پانچ قالب ایک جان

ہمارے سیاستدان فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے میں فوج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) فوج کو یہ یقین دِلا رہی ہے کہ وہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے مشن میں پوری طرح فوج کے ساتھ ہے اور فوجی عدالتوں کو جلد از جلد دوبارہ فعال دیکھنا چاہتی ہے۔
لیکن حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اتحادی فوجی عدالتوں کو آزادانہ طور پرکام کرنے کا اختیار نہیں دینا چاہتے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس ضمن میں جو 9نکاتی فارمولا پیش کر رکھا ہے وہ درحقیقت میاں صاحب کی درپردہ حمایت کے بغیر تیار نہیں کیا گیا۔
10مارچ کو مسلم لیگ (ن) نے اپنا بل قومی اسمبلی میں یہ جان کر پیش کیا کہ دوسری جماعتیں اس کی مخالفت کریں گی۔ یوں ایک طرف میاں صاحب فوج کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہیں گے کہ وہ خلوصِ دل سے فوجی عدالتوں کا قیام چاہتے ہیں اور دوسری طرف فوجی عدالتوں میں توسیع کا معاملہ بدستور تعطل کا شکار رہے گا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سپیکر ایاز صادق نے ایک بار پھر اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا بیڑا اُٹھایا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو گا۔ کیوں کہ کوئی بھی سیاستدان نہیں چاہتا کہ ان کے معاملات میں فوج کا کسی بھی قسم کا عمل دخل ہو۔ ہر سیاستدان کا کوئی نہ کوئی ”ڈاکٹر عاصم حسین“ ضرور ہے۔ بلکہ کچھ سیاستدان خود ”ڈاکٹر عاصم حسین “ ہیں۔
جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے سیاستدان اُنہیں سیاستدان مانتے ہی نہیں۔ بلکہ اُن کے خلاف پراپیگنڈہ یہ کیا جاتا رہا ہے کہ انہیں فوج نے کھڑا کر رکھا ہے تاکہ ”مک مکا جمہوریت “ کے سر پر ایک تلوار لٹکتی رہے۔
میاں نواز شریف نے گذشتہ دنوں کویت جا کر بھی یہی رونا رویا تھا کہ فوجی آمر آکر ملک کا ستیاناس کر دیتے ہیں۔ یہ انہوں نے نہیں بتایا کہ اب انہیں خطرہ کہاں سے محسوس ہور ہا ہے۔
خطرہ بہرحال موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میاں صاحب ،زرداری صاحب، مولانا فضل الرحمن، اسفندیار ولی خان اور محمود خان اچکزئی سب ”جمہوریت “ کی حفاظت کے معاملے میں”یک جان “ ہیں۔
یہ لوگ ”پاناما“ کے خطرے سے کیسے نمٹیں گے کوئی نہیں جانتا ۔

Scroll To Top