پختون ارضِ وطن کی رگوں میں دوڑتے ہوئے لہو کی مانند ہیں

احمد سلمان انور

احمد سلمان انور

وطن سے محبت ایک ایسا فطری جذبہ ہے جو ہر انسان بلکہ ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے۔ جس زمین پر انسان پیدا ہوتا ہے، اپنی زندگی کے شب وروز بتاتا ہے، جہاں اس کے رشتہ دار ہوتے ہیں، جہاں اسکے دوستوں، والدین، دادا دادی کا پیار پایا جاتا ہے۔ وہ زمین اس کا اپنا گھر کہلاتی ہے، وہاں کی گلی، وہاں کے درو دیوار، وہاں کے پہاڑ، گھاٹیاں، چٹان، پانی اور ہوائیں، ندی نالے، کھیت کھلیان غرضیکہ وہاں کی ایک ایک چیز سے اس کی یادیں جڑی ہوتی ہیں۔
پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے بعد شروع کیے جانے والے آپریشن کے بعد مختلف حلقوں سے پنجاب میں پختونوں کے خلاف مبینہ تعصب کے الزامات لگا جا رہے ہیں۔ دہشتگردی کی تازہ ترین لہر، جس نے ماہِ فروری میں اپنا سر اٹھایا ہے، نے چاروں صوبوں کے عوام کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، درجنوں افراد زخمی ہیں، ہمارا ملک ایک بار پھر لہو لہو ہے، مگر ہمارا ردِعمل اتحاد کا نہیں، اختلاف کا ہے۔
ان حالیہ دہشتگردوں حملوں میں جن میں 100سے زائد معصوم شہریوں کودشت خون میں نہلایاگیا،سرحد پار افغانستان سے دہشتگردوں کے ملوث ہونے کے بعد جہاں افغان مہاجرین کے خلاف جذبات اُبھرے ، وہیں پختونوں کو بھی اس کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا پر چند عرصہ قبل ایسے اشتہار گردش کر رہے تھے جن میں عوام کو پختون چھابڑی والوںیا قہوہ فروش وغیرہ سے ہوشیار رہنے کا کہا گیا تھا۔کچھ حلقوں میں یہ تاثر بھی اب عام پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی بم دھماکہ کرتا ہے اور معصوموں کو مارتا ہے تب بھی کہا جاتا ہے کہ کوئی پختون ہی ہوگا اور قبائلی علاقوں سے ہی اس کا تعلق ہوگا۔
ایسے الزام عائد کرنے والے افراد یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد میں سب سے زیادہ پختون ہیں۔ اگر تاریخ پر غور کیا جائے تو پختون ایک ایسی قوم ہے جنہوں نے اپنے مذہب اور اپنے وطن کے لیے قربانی کی مثالیں قائم کی ہیں۔ بھارت کا بزدلانہ حملہ ہو یا میں آزاد کشمیر کی دفاع، ہر امتحان اور ہر مشکل میں پختون قوم دین و ملک کے دفاع کے لیے صف اول میں شریک رہے ہیں۔
صرف یہی نہیں، قبائلی علاقوں اور سوات میں ہونے والے تمام آپریشنز کے دوران یہ پختون ہی تھے جنہوں نے پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں سے مکمل تعاون کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے مشکلات برداشت کیں اور کئی سالوں تک اپنے گھر بار چھوڑ کر دربدر کی ٹھوکریں بھی کھائیں۔
ایسے ناگفتہ بہ حالات میں چاروں صوبوں میں حالیہ دہشت گردی کے بعد ملک بھر میں اور خصوصا پنجاب میں اپریشن کا آغاز کر کے دہشت گردی میں ملوث افراد اور سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ ایسے کھٹن حالات میں بعض نادیدہ قوتیں دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو نسلی اور لسانی جنگ میں تبدیل کرنے کے درپے ہیں۔ اگر پنجاب میں یا ملک میں کہیں بھی کسی دہشت گرد کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کوئی اقدام کرتے ہیں، تو اس کو کسی نسل یا قومیت کے خلاف کارروائی سے تعبیر نہ کیا جائے۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا پر جو نام نہاد نوٹیفیکشن شیئر کیے جا رہے ہیں، ان پراپیگنڈہ پر رائے نہ قائم کریں۔ ایسے ’ثبوت‘ کمپیوٹر کا اناڑی بھی دس منٹ میں تیار کر کے اپ لوڈ کر سکتا ہے۔ ہمارے نبی محترمﷺ نے ہی تو فرمایا تھا کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ سنی سنائی بات کو آگے بڑھا دے۔
پختون ارضِ وطن کی رگوں میں دوسری تمام پاکستانی قوموں کی طرح دوڑتے ہوئے لہو کی مانند ہیں۔ ہماری تاریخ، مذہبی روایت، سماجیات، لسانی و تہذیبی وراثت کا شاید ہی کوئی حوالہ ہو جو پختونوں کے ذکر کے بغیر مکمل ہو سکے۔ میں خود پنجابی ہوں لیکن میرے بہترین دوستوں میں اکثریت پختونوں کی ہے۔ میں پختونوں کی خوبیوں کا معترف ہوں۔ حفاظتی نکتہ نظر سے افغانیوں کو مشکوک اور مشتبہ سمجھنے میں پاکستانی عوام بہرحال حق بجانب ہیں۔ دہشت گردی کیخلاف طویل اور اعصاب شکن جنگ میں نوشتہ دیوار شکست پڑھ کر ان عناصر نے پنجابی تعصب کا نیا شوشہ ازسرنو چھوڑا ہے جو پاکستان کے طول و عرض میں مقیم پاکستانی پختونوں کو پنجابیوں سے متنفر کرنے کی ایک بھیانک سازش ہے۔ صدیوں سے سرزمین غیرمنقسم پنجاب اور دہائیوں سے منقسم پنجاب میں موجود پٹھان خاندان سندھ، بلوچستان اور خیرپختونخوا کے برعکس پنجابیوں کے ہاتھوں کسی ایزارسانی کا شکار نہیں۔
یہاں میں سیکیورٹی اداروں سمیت پنجاب حکومت اور حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان سے گذارش کرتا ہوں کہ خدارا!کسی بھی لسانی اقدار، داڑھی اور پگڑی کو دہشت گردی کی علامت نہ بنائے۔ اس مشکل گھڑی میں فرقہ وا ریت، نسلی اور لسانی فساد پھیلانے سے گریز کرنا چاہئیں۔ پیمرا کو بھی اپنا قومی کردار ادا کرتے ہوئے میڈیا کو پابند کر کے ایسے خبریں نشر کرنے سے روکنا چاہئیں جن کی وجہ سے وطن عزیز میں فساد کا اندیشہ ہو۔ آئیں ہم سب یک زبان و یک جان ہو کر، اجتماعیت کی فضا قائم کرکے ،ایک پاکستانی ہو کر اسلام اور پاکستان کے دفاع کے لیے اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ تاکہ ہم اپنے آنے والے نسلوں کوایک پرامن، مضبوط ، اسلامی پاکستان دے سکیں ۔
٭٭٭٭٭

Scroll To Top