نیشنل ایکشن پلان سنجیدیگی کا متقاضی ہے

نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کے باعث ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں 70فیصد تک کمی ہونا بلاشبہ حوصلہ افزاءہے ۔وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراءاعلی سمیت گلگت بلتسان کے وزیراعلی بھی شریک ہوئے ۔شرکاءکو بتایا گیا کہ نشینل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کی بدولت شدت پسندی اور دہشت گردی کے واقعات میں 70سے 75 فیصد کمی آئی ہے جبکہ ملک بھر میں ٹارگٹ کلنگ پر بھی خاطر خواہ قابو پالیا گیا ہے۔ “
اہل وطن کو جس دشمن کا سامنا ہے وہ بظاہر مختلف نعروں اور دعووں کے ساتھ اس سرزمین پر متحرک ہے مگر اس کا ہدف ایک ہی ہے اور وہ ہے عدم استحکام پیدا کرنا ۔گذشتہ کئی دہائیوں سے مکمل امن پاکستانیوںکی ایسی خواہش ہے جس کی تکمیل اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور رہی۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے سیاسی ، لسانی اور مذہبی گروہ آخر کب اور کیونکر ایسے طاقت ور ہوگے جو بغاوت کی بدترین شکل میں نمودار ہوگے یہ اب راز نہیں رہا۔
مملکت خداداد میں امن وامان کی مخدوش صورت حال اچانک نہیں ہوئی۔ دراصل ارباب اختیار تسلسل سے ایسے پالیساں ترتیب دیتے رہے جس کے تباہ کن اثرات سماج اور ریاست دونوں پر مرتب ہوئے۔ سرکاری سطح پر ایسی غیر سرکاری پالیساں ترتیب دی جاتیں رہیں جن پر عمل درآمد کرکے ملک وملت کے لیے شدید مشکلات پیدا کی گئیں۔
اس سوال کا جواب تلاش کرنا آسان نہیں کہ فرد واحد کے دور اقتدار کو مسائل کا زمہ دار قرار دیا جائے یا منختب سمجھی جانے والے حکومتوں کی مصلحت پسندی کو موردو الزام ٹھرایا جائے جو محض انفرادی یا گروہی مفادات کی تکمیل میں ہی سرگرداں ہی رہیں۔ قدیم یا جدید کی بحث سے قطعا نظر اہل اقتدار کی زمہ داریاں کسی بھی دور میں کم نہیں رہیں۔ عصر حاضر میں جب عوام کی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ اہل اقتدار کروڈوں شہریوں کو اپنی اولاد کی طرح عزیر رکھیں۔ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملکوں کے نظام حکومت میں بنیادی فرق یہی ہے کہ ہمہ وقت عوام کی جان ومال کی فکر کرنے والے ہی مہذب ممالک کہلاتے ہیں جب کہ ڈھنگ ٹپاو پالیسوں کے زریعہ اقتدار کے مزے لینے والے ممالک پر تیسری دنیا کا لبیل لگایا گیا ہے۔
اس سوال کا جواب ارباب حکومت کو یقینا دینا ہوگاکہ ساڈھے آٹھ سالہ جمہوری دور میں عام آدمی کے مسائل حل کرنے میں ان کا کردار کس حد تک مثالی رہا۔ پاکستان پیلزپارٹی اور اس کی اتحادی حکومت نے پانچ سالہ آئینی مدت ضرور پوری کی مگر کسی ایک بھی شعبہ میں ایسے اقدمات نہ اٹھائے گے جو عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے میں معاون بنتے۔ پی پی پی دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے متحرک کردار کا دعوی تو کیا گیا مگر شہریوں کی جان ومال کا تحفظ کرنے کے لیے ٹھوس اقدمات ناپید رہے۔ سابق صدر زرداری اور ان کے رفقاءبارے مشہور ہی رہا کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ کی مکمل زمہ داری انھوں نے افواج پاکستان پر ڈال کر خود سرخرو ہونے کی ناکام کوشیش کی۔
پاکستان پیلزپارٹی کے دور اقتدار میں کراچی آگ اور خون کے دریا میں ڈوبا رہا۔ متحدہ قومی موومنٹ اور پی پی پی کا صوبائی حکومتوں میں اتحاد بنتا اور ٹوٹتا رہا مگر ساحلی شہر کے باسیوں کے نصیب میں کسی طور پر امن نہ آیا۔ روشنیوں سے منسوب اس شہر میں ایسا بھی ہوا کہ ایک ہی دن میں 40سے 45 افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بنے مگر قاتل نامعلوم ٹھرے۔ سابق صدر زرداری پانچ سال تک ایوان صدر میں براجمان رہے، دو وزیراعظم بھی سامنے لائے گے مگر ملک میں بالخصوص اور کراچی میں بالعموم بہتری کے آثار دور دور تک نظر نہ آئے۔
2013کے عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن وفاق اور پنجاب میں برسر اقتدار آئی جبکہ سندھ میں پی پی پی ، خبیر پختوانخواہ میں پاکستان تحریک انصاف اور بلوچستان میں قوم پرستوں کے حصہ میں اقتدار آیا۔ پی ایم ایل این کی حکومت میںبھی دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں سینکڑوں نہیں ہزاروں بے گناہ شہری جام شہادت نوش کرگے ۔ ان سانحات میں سینکڑوں زخمی ہوئے اور کروڈوں روپے کا نقصان ہوا۔ کراچی میں ظلم وبربریت کا بازار گرم رہا اور سیاسی ، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر قتل وغارت گری جارہی ۔ اس پس منظر میں وزیراعظم نوازشریف سمیت سب ہی سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین اس پر متفق نظر آئے کہ کالعدم تحریک طالبان اور ان کے زیراثر مسلح گروہوں سے بات چیت کرکے مسائل حل کیے جائیں۔ ان دنوں ایک طرف حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرت کا عمل جاری رہا تو دوسری جانب خودکش حملے اوربم دھماکوں کا سلسلہ بھی نہ رک سکا۔ کالعدم تحریک طالبان ان واقعات سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے ان دہشت گرد گروہوں کو قائل کرنے کی یقین دہانیاں کرواتی رہی جو کشت وخون کی زمہ داری قبول کرتے ۔ مگر کراچی ائرپورٹ پر دہشت گردی کے بدترین واقعہ نے عسکری قیادت کو مجبور کرڈالا کہ وہ انسانیت کے دشمنوں کے خلاف پوری قوت سے میدان عمل میں نکل آئیں۔ ضرب عضب کا آغاز ہوتے ہی سیکورٹی فورسز کو قابل زکر کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ بعدازاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی مسلح افواج کے شانہ بشانہ اس لڑائی میں شریک ہوئیں ۔ ملکی دہشت گردی کی تاریخ میں آرمی پبلک سکول نمایاں رہا۔ سانحہ پشاور کے بعد قومی ایکشن پلان تشکیل دے کر عمل درآمد کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے گے مگر ناقدین کے بعقول عمل درآمد کے حوالے سے تاحال وہ تیزی نہیںدکھائی جارہی جس کایہ قومی منصوبہ بجا طور پرمسحق ہے۔

Scroll To Top