ملکی تاریخ کا اہم اور حساس ترین مقدمہ

احمد سلمان انور

احمد سلمان انور

اللہ تبارک وتعالی نے کسی بھی شخص کو نبی کریم ﷺ سے زیادہ عزت والا نہیں پیدا فرمایا، اور میں نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور انسان کی زندگی کی قسم کھائی ہو۔خالق کائنات نے امام الانبیائ، سید المرسلین، فخر موجودات، رسالت مآب حضرت محمد کو جس مقام بلند وبرتر سے سرفراز فرمایا ہے اس سے نہ صرف ہر صاحب ایمان بلکہ ہر فردِ بشر بخوبی واقف ہے۔
آج بھی اُمت محمدیہ و ملت اسلامیہ کی عظمت ورفعت، شان وشوکت، قوت وطاقت اور اس کا جلال و ہیبت صرف اور صرف اپنے نبی پاک کے ساتھ والہانہ تعلق، عشق و وارفتگی، اور ان کی محبت وعظمت کے ساتھ وابستہ ہے۔
ایک مسلمان خواہ وہ کیسا ہی بد عمل ہو، اور کتنا ہی بحر عصیاں میں غرق ہو لیکن وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس کے ایمان کی تکمیل محبت نبوی کے بغیر ہوہی نہیں سکتی، وہ سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن رسالت مآب ﷺ کی شان اقدس کے خلاف ذرہ برابر ہرزہ سرائی اور یاوہ گوئی کو بالکل بھی برداشت نہیں کرسکتا۔
دنیا کا کوئی قانون کسی کے بھی مذہبی عقائد کا مذاق اڑانے، کسی بھی نبی کی گستاخی کرنے یا مذہبی شخصیات کے حوالے سے فحش گوئی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا کے ایک ارب ساٹھ کروڑ سے زائد مسلمانوں میںکوئی کمزور سے کمزور ایمان والا مسلمان بھی توہین رسالت کے مرتکب شیطان کو معاف نہیں کرسکتا۔
لیکن پاکستان میں ملحدین کی سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام کےخلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کی گئی یلغار شاید اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، بھینسا، روشنی اور جگنو جیسے پیجز پر اسلامی عقائد، قرآن، حدیث ، سیرت، تاریخ پر لغویات ، بکواسیات اور گستاخیوں کا سلسلہ کافی عرصہ سے جاری ہے۔ ماضی قریب میں مبینہ طور پریہ گستاخ بلاگرزلاپتہ ہوئے تو موم بتی مافیا اور لبرل ازم کے پجاریوں نے خوب واویلا مچایا۔ ایک اذیت ناک امر یہ بھی ہے کہ مسلمان معاشرے کی توڑپھوڑ اور نئی صورت گری کے لیے مغرب اور ہندوستان کے پاس قابل فروخت مال سیکولرازم ہی ہے۔ حرمت رسولﷺ پر کبھی قادیانیت اور کبھی لبرل ازم اور آزادی رائے کی آڑمیں گستاخیوں کا سلسلہ ایک عرصہ سے چلاآرہا ہے۔
یہاں میر ے لئے حیران وپریشان کن بات یہ بھی ہے کہ ان بلاگرز کی گمشدگی پر تو” جناب چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی “ نے بھی خوب ہرزہ سرائی کی۔ لیکن اللہ، رسول ﷺ اور صحابہ ؓ کی شان میں ہونے والی بدترین گستاخیاں شاید جناب موصوف کے ضمیر کو جھنجھوڑنے میں اب تک ناکام رہی ہیں۔
بعداز اں مبینہ طور پر یہ بلاگرز جو اللہ اور اس کے حبیب سرور کائنات ﷺ کی شان اقدس میں حد سے تجاوز گستاخیوں کے مرتکب ہیں، اور پھر راہ فرار اختیار کر کے غائب ہو گئے۔ لیکن گستاخیوں کا سلسلہ پورے زرو شوور سے جاری ہے۔ جس پر بحیثیت قوم، مسلمان اور علماءہماری مجرمانہ خاموشی عذاب الٰہی کودعوت دی رہی ہے۔
”بھینسا” نامی جیسے گستاخ پیجزتوکیا بند ہونا تھا الٹا ”پاکستانی پری تھنکر“ جیسے گستاخانہ اکاﺅنٹ سامنے آئے ہیں جن میں قرآن پاک، آنحضرتﷺ اور قومی اداروں کی بدترین توہین کی جارہی ہے ۔مگر لگ یوں رہا ہے کہ حکومتِ وقت میں شامل بعض امریکی راتب خور ان ملعون گستاخان رسولﷺ کےخلاف کارروائی نہ کرکے نہ صرف فوجی آپریشن ردالفساد کو ناکام بنانے پر تلے بیٹھے ہیں، بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی جذبات ساتھ ایک گھناﺅنا کھیل کھیل رہے ہیں ۔یاد ہو گا کہ ان مبینہ گستاخ بلاگرز پرجب ایف آئی اے کی جانب سے ایف آئی آر کاٹی گئی تو وزیر داخلہ چوہدری نثار خود ان کے دفاع میں میدان میں کو د پڑے ۔
27 فروری کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا میں خاتم النبین ﷺ اور آپﷺ کے عظیم صحابہ کرام کی شان اقدس میں بدترین گستاخیوں کے خلاف پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے سوشل میڈیا میں تمام گستاخانہ پیجز فوری طور پر بلاک کرنے اور سوشل میڈیا پر بدترین گستاخی کے مرتکب موذی شیطانوں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔مگر نہ تو سوشل میڈیا پر جاری گستاخانہ پیجز بند ہوئے۔ نہ کسی گستاخ رسول کو انصاف کے کٹہر ے کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔پاکستان کے99 فیصد مسلمان”شریف“ حکومت کی گستاخ فسادیوں کے خلاف حد سے بڑھی ہوئی نرمی اور پردہ پوشی کو دیکھ کر حیران و پریشان ہیں ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی اور متعلقہ پیجز بلاک نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو عدالت طلب کر لیا ہے۔دوران سماعت فاضل جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جو لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں انہیں آج دہشت گرد قرار دیتا ہوں، شافع روز محشر حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی سے بڑی دہشت گردی اور کیا ہو گی، ہم اس معاملے کو بیورو کریسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے ، گستاخی کے مرتکب افراد اور اس پر خاموش تماشائی بننے والوں کے خلاف کارروائی ضرور ہو گی۔ بھینسے ہوں یا گینڈے، سور ہوں یا کتے سب بلاک ہونے چاہئیں ، ہمیں تیکنیکی مسائل میں نہیں پڑنا ، اگر بلاک نہیں کرسکتے تو پی ٹی اے کو بند کر دیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی آرڈر لکھواتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ حساس نوعیت کے اس معاملے پر انتظامیہ کی خاموشی شرمناک ہے ، مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی سے پورے ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے ، معاملے پر فوری کارروائی نہ ہوئی تو مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو سکتا ہے۔ عدالت پہلے آبزرویشن دے چکی ہے کہ اگر حضور پاک ، صحابہ کرام ، اہل بیت ، ازواج مطہرات ، قرآن پاک اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کے مرتکب گندی سوچ کے حامل افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی تو ملک میں امن عامہ کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔
یقینادہشتگردی کےخلاف فوجی آپریشن ردالفساد بھی اس وقت تک کامیاب ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ تک توہین رسالتﷺاور توہین صحابہ ؓکے مرتکب فسادیوں جیسے فتنوںسے اس سرزمین کو پاک نہیں کر دیا جاتاہے۔

Scroll To Top