برصغیر میں ایک پاکستان بن سکتا ہے تو دوسرا اور تیسرا پاکستان بھی بن سکتا ہے۔۔۔

آج یکم محرم ہے۔ اِس روز ہماری تاریخ کا ایک بڑا ہی المناک سانحہ رونما ہوا تھا۔ اِس روز خلیفہ دوئم حضرت عمر ؓ شہید ہوئے تھے اور ہماری تاریخ ایک ایسے بطلِ جلیل سے محروم ہوئی تھی جنہیں اگر مزید چند برس امتِ محمدی ﷺ کی رہنمائی کا موقع مل جاتا تو بہت سارے ایسے معاملات بھی طے ہوجاتے جو ابھی تک وجہ ءنزاع بنے ہوئے ہیں۔
دنیا جانتی ہے کہ حضرت عمر فاروق ﷺ کے دور میں کرہ ءارض کا سیاسی جغرافیہ کچھ اس قدر ڈرامائی اور انقلابی انداز میں تبدیل ہوگیا کہ اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
میں نے یہ موضوع آج اس لئے بھی منتخب کیا ہے کہ امن کے جو نام نہاد علمبردار دینِ محمد ی ﷺ کے بارے میں ابہام پیدا کرتے ہیں انہیں اس سوال کا جواب مل جائے کہ وصال کے وقت منشائے رسول ﷺ کیا تھی۔
کس کو نہیں معلوم کہ آنحضرت ﷺ کا آخری فرمان ایک ایسے لشکر کی تیاری کے بارے میں تھا جو رومیوں سے موتہ کے شہیدوں کا بدلہ لے سکے ؟ یہ لشکر تیار کرکے بھیج بھی دیا گیا تھا مگر آنحضرت ﷺ کی بیماری کی وجہ سے حضرت اسامہ بن زید ؓنے اسے مدینہ کے نواح میں ہی روک لیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس کی خبر ہوئی تو بڑے ناخوش ہوئے۔ انہوں نے فرمایا کہ لشکر بلا تاخیر روانہ کردیا جائے۔
یہ آپ ﷺ کا اِس کرہ ءارض پر آخری حکم تھا۔ کیا اس حکم سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ آپ ﷺ جنگجو تھے۔۔۔؟
اس حکم کو سمجھنے کے لئے اسلام کے مشن کے بارے میں ابہام پیدا کرنے والوں کو صلح حدیبیہ کے دوران ان سفیروں کے مشن کو مدنظر رکھنا چاہئے جو آنحضرت ﷺ نے مختلف عالمی فرماں رواﺅں کی طرف اس پیغام کے ساتھ بھیجے تھے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو قبول کرلو یا مدینہ کی اطاعت قبول کرکے جزیہ دو۔۔۔ یا پھر جنگ کے لئے تیار ہوجاﺅ۔۔۔
میں یہاں بہت زیادہ تفصیلات میں نہیں جاﺅں گا مگر ایک بڑی ہی بنیادی سچائی آپ کے سامنے رکھوں گا۔ آپ ایسی زمین پر کوئی فصل نہیں اگا سکتے جس کا قبضہ آپ کے پاس نہ ہو۔ اور دنیا میں بدی اور جبُر استداد کی حکومتوں کو قائم رکھ کر عدل و مساوات کا پیغام بنی نوع انسان کی تقدیر بنایا نہیں جاسکتا تھا۔تاریخ یہی بتاتی ہے کہ حجاز کی حدود سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل جانے کا ہدف آنحضرت ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید ؓ کا لشکر ترتیب دیتے وقت ہی اپنی امت کے سامنے رکھ دیا تھا۔
آپ ﷺ کے طے کردہ اس ہدف کی تکمیل کا آغاز حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے زمانے میں ہی ہوگیا لیکن یہ حضرت عمر فاروق ؓ کا ہی دور تھا جس میں اپنے عہد کی دونوں سپر پاورز قیصر و کسریٰ اللہ اکبر کے نعروں کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بہہ گئیں۔ تاریخ نے اتنی لمبی چھلانگ گزشتہ کئی صدیوں کے اجتماعی سفر میں بھی نہیں لگائی تھی۔
میں یہاں اس حدیث ِ مبارک کا ذکر ضرور کروں گا جس میں آپ ﷺ نے قسطنطنیہ کی تسخیر کو ملتِ اسلامیہ کا بنیادی ہدف قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ قسطنطنیہ کی فضاﺅں میں شہادت پانے والے مجاہدوں کو میں جنت کے سب سے اعلیٰ و ارفع مقام کی بشارت دیتا ہوں۔
کون نہیں جانتا کہ آنحضرت ﷺ کے اس خواب کی تکمیل کے لئے کتنی جنگیںلڑی گئیں؟ بالآخر ترکی کے سلطان محمد فاتح نے 1452 میں قسطنطنیہ کو فتح کرلیا۔ گویا آنحضرت ﷺ کے اس خواب کو تکمیل کے لئے 820سال تک انتظار کرنا پڑا۔
میں نے یہ موضوع اپنے اُن امن پسندوں کی آنکھوں کھولنے کے لئے چھیڑا ہے جو تاریخ کے حقائق کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی منزلوں کا غلط تعین کرنا چاہ رہے ہیں۔اگر ہم نے اپنے رسول ﷺ کے نقش قدم پر چلنا ہے تو اپنے خوابوں کو وسعت دینی ہوگی۔ برصغیر میں ایک پاکستان بن سکتا ہے تو دوسرا اور تیسرا پاکستان بھی بن سکتا ہے ۔۔۔ ضرورت صرف اپنے اندر ” جذبہ ءفاروقی “ پیدا کرنے کی ہے۔
آج ہمارے سیاسی رہنماﺅں کا اجلاس ہورہا ہے ۔ کاش کہ وہ اِس موقع پروہ پیغام یاد کرلیں جو رسول اللہ ﷺ نے قیصر و کسریٰ کے فرماں رواﺅں کو بھیجا تھا۔۔۔
زندہ قومیں اپنی زندگی کا ثبوت زندہ جذبوں سے دیا کرتی ہیں۔۔۔۔

Scroll To Top