تاریخ اسلام

800a03887e3fef83ed764de0438e1e51

مسلمانوں نے ان کو قرار واقعی سزاد ے کر آرمینیہ اور طغلس تک کے علاقہ پر قبضہ کر لیا۔
غرض حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں بھی بہت کافی اور اہم فتوحات مسلمانوں کو حاصل ہوئیں اور حدوداسلامیہ کے حدود پہلے سے بہت زیادہ وسیع ہوگئے۔ ایران وشام و مصر وغیرہ ملکوں میں حضرت عثمان غنیؓ کے حکم کے موافق گورنروں نے سڑکیں بنوانے، مدرسے قائم کرنے ، تجارت وحرفت اور زراعت کو فروغ دینے کی کوششیں کیں یعنی سلطنت اسلامیہ نے اپنی ظاہری ترقی کے ساتھ ہی مصنوعی ترقی بھی کی لیکن یہ تمام ترقیات زیادہ تر خلافت عثمانی کے نصف اول یعنی
ابتدائی چھ سال میں ہوئیں۔ نصف آخری یعنی چھ سال کے عرصہ میں اندرونی اور داخلی فسادات کی پیدائش اور نشوونما ہوتی رہی۔ اس سے پیشتر کے مسلمانوں کا مطمع نظر اور قبلہ توجہ اشاعت اسلام اور شرک شکنی کے سوا اور کچھ نہ تھا لیکن اب وہ توجہ آپس کی مسابقت اور برادرافگنی میں بھی مصروف ہونے لگی۔ بنو امیہ نے مدینہ منورہ میں اپنی تعداد اور اثر کو بڑھا لیا اور اطراف وجوانب کے صوبوں اور ملکوں میں بھی ان کا اثر روز افزاوں ترقی کرنے لگا۔
یہ ضروری نہ تھا کہ بنو امیہ کے اس طرز عمل کو دیکھ کر دوسرے مسلمان قبائل موافقت یا مخالفت میں بے سوچے سمجھے حصہ لینے لگتے اور قومی جانب داری کی آگ میں کود پڑتے بلکہ بنو مایہ کی غلط کاریوں کو محسوس کرنے کے بعد صحابہ کرام یعنی مہاجرین و انصار کی محترم جماعت اگر سہولت و معقولیت کے ساتھ لوگوں کو سمجھاتی اور اس فتنہ کو نشوونما پانے سے پہلے دبا دینے کی کوشش کرتی تو اصحاب نبویﷺ کا اتنا اثر امت محمدیہ میں ضرور موجود تھا کہ ان بزرگوں کی کوشش صدا بصحراثابت نہ ہوتی۔ بنوامیہ نے اپنا اقتدار بڑھانے کی کوششیں شروع کیں۔ ان کا احساس صحابہ کرامؓ کو کچھ عرصہ کے بعد ہوا اور جب احساس ہوا تو اس وقت سے علاج کی کوششیں بھی شروع ہو کر کامیاب ہو سکتی تھیں لیکن بد قسمتی اور سوءاتفاق سے امت مسلمہ کو ایک سخت وشدید ابتلاءمیں ہونا پڑا۔ یعنی عین اسی زمانے میں نہایت چالاک و عقل مند اور صاحب عزم و ارادہ یہودی عبداللہ بن سبا اسلام کی تخریب و مخالفت کے لئے آمادہ مستعد ہو گیا۔ آنحضرتﷺ کے عہد مبارک میں بھی منافقوں کے ہاتھوں سے مسلمانوںکو بارہا ابتلا میں مبتلا ہونا پڑا اور اب عہد عثمانی میں بھی ایک منافق یہودی مسلمانوں کی ایذارسانی کا باعث ہوا۔ (جاری ہے….)

Scroll To Top