متبادل بیانیہ کی ضرورت بڑھ گی

zaheer-babar-logoوزیرِاعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ قوم کے آگے وہ متبادل بیانیہ رکھنا ہوگا جو مذہب کے نام پر فساد کی مذمت کرتا ہے۔لاہور میں جامع نعیمیہ میں منعقد ہونےوالے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کےلئے دینی دلائل تراشے جاتے ہیں اور ہمیں ان کو رد کرنا ہے۔میاانکا کہنا تھا کہ ہمیں فتووں سے آگے نکلنا اور قوم کے آگے متبادل بیانیہ رکھنا ہو گا اور یہی اسلام کا حقیقی بیانیہ ہے اور آج ضرورت ہے کہ اسے عوام کے سامنے رکھا جائے۔
نائن الیون کے بعد ملک میں قتل وغارت گری کے واقعات میں تیزی دراصل اس امر کا تقاضا کرتی رہی کہ قوم کے سامنے ایسا بیانیہ رکھا جائے جو ایک طرف اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہو تو دوسری جانب عصرحاضر کے تقاضوں پر بھی پورا اُترے۔ ظاہر ہے اس کے لیے اربابِ اقتدار کو ہی کردار ادا کرنا تھا جو باجوہ ادا نہ کیا جاسکا۔ ادھر اہل مذہب کی اکثریت بھی بدلے ہوئے ملکی حالات میں اپنی زمہ داریاں پوری نہ کرسکی۔ معاملہ کی سنگینی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کم وبیش ساٹھ ہزار سے زائد شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی شہادت کے باوجود مذہبی جماعتوںنے مشترکہ طورپرایک بھی ایسا احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا جسے بجا طور پرقابل رشک کہا جاسکے۔اس کے برعکس دین کہتا ہے کہ کسی ایک بے گناہ افراد کا قتل گویا پوری انسانیت کا قتل ہے اور کسی ایک انسان کی جان بچانا گویا پوری انسانیت کی جان بچانا ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر مذہبی رہنماو¿ں کی اکثریت پوری قوت سے حرمت جاں کا تصور اجاگر کرتی تو آج یقینا صورت حال مختلف ہوتی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے دراصل اسی اہم موضوع کی جانب علماءکرام کی توجہ مبذول کروائی ہے۔ اعتدال پسندی پر مبنی بیانیے کی اساس پر ہی معاشرہ سازی ہونی چاہیے مزید یہ کہ مدارس کی تعلیم بھی اس کی بنیاد پر استوار ہونی چاہیے۔یہ مطالبہ غلط نہیں کہ علما کو عوام کو بتانا چاہیے کہ وہ معاشرہ مسلم کہلانے کا مستحق نہیں جس میں مسلکی اختلافات کیوجہ سے انسان قتل ہوں، جہاں اقلیتیں خود کو غیرمحفوظ سمجھیں اور جہاں مذہب اختلاف اور تفرقے کا سبب بنیں ۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ علما کو سوچنا ہو گا کہ ہمارے دینی ادارے دین کے مبلغ پیدا کر رہے ہیں یا مسالک کے علمبردار اور اس کے نتیجے میں معاشرہ دین کی بنیاد پر جمع ہو رہا ہے یا پھر تقسیم؟’
وزیراعظم نوازشریف کا کہنا غلط نہیںکہ آج مملکت خداداد پاکستان میں دہشت گردی کے لیے دینی دلائل تراشے جاتے ہیں اور ہمیں ان کو رد کرنا ہے۔“
اہل مذہب کو کھلے دل سے اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہے کہ مذہب کی بنیاد پر قتل وغارت گری کرنےوالوں کا سلامتی کے دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ افسوس کہ آج دہشتگردی کی جڑیں انتہاپسندی میں ہیں ۔ وزیراعظم نوازشریف کا کہنا غلط نہیں کہ انتہاپسندی جو دین کے نام پر پھیلائی جارہی جس کا ایک مظہر فرقہ واریت جبکہ دوسرا مظہر جہاد کے تصور کو مسخ کرتے ہوئے خدا کے نام پر بےگناہوں کے قتل کو جائز قرار دینا ہے۔
مقام افسوس ہے کہ ایک طرف تو اہل اقتدار اپنی شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کے لیے وہ کردار ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوئے جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔عصر حاضر کی ہر ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کا فریضہ سرانجام دیا کرتی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونا بتا رہا کہ آئینی اور قانونی طور پرذمہ دار حلقے اپنی بنیادی زمہ داریوں سے روگردانی کے مرتکب ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف متبادل بیانیہ سامنے نہ آنا حالات کی خطرناک تصویر پیش کررہا۔ آج کسی نہ کسی شکل میںمسلسل انتہاپسند پیدا ہورہے۔ اپنے جیسے مسلمانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے شہید کرنے کا عمل جاری ہے۔ بظاہر اپنے اپنے مسلک کو ہی اصل اسلام قرار دے کر دوسروںسے نفرت اور تعصب کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ ان بیانیوں کی غلطی کو واضح کرتے ہوئے ایک نیا بیانیہ جاری کیا جائے۔
اگر ملک میں دہشت گردی کے واقعات اب بھی ہو رہے ہیں تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہے۔بحیثیت قوم ہمیں اس پر غوروفکر کرنا ہوگا کہ معاشرے میںکیونکر ایسے لوگ موجود ہیں جو انتہا پسندوں اور ان نظریات کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے لیکن حکومت ان کا خاتمہ کرنے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔
بلاشبہ وزیراعظم نوازشریف اس موضوع پر اظہار خیال خوش آئند ہے۔خیال کیا جارہا ہے کہ حکومت اس ضمن میں مذید فعال کردار ادا کرنے جارہی۔ وطن عزیز میں انتہاپسند قوتوںکےخلاف ردالفساد جار ی ہے۔اس آپریشن سے مطلوبہ نتائج اسی وقت حاصل کیے جاسکتے ہیں جب تمام حکومتی ادارے زبانی جمع خرچ کی بجائے عملا ًاپنا کردار ادا کریں۔
ماہ فروری میں دہشت گردی کی نئی لہر میں ملک بھر کے مختلف علاقوں میں ہونی والی کاروائیوں کے نتیجے میں100سے زیادہ افراد شہید ہوئے جس میں قانون نافذ کرنے والے افسران واہلکار بھی شامل ہیں۔ امید کرنا چاہے کہ مستقبل قریب میں وفاقی اور صوبائی حکومت امن وامان کے قیام کے لیے پورے اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں گی جس سے عملا ملک میں سلامتی کے ماحول یقینی بنے گا ۔

Scroll To Top