یمن: فضائی حملوں اور جھڑپوں میں 20 افراد ہلاک

عدن میں خفیہ ادارے کاضلعی سربراہ قتل، حوثی پہلے اپنے جنگجوغیرمسلح کریں پھر امن معاہدہ ممکن ہوگا، جنرل العسیری فوٹو؛ فائل

صنعا: یمن کے شہر تعز میں یمنی فوج نے پیش قدمی کی ہے اور اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں میں حوثی ملیشیا اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے کم سے کم20جنگجو ہلاک ہوگئے جبکہ حوثی ملیشیا نے متحدہ عرب امارات کے ایک بحری جنگی جہاز کو راکٹ حملے میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے متحدہ عرب امارات کے امدادی سامان لے جانے والے ایک بحری جہاز پرآبنائے باب المندب میں راکٹوں سے حملہ کرکے تباہ کردیا۔ حوثیوں نے اپنے زیرانتظام ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا کہ اماراتی جنگی بحری جہاز کو بحراحمرکے کنارے واقع موخاکے ساحلی علاقے کی جانب آنے پرراکٹوں سے ہدف بنایا۔ دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے اس حملے کو ایک خطرناک اشارہ قرار دیاہے اور کہاہے کہ جہاز پر سوار سویلینز کو بچالیا گیاہے۔

شہرعدن میںضلع براقاکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کواس وقت گولی مار کر ہلاک کردیاگیاجب وہ اپنے گھر روانہ ہورہے تھے، حملہ آورموٹرسائیکل پرفرارہوگئے، یمن میں داعش سے وابستہ ایک گروپ نے ٹویٹر پر اس ہلاکت کی ذمہ داری لینے کا دعوی کیا ہے۔ دریں اثنا سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ حوثی باغی ملیشیا کو کالعدم قرار دیے جانے تک یمن میںکوئی بھی امن معاہدہ سعودی مملکت کیلیے قابل قبول نہیںہوگا اور اسے مستردکردیا جائیگا، تنازع کے سیاسی حل کی ضرورت کے باوجود سعودی عرب ایسے کسی بھی سمجھوتے کو مستردکردے گاجس میں حوثی ملیشیا کو اپنے مسلح جنگجوؤں کو بدستور رکھنے کی اجازت دی گئی ہو۔

Scroll To Top