کی تقدیر تبدیل کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا۔۔۔
جہاں تک مریم اورنگزیب صاحبہ کا یہ انکشاف اور یہ اعلان ہے کہ مریم نواز کروڑوں دلوں پر حکومت کرنے لگی ہیں تو اس سے پریشانی کترنیہ کیف کے سوا اور کسے ہونی چاہئے۔۔۔؟
کاش کہ ہمارے حکمرانوں کی سمجھ میں یہ بات آجاتی کہ اس قسم کے بیانات ان کی اپنی تضحیک اور ان کے اپنے تمسخر کا باعث بنتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top