تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


حضرت عثمان غنیؓ تو پہلے ہی سے مال دار شخص تھے۔ خلیفہ ہونے کے بعد بھی ان کی اور سابقہ ہر دوخلفاءکی حالت میں نمایاں فرق نظر آنا چاہئے تھا۔ چنانچہ وہ فرق نظر آیا۔ فاروق اعظمؓ کے آخر زمانے تک فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور دولت مندوز رخیز علاقے ان کے زمانے میں مسلمانوں نے مسخر ومفتوح کئے۔ ان کی دولت تو مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی اور آرہی تھی لیکن وہ اس دولت کے استعمال اور عیش و راحت حاصل کرنے کے طریقوں سے آشنا تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں مسلمانوں نے حاصل شدہ دولت سے عیش حاصل کرنا شروع کیا۔مدینہ کے معمولی چھیر محلوں اور ایوانوں کی شکل میں تبدیل ہونے لگے۔ لوگوں کے دلوں میں جائیداد حاصل کرنے اور روپیہ جمع رکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس شوق کے ساتھ ہی سپہ گری و مردانگی کا خصوصی جذبہ جو مسلمانوں اور عربوں کا امتیازی نشان تھا، کافور ہونے لگا۔ سپاہیانہ اخلاق کی جگہ آج کی اصطلاح کے مطابق رئیسانہ اخلاق پیدا ہونے لگے۔ جن کو حقیقتاً زمانہ اخلاق کہنا چاہئے اور یہ سب سے بڑی مصیبت اور سب سے بڑی بد نصیبی تھی جو مسلمانوں پروار ہوئی۔
صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ کے زمانے تک قریشی اور حجازی عرب جس میں اکثریت آنحضرتﷺ کا زمانہ دیکھے ہوئے تھی۔ ایک غالب عنصر کی حیثیت سے موجود تھے۔ وہ سب کے سب اسلام کو اپنی چیز سمجھتے اور اپنے آپ کو اسلام کا وارث جانتے تھے۔ اسلام کے مقابلے میں قبائلی امتیاز ان کے دلوں سے بالکل مٹ گئے تھے۔ اسلام کے رشتے سے بڑھ کر ان کے نزدیک کوئی رشتہ نہ تھا اور اسلام سے بڑھ کر ان کے لئے کوئی محبوب چیز نہ تھی۔ فتوحات کے وسیع ہونے اور ممالک اسلامیہ کے کثیر ہونے سے مسلمانوں کی افواج اور مسلمانوں کی جمعیت میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی جو ابھی چند روز سے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان کے دلوں میں اسلامی محبت قبائلی امتیاز اور قومی و خاندانی خصوصیات پر غالب نہیں ہونے پائی تھی۔ عہد فاروقی کی فتوحات کثیرہ و عظیمہ جن افواج کے ذریعہ ہوئیں ان میں بنی بکر، بنی وائل، بنی عبدالقیس، بنی ربیعہ، بنی ازد، بنی کندہ، بنی تمیم، بنی قضاعہ وغیرہ ہم قبائل کے لوگ زیادہ تھے۔انہیں لوگوں نے ایرانی صوبوں، شامی علاقون اور مصرو فلسطین وغیرہ کو فتح کیا تھا۔ انہیں کے ذریعہ ایرانی و رومی شہنشاہیوں کے پرخچے اڑے تھے لیکن ان مذکورہ قبائل میں سے کوئی بھی قبیلہ ایسا نہ تھا جو آنحضرتﷺ کی شرف صحبت سے فیض یاب ہوا ہو۔ ان میں سے اگر کوئی شخص آنحضرتﷺ کا فیض صحبت پائے ہوئے تھا تو ایسے لوگوں کی تعداد الشاذ کالمعدوم کے حکم میں تھی۔ یہ تمام قبائل جو اسلام کی جرار فوج ثابت ہوئے معصیت سوز ایمان اور مجنونانہ شیفتگی اسلام میں قریشی اور حجازی صحابہ کرامؓ کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے تھے۔ مگر فاروق اعظمؓ کی نگاہ اس قدرو سیع و عمیق تھی کہ ہر مسئلہ کی جزئیات تک کا ان کو احاطہ تھا۔ انہوں نے ایسا نظایم قائم کر رکھا تھا اور مہاجرو انصاری کی سیادت کی ایسی حفاظت کی کہ ان کے عہد خلافت میں یہ ممکن ہی نہ ہوا کہ کوئی غیر مہاجر یا انصار کی ہمسری کا خیال تک بھی لا سکے۔ تمام مہاجرین و انصار کی حیثیت فاروق اعظمؓ کے زمانہ میں ایک شاہی خاندان اور فاتح قوم کی تھی۔ فاروق اعظمؓ نے ایک طرف بڑی کوشش اور احتیاط کے ساتھ اپنی فتح مند فوج اور صف شکن عربی سپاہیوں کے خصوصی سپاہیانہ اور جوانمردانہ جذبات کی حفاظت و نگرانی کی حتیٰ کہ شام کے خوش سواد شہروں اور سامان عیش رکھنے والی بستیوں میں یا ان کے قریب بھی عہد فاروقی ؓ میں اسلامی فوجیوں کو قیام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا تھا۔

Scroll To Top