پاکستان میں لوگ گھروں کے اندر جوتے کیوں نہیں پہنتے؟

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ پاکستان میں باہر پہننے کے لیے استعمال کیے جانے والے جوتوں کو گھروں کے اندر پہنا نہیں جاتا یا اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔

درحقیقت جوتوں کو گھروں کے اندرونی حصوں میں داخل ہونے سے پہلے اتار دیا جاتا ہے اور اس کی وجہ درحقیقت صفائی کا خیال ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ایری زونا یونیورسٹی کی تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا گیا تھا کہ ایشیائی گھروں کے اندر جوتوں کا استعمال کیوں نہیں کیا جاتا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسا گھروں کی صفائی کے لیے ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہاں رہنے والے مختلف امراض سے بچ بھی جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق نظام تنفس اور ہاضمے کے امراض کا باعث بننے والے 96 فیصد بیکٹریا باہر پہنے والے جوتوں کے نیچے چپک جاتے ہیں جس کی وجہ عوامی واش رومز کا استعمال یا جانوروں کے فضلے کا ان پر لگنا ہوتا ہے، اس طرح یہ بیکٹریا طویل فاصلہ طے کرکے کہیں بھی پہنچ جاتے ہیں اور اس جگہ کو آلودہ کرکے امراض پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔

اسی طرح پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا باعث بننے والے جراثیم بھی جوتوں کے ذریعے گھروں تک پہنچتے ہیں جبکہ نظام تنفس کے امراض یعنی نمونیا اور دیگر کا خطرہ بڑھانے والے بیکٹریا بھی اسی طرح حملہ آور ہوتے ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ باہر پہنے والے جوتوں کو گھر کے اندر لانے سے نوے سے 99 فیصد تک امکان بڑھ جاتا ہے کہ وہ بیکٹریا گھر کے فرش پر منتقل ہوجائے گا جو بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

اس سے ہٹ کر بھی مختلف کیمیکلز اور زہریلے مواد بھی سڑکوں اور باہر دیگر مقامات سے ان جوتوں کے ذریعے گھروں کو آلودہ بنا سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ جوتوں کو واشنگ مشین میں دھو کر ان بیکٹریا کو نوے فیصد تک ختم کیا جاسکتا ہے مگر پھر جوتے کی زندگی کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔

تو ان امراض سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ جوتوں کو گھر سے باہر ہی رکھا جائے۔

Scroll To Top