میاں نوازشریف کی خوش قسمتی سے انکار ممکن نہیں !

اب تو جوشیلی خطابت کے ذریعے اپنی پہچان کرانے والے شاہ محمود قریشی نے بھی فرما دیا ہے کہ کشمیر پر وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قابلِ تحسین تقریر کی اور ان کی فہم و فراست سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ میاں نوازشریف کو خراج تحسین تحریک انصاف کے وائس چیئرمین نے کِن الفاظ میں ادا کیا ہوگایہ میں نہیں جانتا لیکن اس خراجِ تحسین کی مدّلل وجہ قریشی صاحب نے یہ بتائی ہے کہ وہ تمام اختلافات بُھلا کر پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں گئے تھے اور انہوں نے وزیراعظم کے ساتھ اظہارِ یگانگت کو ایک قومی فریضہ سمجھا۔
بڑا ہی نیک جذبہ ہے۔ لیکن ایک نقطہ نظریہ بھی ہے کہ وہ متذکرہ اجلاس میں شاہ محمود قریشی کی حیثیت سے نہ جاتے بلکہ وہاں جاکر اپنے چیئرمین کی نمائندگی کرتے۔ وہ وہاں کہتے کہ ” وزیراعظم صاحب آپ کے بارے میں غلط یا درست طور پر یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ آپ بھارتی وزیراعظم مودی کے بارے میں بڑا نرم گوشہ رکھتے ہیں جس کی وجہ سے آپ موصوف سے مخاطب ہو کر وہ کچھ کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتے جو آپ کو کہنا چاہئے۔ کتنا ہی اچھا ہو کہ آپ یہ تاثر آج دور کردیں تاکہ ہم سب یک آواز ہو کر نئی دہلی کے حکمرانوں کو ایک واضح اور سخت پیغام دے سکیں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ ہم ہر بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔۔۔“
آدمی لباس تبدیل کرنے سے اپنے اندر کی شخصیت تبدیل نہیں کرسکتا۔ یہ وہی شاہ محمود قریشی ہیں جنہوں نے پیپلزپارٹی کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اُس کیری لوگو بل کا بھرپور دفاع کیا تھاجس کا مقصد پاک فوج کو لگامیں ڈالنا تھا۔
ویسے وہ ” کاروبارِ سیاست “ میں سرگرم نظر آنے والے اصحاب میں کافی بہتر شہرت رکھتے ہیں اور ان پر کوئی ایسا الزام نہیں جس پر وہ شرمندہ ہوں۔
وزیراعظم میاں نوازشریف کا سامنا انہوں نے اجلاس میں جس منکسرانہ” اعلیٰ ظرفی“ کے ساتھ کیا اس پر مجھے جاوید ہاشمی یاد آگئے جو قومی اسمبلی میں اپنے ” سابق چیف “ سے مصافحہ کرتے وقت عاجزی اور انکساری کے سانچے میں کچھ اس طرح ڈھلے تھے کہ عمران خان کو پسینہ آگیا ہوگا۔
سیاست میں قبلہ درست رکھنے کی روایت کچھ زیادہ مقبول نہیں۔ اُس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کبھی کبھی قبلہ کا رخ سمجھنے یا متعین کرنے میں دشواری پیش آجاتی ہو۔۔۔بات اس پارلیمانی اجلاس کی ہورہی تھی جس کے بعد جاری کئے جانے والے مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کو بتا دیا گیا کہ پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت پر خاموش نہیں رہے گا اور پوری قوم بھارتی عزائم کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہے۔
یہاں میں ایک بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اڑی سیکٹر کے بعد بھارت نے جو بھی اقدامات کئے ہیں اس کی وجہ سے توجہ کا مرکز پاناما سے ہٹ کر کشمیر بن گیا ہے ۔ گویا وزیراعظم نوازشریف کے پاس وزیراعظم مودی کا شکر گزار ہونے کا ایک مضبوط جواز موجود ہے۔
وزیراعظم اس معاملے میں بڑے خوش قسمت ہیں کہ جب بھی کوئی بحران ان کی طرف لپکتا ہے تو کوئی نہ کوئی صورتحال ایسی ضرور پیدا ہوجاتی ہے (یا کردی جاتی ہے)کہ لوگوں کی توجہ ” بحران “ سے ہٹ جاتی ہے۔
وزیراعظم نوازشریف ایک اور معاملے میں بھی خوش قسمت ہیں کہ وہ پاکستان کے مفادات کی کھلم کھلا مخالفت کرنے والے سیاست دانوں کو اپنی بغل میں بٹھا کر بھی محب وطن کے محب وطن بنے رہتے ہیں۔۔۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا افغانستان کا حصہ ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ” فاٹا میں انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے کشمیر پر ” شور مت مچائیں“ ۔
دونوں اصحاب میاں صاحب کے لاڈلے ہیں۔
وہ بھی اس پارلیمانی کا نفرنس میں موجود تھے جس کا مقصد بھارت کو ایک سخت پیغام دینا تھا!!۔۔۔ اگر کوئی شخص غیر حاضر تھا تو صرف شیخ رشید!

Scroll To Top