آلودہ ماحول سے سالانہ 17 لاکھ بچوں کی ہلاکت

اگر حاملہ خاتون آلودہ ماحول میں رہتی ہے تو اس کا اثر پیدا ہونے والے بچے پربھی ہوتا ہے، ڈبلیو ایچ او، فوٹو؛ فائل

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 5 سال تک کے ہر 4 میں سے ایک بچے کی موت کی وجہ آلودہ رہائش اور ماحول کو قرار دیا جاسکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی سربراہ ڈاکٹر مارگریٹ چین کے مطابق آلودگی سے بھرپور ماحول خصوصاً بچوں کے لیے ہلاکت خیز ہے کیونکہ اس عمر کے بچوں میں سانس لینے، اعضا بننے اور امنیاتی نظام تشکیل پا رہے ہوتے ہیں اور آلودگی انہیں بری طرح تباہ کرکے بچوں کو موت کے دہانے تک پہنچادیتی ہے۔ یعنی آلودہ ہوا اور گندا پانی ان کی موت کی بڑی وجوہ میں سے ایک ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا ہے کہ گھر کے اندر اور باہر کی آلودگی، سگریٹ کا دھواں، آلودہ پانی، ناکافی نکاسی آب اور صحت و صفائی کی ابتر سہولیات ان آلودگیوں میں شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی 2 نئی رپورٹوں کے مطابق ان آلودگیوں سے  سالانہ 17 لاکھ بچے لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ ایک ماہ سے 5 سال تک کے بچوں میں موت کی بڑی وجہ ملیریا، ہیضہ اور نمونیہ وغیرہ شامل ہیں اور اگر صفائی رکھنے کے ساتھ معیاری ایندھن کا استعمال کیا جائے تو ان اموات کو روکا جاسکتا ہے، سب سے بڑھ کر صاف اور محفوظ پانی سے بھی بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے روکا جاسکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر کوئی حاملہ خاتون آلودہ ماحول میں رہتی ہے تو اس کا اثر پیدا ہونے والے بچے پر بھی ہوتا ہے جن سے وزن میں کمی، قبل از وقت پیدائش اور دیگر نقائص والے بچے پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے بچے گھر کے اندر لکڑی اور آلودہ ایندھن کے دھویں سے شدید متاثر ہوتے ہیں جس سے نمونیا اور سانس کی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر بچوں کو شروع سے ہی آلودگی سے دور رکھا جائے تو اس سے ان کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی بقیہ زندگی بھی بہتر گزرتی ہے۔

Scroll To Top