انسانی جذبات و احساسات معلوم کرنے والی وائرلیس ٹیکنالوجی ایجاد

بوسٹن: امریکی سائنسدانوں نے ایک ایسا دلچسپ آلہ ایجاد کیا ہے جو وائرلیس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی شخص کے تاثرات اور احساسات کا بہت حد تک اندازہ لگاسکتا ہے۔

میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس اینڈ آرٹیفشل انٹیلیجنس کے 3 سائنسدانوں نے ’ای کیو ریڈیو‘ نامی ایک نظام بنایا ہے جو چہرے کے تاثرات نوٹ کرکے 87 فی صد درستگی تک یہ بتاسکتا ہے کہ وہ شخص سنجیدہ ہے یا افسردہ، خوش ہے یا اداس۔ یہ آلہ دل کی دھڑکن اور سانس لینے کی رفتار نوٹ کرکے ہیجان، غصے اور دیگر احساسات سے آگاہ کرسکتا ہے اور وہ بھی کسی جسمانی سینسر کے بغیر یعنی اس میں بدن کے کسی حصے میں سینیسر یا الیکٹروڈ لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

اسے ایم آئی ٹی کی پروفیسر دینا کتابی کی نگرانی میں ان کے دو طالبعلموں نے تیار کیا ہے جسے صحت، صنعت اور تفریحی انڈسٹری میں استعمال کیا جاسکے گا۔ واضح رہے کہ دینا کتابی، شام کے شہر دمشق میں پیدا ہوئیں اور اب ایم آئی ٹی میں وائرلیس ٹیکنالوجی کی پروفیسر ہیں۔

دینا کے مطابق انسانی آنکھ ہمیشہ دوسرے کے احساسات اور تاثرات پڑھنے سے قاصر رہتی ہے۔ ان کے طالبعلموں منگمن ژیاؤ اور فضل ادلیب نے ان کی نگرانی میں جو نظام بنایا ہے اس کی مدد سے مستقبل میں محض وائرلیس کے ذریعے ڈپریشن، پریشانی اور گھبراہٹ کو نوٹ کیا جاسکے گا۔

گھروں میں بیمار افراد اور بزرگوں کی کیفیت معلوم کرنے میں بھی یہ ٹیکنالوجی ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ای کیو ریڈیو دل کی دھڑکن اتنی ہی اچھی طرح معلوم کرسکتا ہے جس طرح ای سی جی سے پتا کی جاتی ہے۔

ای کیو ریڈیو کسی شخص کی جانب ریڈیائی لہریں بھیجتا ہے جو ریڈار کی طرح اس شخص سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں اور دل کی دھڑکن اور سانس لینے کی رفتار کا اندازہ لگاتی رہتی ہیں؛ اور ایک الگورتھم اس کی تشریح کرتا ہے۔ اس طرح یہ مشین کسی بھی شخص کے احساسات کو 70 سے 80 فیصد درستگی سے نوٹ کرسکتی ہے۔

Scroll To Top