اہل سیاست مسائل کا خاتمہ چاہتے ہیں ؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ حکام پاکستان سے جمع کروائے جانے والے کالے دھن کے بارے میں معلومات دینے پر راضی ہو گئے ، اس ضمن میں اسی ماہ ایک معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔
قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں سوئٹزرلینڈ جائے گا جہاں سوئس حکام کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط ہوں گے۔“
وطن عزیز کے باشعور شہری باخوبی آگاہ ہیں کہ یہاں کے بااختیار طبقہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو غیر قانونی طور پر پاکستان سے ناجائز ذرائع سے حاصل کی جانے والی رقم بیرون ملک منتقل کرنے میں کھلے عام ملوث ہیں۔ قابل افسوس ہے کہ گزرے ماہ وسال میں اگر یہ عمل جاری رہا تو اب بھی کسی نہ کسی شکل میں ایسی مجرمانہ سرگرمیاں ہورہیں۔ اس ضمن میںیہ کہنا غلط نہیں کہ اس حمام میں سارے ہی نگے ہیں۔ سیاستدان ہوں یا مذہبی جماعتوں کے رہنما، بیوروکریسی ہو یا بزنس مین ہر کوئی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا رہا۔ معاملہ کی سنگینی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ سال ماڈل ایان علی بھاری مقدار میں ڈالرغیر دوبئی منتقل کرتے ہوئے پکڑی گئیں، وہ جیل بھی گی مگر بعدازاں بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوگی۔
ایک خیال یہ کہ ملک کا طاقتور طبقہ پاکستان سے بیرون ملک رقم منتقل کرنے میں اس لیے ملوث ہے کہ اسے کہیں نہ کہیں اس بات کا ڈر ہے کہ ایک نہ ایک دن ملکی قانون کی روشنی میں وہ پکڑا جاسکتا ہے۔ دوسرا سبب یہ کہ دنیا کے معاشی لحاظ سے طاقتور ممالک کی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ترقی یافتہ وترقی پذیر ممالک کے امتیاز سے قطع نظر دولت جمع کرنے کی تر غیب دیتے نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں منظر عام پر آنے والا پانامہ لیکس کا سیکنڈل اس کا بڑا ثبوت ہے۔ بلاشبہ یہ پہلو کسی طور پرنظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پانامہ لیکس میں کم وبیش چار سو بااثر پاکستانیوں کے نام ہیں جن میں وزیراعظم کے بچے بھی شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب خود حکمران طبقہ اپنے اثاثہ جات بیرون ملک رقم پر آمادہ ہے تو پھر کوئی دوسرا پاکستانی یہاں کیونکر سرمایہ کاری کریگا ۔وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا اعلان اپنی جگہ مگر امکان کم ہے کہ عملا سوئس بنکوں میں پاکستانیوںکی رقم پاکستان آموجود ہو۔
بعض حلقوںکا موقف ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں سے پاکستانی سیاست میں جن سیاست دانوں نے ڈیرہ ڈال رکھے ان کی اکثریت کا تعلق بزنس کمینونٹی سے ہے ۔ ہر معاملہ کو نفع ونقصان کے تناظر میں دیکھنے والے لوگوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ ملک وملت کی مشکلات کم کرنے کے لیے تن من اور دھن سے دریغ نہیںکریں گے شائد درست نہ ہو۔
بتایا جارہا ہے کہ سوئس بینک میں پاکستانیوں کے تقریبا ایک ارب ڈالر موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ دراصل حکومت2005 سے سوئٹزرلینڈ کے حکام سے یہ معلومات فراہم کرنے کے معاملے پر مذاکرات کرتی رہی کہ وہ ان تمام پاکستانیوں کے ناموں سے آگاہ کرے جو سوئس بنکوں میں اپنی رقم جمع کرنے کے کھیل میںملوث ہیں مگر بقول انکے اس معاہدے پر اس لیے پیش رفت نہ ہو سکی کہ سوئس حکام پاکستان سے سوئٹزر لینڈ کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے اور ٹیکسوں میں چھوٹ جیسے مطالبات کر رہے تھے جنھیں تسلیم نہیں کیا گیا۔
حکومت یہ دعوی بھی کررہی کہ سوئس حکام پاکستان کی شرائط پر اس معاہدے پر دوبارہ بات چیت کے لیے رضامندی ظاہر ہوچکے۔یاد رکھا جانا چاہے کہ سوئس بنکوں میں پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کے سرمایہ داروں کے پیسے بارے کئی غیر ملکی صحافی تنظمیں تحقیقات کرتی رہی ہیں۔ مثلا ایک عالمی صحافتی گروپ کی دوہزار پانچ می کی جانے والی تحقیق کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں واقع پرائیوٹ بینک اکاونٹس میں پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ ڈالر اکانٹ رکھنے والے ممالک میں 48ویں نمبر پر قرار پایا۔
انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کی رپورٹ نے تو یہ بھی دعوی کیا کہ پاکستان سے تقریبا پچاسی کروڑ دس لاکھ ڈالر ایچ ایس بی سی کی سوئس برانچ میں رکھے گئے ۔ دراصل یہ اعداد و شمار محض 1988 سے لے کر 2006 تک کے ہیں۔ پاکستان سے منسلک اکانٹس میں سب سے زیادہ رقم تیرہ کروڑ تیس لاکھ ڈالر کی تھی جس کے کھاتہ دار کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی۔بتایا گیا کہ سنہ 1970 اور 2006 کے درمیان پاکستان سے منسلک بینک اکانٹس رکھنے والے 648 کھاتہ داروں نے ایچ ایس بی سی سوئس بینک میں تین سو چودہ اکانٹس کھلوائے جن میں سے 34 فیصد کھاتہ دار پاکستانی قومیت رکھتے ہیں۔
پاکستان میں منی لائنڈرنگ کا معاملہ ہر لحاظ سے سنگین معاملہ ہے مگر مسقبل قریب میں یہ امید نظر نہیں آتی کہ ملک کا طاقتور طبقہ اس خرابی کو دور کرنے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرے۔ پانامہ لیکس کے سپریم کورٹ میں جانے سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اعلی عدلیہ اس معاملہ کی اہمیت کے پیش نظر ایسا فیصلہ سنا ڈالے جس کی روشنی میں پارلمینٹ قانونی سازی کرنے پر مجبور ہوجائے۔

Scroll To Top