آپریشن رّدالفساد جی ایچ کیو کی تخلیق نہیں ` حکم الٰہی ہے

 

میرا دل ان اصحاب کو داد دینا چاہتا ہے جنہوں نے آپریشن رّدالفساد کا نام سوچا اور رکھ دیا۔۔۔ یہ اس قدر جامع اور عمیق نام ہے کہ میں اس کے بارے میں جتنا بھی سوچتا ہوں اتنا ہی اُن دماغوں کا معترف ہوجاتاہوں جن میں یہ نام اپنی تمام تر وسعتوں اورگہرائیوں کے ساتھ ابھرا اور گھر کر گیا۔۔۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جگہ جگہ فساد کرنے یا فساد پھیلانے والوں سے خبردار کیا ہے۔۔۔ ایک جگہ تو یہ بھی حکم ہواہے کہ جہاں بھی فساد پیدا کرنے والے نظر آئیں ان کا پیچھا کرو اور انہیں ختم کردو۔۔۔ میں نے یہاں ” قتل “ کی اصطلاح استعمال کرنے کی بجائے ” ختم “ کی اصطلاح اس لئے استعمال کی ہے کہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔۔۔ فسادی قتل کردیئے جائیں یا ختم کردیئے جائیں ایک ہی بات ہے۔۔۔
یہ جو فوجی عدالتوں کا قصہ ایک لمبے چوڑے تنازعے کا سبب یا موضوع بنا ہواہے اس کا تعلق بھی فسادیوں کو قتل کرنے یا فساد کو ختم کرنے کے اسی معاملے سے ہے۔۔۔ ہمارے معاشرے کو اور اُمور مملکت کو چلانے یا اُن پر اثر ورسوخ رکھنے والوں میں یقینی طور پر ایسے طاقتور عناصر موجود ہیں جو فساد کے جلد ختم ہونے یا فسادیوں کے جلد ازجلد اپنے انجام کو پہنچنے میں نہ صرف یہ کہ دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ یہ بھی کہ سرے سے اس کے مخالف ہیں۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کا معاملہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے فٹ بال کا ایسا کھیل بناہواہے جس میں نہ تو کوئی گول ہوتا ہے اور نہ ہی ہوتا نظر آتا ہے۔۔۔ اس کھیل میں سب سے بڑے کھلاڑی یعنی میاں نوازشریف نے ہنوز کِکِ نہیں ماری اور وہ سنٹر میں کھڑے ` گیند کو اِدھر اُدھر جاتا دیکھ رہے ہیں۔۔۔ جہاں تک زرداری صاحب کا تعلق ہے انہیں پریشانی زیادہ یہ ہے کہ کہیں آپریشن رّدالفساد کی زد میں اُن کے رفیق ِکار اور دستِ راست ڈاکٹر عاصم حسین نہ آجائیں۔۔۔ آپریشن رّدالفساد ایک جامع ترکیب ہے۔۔۔ اور تین الفاظ کو ملا کر بنائی گئی ہے۔۔۔ آپریشن انگریزی کی اصطلاح ہے۔۔۔ اس کا ایک مطلب کسی خاص مقصد کی تکمیل کے لئے عمل پیہم کرنا ہے اور دوسرا مطلب مریض کو لٹا کر اس کی سرجری کرناہے۔۔۔ متذکرہ ترکیب میں شعوری طور پر پہلا مفہوم ہی قرین قیاس ہے۔۔۔ دوسرا مفہوم بالواسطہ طور پر ذہن میں آسکتا ہے۔۔۔جہاں تک ”رّد“ کا تعلق ہے وہ ” ختم “ کرنے کو ہی کہتے ہیں جس کے لئے قتل کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے ۔۔۔ اصل اصطلاح جواہمیت رکھتی ہے وہ ہے ” فساد “ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فساد پھیلانے والا اسے کہا ہے جو اس کے رسول ﷺکو زک یا رنج پہنچاتا ہے ` جو آپ ﷺ کے احکامات کی نفی کرتا ہے ` جو آپ ﷺ کے پیغام کا مذاق اڑاتا ہے اور جو ایمان لانے والوں کے درمیان نفاق اوردشمنی کا بیج بوتا ہے۔۔۔
آپ ﷺ کے پیغام کی وضاحت یہاں کھل کر ہوجانی چاہئے۔۔۔ آپ ﷺ کے پیغام کو ہم قرآن حکیم کے نام سے جانتے ہیں جو ہمارے ایمان کی رو سے اللہ کا فرمان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کے ذریعے رسول اکرم ﷺ کی زبان میں ہر دور کے لئے نسلِ انسانی کی ہدایت کی خاطر اتارا۔۔۔
فسادی کون ہیں ؟ جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کی نفی کرتے ہیں۔۔۔ اس کا مذاق اڑاتے ہیں ۔۔۔ اس کو گمراہ کن انداز میں پیش کرتے ہیں۔۔۔ اس پر ایمان لانے والوں یا ایمان رکھنے والوں کے درمیان نفاق یا نفرت کا بیج بوتے ہیں اور جو اس کی آڑ لے کر معاشرے میں قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔۔۔
رسول اکرم ﷺ نے ساری زندگی اللہ تعالیٰ کا پیغام نسلِ انسانی تک پہنچانے میں صرف کی۔۔۔اور اپنے پہلے اور آخری حج میں انہوں نے اپنے پیروکار وں اور ماننے والوں سے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر گواہی طلب کی کہ ” کیا میں نے اپنے اورآپ کے رب کا پیغام پوری دیانت داری سے پہنچایا ؟“
خلق خدا جو وہاں حاضر تھی یک زبان ہوکر بولی ۔۔۔” پہنچایا ۔۔۔یا رسول ﷺ “
” اس پیغام کی حفاظت کرنا۔۔۔مجھے اور میرے خدا کو ماننے والو۔۔۔!“ رسول اکرم ﷺ نے آخری نصیحت کی۔۔۔
اس نصیحت کے بعد ایک برس تک آپ ﷺ اس دنیا میں رہے۔۔۔
مگر پیغام کی تکمیل خطبہ ءحج میں ہوگئی تھی۔۔۔
وہی پیغام سچ تھا۔۔۔ حق تھا۔۔۔ اس کے بعد اس پیغام میں جو کچھ بھی۔۔۔ اور جس انداز میں بھی شامل ہوا ` باطل تھا۔۔۔ فساد تھا۔۔۔

Scroll To Top