سرجری ناگزیر ہے۔آئیں مل کر دعا کریں کہ سرجری کامیاب ہو!

جب کسی مریض کا مرض روایتی دواو¿ں اور علاج کو شکست دینے لگے تو ڈاکٹر غیر رواتی طریقوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں ۔ غیر روایتی طریقوں میں تو دعاو¿ں پر قناعت کرنا ہوتا ہے کیوں کہ ہمارا ایمان ہے کہ شفا بہرحال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہے تو مریض صحتیاب ہوتا ہے اور اگر وہ نہ چاہے تو آخری غیر روایتی طریقہ بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ میری مراد یہاں سرجری سے ہے۔
میں آپ کا تعارف ایک ایسے مریض سے کرانا چاہتا ہوں جو صرف مجھے ہی اپنی جان سے زیادہ عزیز نہیں۔ آپ کو بھی اپنی جان سے عزیز ہوگا۔ میں اس مریض کو شفایاب دیکھنے کی آرزو میں بوڑھا ہوگیا۔ اور آپ میں بھی بے شمار ایسے ہوں گے جو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بالوں کی سفیدی اور اپنے چہرے کی جھریاں دیکھ دیکھ کر سوچتے ہوں گے کہ ساری زندگی یہ خواب دیکھتے دیکھتے گذر گئی کہ یہ مریض آپ کو چاق وچوبند حالت میں نظر آئے۔
یہ مریض متعدد مرتبہ سرجری کے مراحل سے بھی گذرا ہے۔ جب پہلی سرجری ہوئی تھی تو امید بندھی تھی کہ اس کے جسم کے بیمار حصے کاٹ کر پھینک دیئے گئے ہیں اور اب یہ ہمیشہ تندرست رہے گا۔ ایسا ہوتا نظر بھی آیا۔ مگر بیماری نے پھر اسے آن لیا۔ اس کے بعد اسے متعدد بار سرجری کے مراحل سے گذارا گیا اور ہر بار کچھ دیر کے لئے ایسا لگا کہ اسے شفا حاصل ہوگئی ہے۔
میری اور آپ کی ۔۔۔ سب کی بد قسمتی ہے کہ اسے بار بار خطرناک جراثیم اور بیکٹیریا کے حملوں سے گذرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ کا ہم سب پر احسان ہے کہ اُس نے اِ س مریض کو بڑا سخت جان بنایا ہے۔ اِس قد ر سخت جان کہ جس قسم کا سرطان آج اسے لا حق ہے وہ بھی اس کا بہت زیادہ نہیں بگاڑ سکا۔ لیکن سرطان بہر حال سرطان ہے۔ اور اس کا علاج روایتی طریقوں سے بہرحال ممکن نہیں۔
اب ایک ہی صورت باقی رہ گئی ہے کہ اپنے اِس عزیز ازجان مریض کو بھرپور سرجری کے مراحل سے گذارا جائے۔
مجھے کامل یقین ہے کہ اِس مرتبہ جو سرجری ہوگی وہ نہایت کامیاب رہے گی۔ ساتھ ساتھ ہمیں رب العزت کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر دعائیں بھی کرنی چائیں۔
”اے رب کعبہ۔۔۔اِسے توُنے پیدا کیا۔ تو ہی اسے صحتیاب کر۔۔ توُ ہی اس کی حفاظت کر۔۔“

Scroll To Top