”سیکولر لابی“ جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے کیوں ناراض ہے

احمد سلمان انور

احمد سلمان انور

کچھ ماہ قبل پاکستان میں مسلسل اہانت رسولﷺو گستاخی صحابہؓ اجمعین کرنے والے مبینہ بلاگرز لاپتہ ہوگئے تھے ۔ کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں اس طرح شہریوں کا لاپتہ ہونا لاقانونیت ہے۔ اور اس پر احتجاج کرنا سب کا حق ہیں ،مگر سلمان حیدر سمیت دیگر افراد کے لاپتہ ہونے والے واقعہ کا ایک مخصوص پس منظر بھی ہے۔ان لاپتہ بلاگرز کو موم بتی مافیا سماجی کارکن بنا کر پیش کررہی تھی مگر درحقیقت یہ سماجی کارکن نہیں تھے ،یہ افراد سماجی کام کی آڑمیں ریاست اور اس کی اداروں کے ساتھ ساتھ عظیم ہستیوں پر سوشل میڈیا میںزہریلا نفرت انگیز مہم چلا رہے ہیں۔ان لوگوں کو سماجی خدمت کی الف بے کا بھی پتہ نہیں اور نا ہی کبھی بھی انہونے سماج کی خدمت کی ہیں۔بلکہ یہ تو آزادی اظہار کے نام پر اسلام ، پیغمبر اسلامﷺ، پاکستان اور صحابہ کرامؓ کی بدترین گستاخی کیا کرتے ہیں۔اور پاکستان میں نفرت اور انتہاپسندی پھیلانے میں مصروف تھے۔سلمان حیدر مبینہ طور پر فیس بک پیج”بھینسا،روشنی اورموچی “کا ایڈمن ہے۔ پاکستان میں کچھ نام نہاد سماجی کارکنوں اور موم بتی مافیا نے ان کی گمشدگی پر بہت واویلا مچایا تھا۔
ایسے سماجی کارکنوں میں ایک نام عاصمہ جہانگیر بھی ہے۔جو کہ پیشہ کے لحاظ سے وکیل اور وجہ شہرت ”انسانی حقوق کی علمبرداری“ اور کارکن ہونا سمجھی جاتی ہے۔عاصمہ پاکستان کے اداروں خصوصاً فوج پر منہ ماری کے لیے مشہور ہے۔ لبرل ازم کی بہت بڑی علمبردار ہے۔عاصمہ جہانگیر نے ان گستاخ بلاگرز کی گمشدگی پر بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوے کہا تھا کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ لوگوں کو ایجنسیاں ہی اٹھاتی ہیں اور باہر سے کوئی نہیں آتا۔
عاصمہ جہانگیر توہین رسالت ﷺ قانون کی بہت بڑی ناقد اور متنازعہ بیانات کے وجہ سے اکثر و بیش تر سماجی حلقوں میں زیر بحث رہی ہے۔
گذشتہ روز ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخیِ رسالتﷺکے اہم ترین مقدمے کے بعد جب وکلاءعدالت سے باہرآئے توطارق اسد ایڈوکیٹ اورعاصمہ جہانگیرکے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔ وکیل طارق اسدکے مطابق عاصمہ جہانگیرجب گاڑی میں بیٹھنے لگی توانہوں نے دریافت کیا کہ آج آپ اس معاملے میں میرے ساتھ ہیں ؟ توعاصمہ جہانگیرنے کہاکہ کس معاملے میں ؟اسد نے کہا کہ فیس بک پرتوہین رسالت کے واقعات کی روک تھام کے معاملے میں ،تواس موقع پرعاصمہ جہانگیر نے کہاکہ میں فیس بک استعمال نہیں کرتی تو میں نے کہاکہ اگرچہ آپ فیس بک استعمال نہیں کرتی مگرمقدمے کی سماعت میں توآرہی ہیں ناں۔ جس پرعاصمہ جہانگیرنے کہاکہ مجھے فیس بک اوریہ معاملہ دیکھنے کی ضرورت نہیں اوراس موقع پرعاصمہ جہانگیربھپرگئیں اور کہا کہ عدالت میں جج نہیں مولوی بیٹھاہواہے اور اس نے عدالت کو مسجد بنا دیاہے میں اس کو نہیں مانتی۔ جس پرطارق اسدایڈوکیٹ نے کہاکہ میڈم میں نے ماضی میں آپ کے متعلق جو کہا تھا وہ درست تھا جس پرعاصمہ جہانگیر گاڑی سے باہرنکل آئیں اورطارق اسد پر حملے کی کوشش کی مگروہاں پر موجود افرادنے بیچ بچاﺅکروایا اوراس موقع پر عاصمہ جہانگیرکے سیکورٹی گارڈ بھی اترآئے طارق اسدایڈوکیٹ نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں عاصمہ جہانگیر سے معافی مانگنے کوتیارہوں وہ اگر میڈیا کے سامنے ختم نبوت کااقرارکرلیں۔
آج ان لوگوں کی حمایت کرنے والے نام نہاد اینکر ،صحافی، سیاست دان ،بلخصوص پاکستان پیپلزپارٹی اور ان کے سینیٹرز بتا سکتے ہیں کہ آزادی اظہار کا کونسا قانون مقدس ہستیوں پر تنقید کی اجازت دیتا ہے۔
میںعاصمہ جہانگیر صاحبہ کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دور صحابہؓ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے۔کیا عاصمہ جہانگیر اپنے ایمان کے بنیادی جزو کا حق ادا کریں گی ؟ یا اُن ناقدین کے باتوں میں دَم ہے جو عرصہ دراز سے عاصمہ جہانگیر کی شخصیت پر سوالات اُٹھاتے آئے ہیں ؟ فیصلہ آنے والا وقت کر ے گا۔

Scroll To Top