تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


مہاجرین و انصار اور قریشیوں کا اقتدار بھی نو مسلم بہادروں کی کثرت کے سبب ہلکا پڑنے لگا تھا۔ مدینہ منورہ میں بھی با اثر اور طاقتور لوگوں کی یک دل جمعیت کمزور ہو کر قریباً معدوم ہو چکی تھی۔ لہٰذا بنو امیہ نے ان تمام باتوں سے فائدہ اٹھانے میں کمی نہیں کی۔ حضرت عثمان غنیؓ کی نرم مزاجی سے تو انہوں نے یہ فائدہ اٹھایا کہ مروان بن الحکم کو ان کا میر منشی ہونے کی حالت میں بنو امیہ کا ایسا حامی وطرف دار بنا دیا کہ اس نے جا اور بے جا ہم وقت اور بہر طور بنو امیہ کو فائدہ پہنچوانے، آگے بڑھانے ، طاقتور بنانے میں مطلق کو تاہی نہیں کی۔
جب ملکوں اور صوبوں کی گورنریاں زیادہ تر بنوامیہ ہی کومل گئیں اور تمام ممالک اسلامیہ میں ہر جگہ بنو امیہ ہی حاکم اور صاحب اقتدار نظر آنے لگے۔ تو انہون نے اپنے اقتدار رفتہ کے واپس لینے یعنی بنو ہاشم کے مقابلہ میں اپنا مرتبہ بلند قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ بنو ہاشم اور دوسرے قبائل کو بھی بنو امیہ کی ان کوششوں کا احسسا ہوا۔ یہ کہنا کہ خود حضرت عثمان غنیؓ بنو امیہ کی ایسی کوششوں کے متحرک اور خواہش مند تھے سراسر بہتان و افترا ہے کیونکہ ان کے اندر کسی سازش، کسی پالیس، کسی منافقت کا نام ونشان تک بھی نہیں بتایا جا سکتا۔ ان کی نرم مزاجی ، درگزر اور رستہ داروں کے ساتھ نیک سلوک سے پیش آنے کی دونوں صفتوں نے مل کر بنو امیہ کو موقع دے دیا کہ وہ اپنے قومی و خاندانی اقتدار کے قائم کرنے کی تدبیروں میں مصروف ہوں اور اس طرھ عہد جاہلیت کی فراموش شدہ اقابتیں پھر تازہ ہو جائیں۔ ان رقابتون کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے مال ودولت کی فروانی اور عیش و تن آسانی کی خواہش نے اور بھی سہارا دیا۔ اس قسم کی باتون کا وہم و گمان بھی صدیقی و فاروقی عہد خلافت میں کسی کو نہیں ہو سکتا تھا۔ اس موقع پر مجبوراً یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر چہ خاندان والون اور رشتہ دارون کے ساتھ احسان کرنا ایک خوبی کی بات ہے لیکن اس اچھی بات پر ایک خلیفہ کو عمل درآمد کرانے کے لئے بڑی ہی احتیاط کی ضرورت ہے اور حضرت عثمان غنیؓ سے شاید کماحقہ احتیاط کے برتنے میں کمی ہوئی اور مروان بن الحکم اپنے چچا زاد بھائی کو آخر وقت تک اپنا کاتب یعنی میر منشی اور وزیر و مشیر رکھنا تو بلا شک اختیار کے خلاف تھا۔ نہ اس لئے کہ وہ آپ کا رشتہ دار تھا بلکہ اسلئے کہ وہ اتقا اور روحانیت میں ناقص اور اس مرتبہ جلیلہ کا اپنی قابلیت وخصائل کے اعتبار سے اہل اور حقدار نہ تھا۔
حضرت عثمان غنیؓ کے خلیفہ ہوتے ہی ایرانی صوبوں میں جگہ جگہ بغاوتیں ہوئیں۔ مگر اسلامی فوجوں نے باغیوں کی ہر جگہ کوشمالی کی اور تمام بغاوت زدہ علاقوں میں پھر امن و امان اور اسلامی حکومت قائم کر دی۔ ان بغاوتون کے فرو کرنے میں ایک یہ بھی فائدہ ہوا کہ ہر باغی صوبہ کے سرحدی علاقوں کی طرف بھی توجہ کی گئی اور اس طرح بہت سے نئے نئے علاقے بھی مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ مثلاً جنوبی ایران کی بغاوتوں کو فرو کرنے کے سلسلے میں سیستان و کرمان کے صوبوں پر بھی مسلمانون کا قبضہ ہوا۔ شمالی ومشرقی ایران کی بغاوتوں، ترکوں اور چینیوں کی چڑھائیوں کے انسداد کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہرات، کابل، بلخ اور جیحون پار کے علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔ رومیوں نے مسرو اسکندر یہ پر چڑھائیاں کیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رومیوں کو مسلمانوں نے شکست دے کر بھگا دیااور جزیرہ سائپرس اور روڈ س پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔ افریقہ کے رومی گورنر نے فوجیں جمع کر کے مصر کی اسلامی فوج کو دھمانا چاہا۔ جس کا نتیجہ ہوا کہ برقہ طرابلس تک کا علاقہ مسلمانوں کا قبضہ میں آگیا۔ اسی طرح ایشیائے کو چک کی رومی فوجوں نے بھی ہاتھ پاو¿ں ہلانے چاہے۔
(جاری ہے….)

Scroll To Top