تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


آنحضرتﷺ نے بارہا ان کے لئے دعا کی ہے ۔( اللھم انی قدرضیت عن عثمان فارض عنہ اللھم انی قدر ضیت عن عثمان فارض عنہ)” الے اللہ ! میں عثمان ؓ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔ اے اللہ! میں عثمان ؓ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا“ ایک مرتبہ یہ دعا آپ شام سے صبح تک مانگتے رہے۔ ایک مرتبہ خلافت صدیقی میں سخت قحط پڑا۔ لوگوں کو کھانا اور غلہ دستیاب نہ ہونے کی سخت تکلیف ہوئی۔ ایک روز خبر مشہور ہوئی کہ حضرت عثمان غنیؓ کے ایک ہزار اونٹ غلہ سے لدے ہوئے آئے ہیں۔ مدینہ کے تاجر فوراً حضرت عثمان ؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ ہم کو ڈیوڑھے نفع سے غلہ دے دو یعنی جس قدر تم کو غلہ سو روپے میں پڑا ہے، ہم سے اس کے ڈیڑھ سو روپے لے لو۔ حضرت عثمان غنیؓ نے کہا کہ تم سب لوگ گواہ ہو کہ میں نے اپنا تمام غلہ فقراءو مساکین مدینہ کو دے دیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اسی شب میں نے خواب دیکھا کہ آنحضرتﷺ ایک گھوڑے پر سوار حلہ نوری پہنے ہوئے جار ہے ہیں۔ میں دوڑ کر آگے بڑھا اور عرض کیا:مجھ کو آپ کی زیارت کا بے حد اشتیاق تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے جانے کی جلدی ہے۔ عثمان ؓ نے آج ایک ہزار اونٹ غلہ صدقہ دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قبول فرما کر جنت میں ایک عروس کے ساتھ عثمان ؓ کا عقد کیاہے ۔ اس عقد میں شریک ہونے جا رہا ہوں۔ حضرت عثمان غنیؓ جب سے ایمان لائے آخر وقت تک برابر ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے رہے۔ کبھی اگر کسی جمعہ کو آزاد نہ کر سکے تو اگلے جمعہ کو دو غلام آزاد کئے۔ ایام محاصرہ میں بھی جبکہ بلوائیوں نے آپ پر پانی تک بند کر رکھا تھا۔ آپ نے غلاموں کو برابر آزاد کیا۔ آپ نہایت سادہ کھانا کھاتے تھے اور سادہ لباس پہنتے لیکن مہمانوں کو ہمیشہ نہایت لذیذ اور قیمتی کھانا کھلاتے تھے۔ عہد خلافت میں کبھی آپ نے دوسرے لوگوں سے برتری اور فضیلت تلاش نہیں کی۔ سب کے ساتھ بیٹھتے، سب کی عزت کرتے اور کسی سے اپنی تکریم کے خواہاں نہ ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنے غلام سے کہا کہ میں نے تیرے اوپر زیادتی کی تھی تو مجھ سے اس کا بدلہ لے لے۔ غلام نے آپ کے کہنے سے آپ کے کان پکڑے۔آپ نے اس سے کہا کہ بھائی خوب زور سے پکڑو۔(جاری ہے….)12300965386_2a143d63b4_b

Scroll To Top