تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_bیہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ عبداللہ بن ابی زیادہ خطرناک منافق تھا یا عبداللہ بن سبا بڑا منافق تھا۔ لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ عبداللہ بن ابی کو اپنے شرارت آمیز منصوبوں میں کامیابی کم حاصل ہوئی اور نامرادی وناکامی بیشتر اس کے حصے میں آئی لیکن عبداللہ بن سبا اگر چہ خود کوئی ذاتی کامیابی حاصل نہ کرسکا۔ تاہم مسلمانوں کی جمعیت کو وہ ضرور نقصان عظیم پہنچا سکا کیونکہ اس نقصان عظیم کے موجبات پہلے سے مرتب و مہیا ہو رہے تھے۔ عبداللہ بن سبا کی مسلم کش کوششوں کا سب سے زبردست پہلو یہ تھا کہ اس نے بنو امیہ کی مخالفت میں یک لخت ویکا یک تمام عرب قبائل کو برانگیختہ اور مشتعل کر دیا ۔ جس کے لئے اس نے حضرت علیؓ کی حمایت و محبت کو ذریعہ اور بہانہ بنایا۔ جن قبائل میں اس نے مخالفت بنو امیہ اور عداوت عثمانی پیدا کرنی چاہی۔ یہ سب کے سب وہی لوگ تھے جو اپنی فتوحات حلات پر مغرور اور اپنے کارنامے کے مقابلے میں قریش و اہل حجاز کو خاطر میں نہ لائے تھے لیکن سابق الا سلام نہ تھے بلکہ نو مسلموں میں ان کا شمار تھا۔ عبداللہ بن سبا نے بڑی آسانی سے بنو امیہ کے سوا باقی اہل مدینہ کو حضرت عثمان ؓ کی بد گوئی اور بنو امیہ کی عام شکایت پر آمادہ کر دیا، پھر وہ بصرہ، کوفہ، دمشق وغیرہ فوجی مرکزون میں گھوما ۔ جہاں سوائے دمشق کے ہر جگہ اس کو مناسب آب وہوا اور موافق سامان میسر ہوئے۔دمشق میں بھی اس کو کم کامیابی نہیں ہوئی کیونکہ یہاں بھی اس نے حضرت ابو ذرغفاریؓ والے واقعہ سے خوب فائدہ اٹھایا۔ آخر میں وہ مصر پہنچا اور تمام مرکزی مقام کے اندر جہاں وہ خود سامان فراہم کر آیا تھا۔ مصر میں بیٹھے بیٹھے اپنی تحریک کو ترقی دی۔ مصر کو اس نے اپنا مرکز اس لئے بنایا کہ یہاں کا گورنر عبداللہ بن سعد خود مختاری میں تو دوسرے گورنروں سے بڑھا ہوا اور وقت نظر میں دوسروں سے کم اور رومیوں وغیرہ کے حملوں کی روک تھام کے خیال اور افریقہ و طرابلس وغیرہ کی حفاظت کی فکر میں اندرونی تحریکوں اور داخلی کاموں کی طرف زیادہ متوجہ نہیں ہو سکتا تھا۔ یہیں اس کو دو تین صحابی ایسے مل گئے جو بڑی آسانی سے اس کے ارادوں کی اعانت میں شریک و مصروف ہوگئے۔
اس نے بصرہ میں حضرت طلحہؓ اور کوفہ میں حضرت زبیر ؓ کی مقبولیت کو بڑھا ہوا دیکھا لیکن وہ جانتا تھا کہ تمام عالم اسلام میں حضرت علیؓ کی مقبولیت ان دونون حضرات سے بڑھ جائے گی۔ لہذا اس نے بصرہ ، کوفہ، دمشق کو بڑی آسانی سے چھوڑ دیا اور مصر میں بیٹھ کر اپنے کام کو اس طرح شروع کیا کہ بصری، کوفہ والوں کی اس مخالفت کو ترقی دی جو ان کو بنو مایہ اور حضرت عثمانؓ کے ساتھ پیدا ہو چکی تھی لیکن مصر میں اس مخالفت کے پیدا کرنے اور اس کو ترقی دینے کے علاوہ حضرت علیؓ کی محبت اور ان کے مظلوم ہونے، حق دار خلافت ہونے، وصی ہونے وغیرہ کے ، خیالات کو شائع کیا۔ اس اشاعت میں بھی بڑی احتیاط سے کام لیا اور حضرت علیؓ کے طرف داروں کی ایک زبردست جماعت بنا لینے میں کامیاب ہوا۔ عبداللہ بن سبا کی ان کارروائیوں نے بہت ہی جلد عالم اسلام میں ایک شورش پیدا کردی۔ اس شورش کے پیدا ہو جانے کے بعد صحابہ کرامؓ سے وہ موقع جاتا رہا کہ وہ خود بنو امیہ کے راہ راست پر رکھنے کی کوشش میں کامیاب ہوتے۔ عبداللہ بن سبا کی شراشرتوں میں غالباً سب سے پلید شرارت یہ تھی کہ اس نے مدینہ منورہ سے حضرت علیؓ کی طرف سے فرضی خطوط کوفہ وبصر ہ ومصر والون کے پاس بھجوائے اور اس طرح اپنے آپ کو بھی حضرت علیؓ کا ایجنٹ تعین کرانے اور لوگوں کو دھوکا دینے میں خوب کامایب ہوا۔ یہ اس کا ایسا فریب تھا کہ اس طرف حضرت عثمان ؓ شہید ہوئے اوردوسری طرف آج تک لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ نعوذباللہ حضرت علیؓ کے اشارے اور سازش سے حضرت عثمان غنیؓ شہید کئے گئے۔ حالانکہ اس سے زیادہ غلط اور نادرست کوئی دوسری بات نہیں ہو سکتی۔ وہ یعنی عبداللہ بن سبانہ حضرت عثمانؓ کا دوست تھا، نہ حضرت علیؓ سے اس کو کوئی ہمدردی تھی۔ وہ تو دونوں کا یکساں دشمن اور اسلام کی بربادی کا خواہاں تھا۔ اس لئے جہاں اس نے ایک طرف حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کر ایا۔دوسری طرف حضرت علیؓ کو شریک سازش ثابت کر کے ان کی عزت و حرمت کو بھی سخت نقصان پہنچانا چاہا۔
حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے بعد اگر حضرت علیؓ منتخب ہوتے تو یہ انتخاب عین وقت پر اور ترتیب کے اعتبار سے بالکل موزوں اور مناسب تھا۔ حضرت علیؓ اگر حضرت عمر فاروق ؓ کے بعد تخت خلافت پر متمکن ہو جاتے تو فاروق اعظمؓ اور حضرت علیؓ کو خلافت میں بے حد مشابہت نظر آتی۔ وہی سادتی، وہی زہدو تقویٰ، وہی مال و دولت سے بے تعلق ہونا، وہی خاندانی اور قومی حمایت سے بے تعلق ہونا وغیرہ باتیں حضرت علیؓ میں موجود تھیں جو حضرت عمر ؓ میں پائی جاتی تھیں اور اس طرح شاید عرصہ دراز تک قومی پاسداری اور خاندانی حمایت کا مسئلہ مسلمانوں میں پیدانہ ہوتا۔ حضرت عثمان غنیؓ کے بعد حضرت علیؓ کا خلیفہ مقرر ہونا ہی حضرت علیؓ کے عہد خلافت کی عام ناکامیوں کا اصل سبب ہے۔ جیسا کہ آئندہ حالات سے ثابت ہو جائے گا۔
خصائل وخصائص عثمانی:عثمان غنیؓ کی فطرت نہایت ہی سلیم و بردبار ثابت ہوئی تھی۔ عہد جاہلیت ہی میں شراب اپنے اوپر حرام کر لی تھی۔ کبھی عہد جاہلیت میں بھی زنا کے پاس تک نہیں بھٹکے، نہ کبھی چوری کی۔ عہد جاہلیت میں بھی ان کی سخاوت سے لوگ ہمیشہ فیض یاب ہوتے رہتے تھے۔ہر سال حج کو جاتے، منیٰ میں اپنا خیمہ نصب کراتے۔ جب تک حجاج کو کھانا نہ کھلا لیتے لوٹ کر اپنے خیمہ میں نہ آتے اور یہ وسیع دعوت صرف اپنی جیب خاص سے کرتے۔ جیش العسرة کا تمام سامان حضرت عثمان غنیؓ نے مہیا فرمایا تھا۔ آنحضرت ﷺ اور اہل بیت نبوی پر بارہا فاقہ کی مصیبت آتی تھی۔ اکثرموقع پر حضرت عثمانؓ ہی واقف ہو کر ضروری سامان بھجواتے تھے۔
(جاری ہے)

Scroll To Top