جو اکابرین پرچمِ ستارہ و ہلال کو روز سلامی دیتے ہیں…. وہ کیا سوچ رہے ہیں ؟……..15-12-2010

kal-ki-baat

جن دو سنگین مسائل کی وجہ سے پاکستان کے مستقبل کو زبردست خطرات کا سامنا ہے ان میں میرے نزدیک اولین اہمیت کا حامل اور سب سے زیادہ توجہ کا مستحق لسانی و نسلی بنیادوں پر علاقائی عصبیتوں کا رحجان ہے۔ معیشت اور معاشرت کی بنیادیں ہلا دینے والی کرپشن کو میں دوسرے نمبر پر رکھتا ہوں۔
وقت آگیا ہے کہ علاقائی عصبیتوں اور نسلی تعصب کی بنیاد پر پروان چڑھنے والی صوبہ پرستی اور اس صوبہ پرستی کی کوکھ سے جنم لینے والی نفرتوں کے تباہ کن نتائج کا ادراک اعلیٰ ترین سطح پر کرلیا جائے ورنہ مملکت خداداد پاکستان کا انجام اس اندلس سے مختلف نہیں ہوگا جسے طوائف الملوکی گھن کی طرح چاٹ گئی اور ایک وقت ایسا آیا کہ آٹھ سو برس تک سرزمین ہسپانیہ پر حکومت کرنے والے مسلمان الحمرا کی چابیاں فرڈی ننڈ کے سپرد کرنے پر مجبور ہوگئے۔
جناب آصف علی زرداری کی حکمت عملی کے تحت سندھ میں ثقافتی شناخت کے بہانے سندھی ٹوپی اور سندھی اجرک کا جو بخار چڑھایا جارہا ہے اسے عام حالات میں نظر انداز کیا جاسکتا تھا ۔ مگر ” اجرک ڈے “ منانے کے حوالے سے سندھ میں ایک دن کی سرکاری چھٹی کا جو اعلان ہوا ہے اس میں ان لوگوں کے لئے کوئی خوش آئند پیغام نہیں جو بلوچستان کے حالات سے پہلے ہی شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
صوبہ پرستی کے عفریت کو پروان چڑھانے اور علاقائی نسلی اور لسانی تعصبات کو ہوا دینے کے لئے ” احساس محرومیت “ کی بات بڑی کثرت کے ساتھ کی جاتی ہے۔
مگر ہمارا حکمران طبقہ اس حقیقت کو نظر انداز کرنے پر مُصر ہے کہ ” احساس کمتری“ نسلی اور لسانی فرق کی وجہ سے نہیں اس عظیم فاصلے کی بدولت ہے جو وسائل پر قابض طبقے اور ضروریات زندگی سے محروم طبقات کے درمیان موجود ہے۔
میں پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ صوبہ سندھ کے اس سندھی” گروہ“ کے پاس جس کی سربراہی زرداری صاحب کرتے ہیں اور جو کراچی اور اسلام آباد کی اسمبلیوں میں براجمان ہے اس دولت سے سو گنا زیادہ دولت ہے جو باقی کروڑوں سندھیوں کے پاس ہوگی۔
یہی صورتحال پنجاب میں ¾ خیبر پختونخواہ میں اور بلوچستان میں ہے۔
اسلام چودہ صدیاں قبل اسی ظالمانہ نظام کو مٹانے کے لئے آیا تھا۔
اور اسلام ہی مملکت خداداد پاکستان کی حقیقت شناخت ہے۔
آج کا پاکستان بڑی تیزی کے ساتھ لادین قوتوں کے شکنجے میں جارہا ہے۔ اور ان لادین قوتوں کی قیادت پاکستان میں امریکی سفیر کرتا ہے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے۔
اور عصبیتوں نفرتوں اور سازشوں کے خلاف سینہ سپر ہوجانے کا وقت قوم کے پاس نہ رہے۔
جو اکابرین پرچم ستارہ و ہلال کو روز سلامی دیتے ہیں وہ کیا سوچ رہے ہیں ؟

Scroll To Top