ہم میں سے کون اٹھے گا آنے والے طوفانوں کے خلاف ” دیوار چین “ بن جانے کے لئے ۔۔۔؟ 27-10-2009

آج میں ایک ایسے موضوع پر بات کرناچاہتاہوں جو اس لحاظ سے خاصا نازک ہے کہ ہمارے بہت سارے روشن خیال دانشوروں کی خوش بختی اور خوشحالی اس سے منسلک ہے ۔ ظاہر ہے کہ میرے یہ روشن خیال دانشور بھائی میری ” تلخ بیانی“ پر ناک بھوں چڑھائیں گے۔ سچ کی خصوصیت یہ ہے کہ بدصورت ہو تو بڑا ناگوار گزرتا ہے۔
بات کا آغاز میں ایسی ” این جی اوز“ سے کروں گا جن کا قیام اگرچہ نہایت اعلیٰ وارفع مقاصد کے فروغ اور حصول کے لئے عمل میں آیا ` لیکن جو دانستہ یا نادانستہ طور پر یا تو ” سرمایہ فراہم کرنے والوں“ کے نادیدہ مقاصدکے لئے استعمال ہورہی ہیں یا ان کے ایجنٹوں کے لئے کمین گاہوں کا کام دے رہی ہیں۔میں کسی کا نام نہیں لوں گا۔ آپ سب جانتے ہیں کہ ہم میں سے کون کون ایسے خوش نصیب ہیں جو کل تک ایک ہی سوٹ سال بھر پہنا کرتے تھے مگر آج کل شہزادوں اور رئیس زادوں جیسی زندگی بسر کررہے ہیں۔ وجہ ان کے ”دنوں کے پھرنے“ کی صرف یہ اور یہ ہے کہ انہیں تنخواہیں اب ڈالروں میں ملتی ہیں۔
اور اب یہ کیری لوگر بل آرہا ہے۔ اس کے تحت آنے والے چند ماہ کے دوران 83کروڑ ڈالر ” منتخب این جی اوز“ کو ادا کئے جائیں گے۔
اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان میں ” این جی اوز“ کے ذریعے ایک متوازی حکومت اور ایک متوازی معاشرہ قائم کرنے کا جو منصوبہ ایک عرصے سے چل رہا ہے وہ اب زور پکڑ لے گا۔
واشنگٹن کی خوشنودی حاصل کرنے والے یہاں ایک نئے ” طبقہ اشرافیہ“ کوجنم دیں گے جو ہمارے مقامی ” وائٹ کالر“ کلاس کو زبردست اور خطرناک قسم کے احساس محرومی اور احساس کمتری میں مبتلا کردے گا۔
اس خوفناک صورتحال کے اثرات ہماری قومی زندگی پر کیا مرتب ہوں گے ` اس کا تصور کرکے ہی مجھے کپکپی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔
ابراہیم لنکن نے کہا تھا کہ دنیا میں ہر شخص کی ایک قیمت ہے۔
جو بہت زیادہ ایماندر ہوگا اس کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔
اور اگر قیمت ادا کرنے والوں کے پاس بے انداز ” ڈالر“ ہوئے تو وطن عزیز کس خوفناک طوفان میں سے گزرے گا اس کا اندازہ حالیہ طوفانوں کی تباہ کاریوں سے لگایا جاسکتا ہے۔
ہم میں سے کون اٹھے گا آنے والے طوفانوں کے خلاف ” دیوار چین“ بن جانے کے لئے ۔۔۔؟

Scroll To Top