جاپانی سائنس دان یوشینوری اوشومی کے لیے طب کا نوبیل انعام

Yoshinori Ohsumi

ڈاکٹر یوشینوری اوشومی نے ان جینز کو ڈھونڈ نکالا ہے جو آٹوفیگی یعنی خلیات کے ‘سیلف ایٹنگ’ یا خود خوری کے عمل کا انتظام کرتے ہیں

طب کے شعبے میں سنہ 2016 کا نوبیل انعام جاپان سے تعلق رکھنے والے سائنسدان یوشینوری اوشومی کو دیا گیا ہے۔

انھیں یہ انعام ان دریافتوں پر ملا ہے کہ کیسے خلیے فضلے کو ری سائیکل کر کے صحتمند رہتے ہیں۔

ڈاکٹر یوشینوری اوشومی نے ان جینز کو ڈھونڈ نکالا ہے جو آٹوفیگی یعنی خلیات کے ‘سیلف ایٹنگ’ یا خود خوری کے عمل کا انتظام کرتے ہیں اور انھیں جینز میں خرابیاں بیماریوں کی وجہ بنتی ہیں۔

ان کا کام اس لیے اہم ہے کہ اس سے کینسر سے پارکنسنز تک مختلف بیماریوں میں خلیوں کی خرابیوں کی وضاحت ہوتی ہے۔

گذشتہ برس طب کا نوبیل انعام ان تین سائنسدانوں کو دیا گیا تھا جنھوں نے ملیریا اور مرطوب علاقوں کی دیگر بیماریوں کے علاج دریافت کیے تھے۔

کسی جسم کا اپنے ہی خلیوں کو تباہ کرنا ایک اچھا خیال نہیں لگتا لیکن آٹوفیگی ایک قدرتی دفاعی عمل ہے جسے ہمارا جسم زندہ رہنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

یہ عمل نہ صرف جسم کو خوراک کی کمی کا مقابلہ کرنے کی ہمت دیتا ہے بلکہ خراب بیکٹیریا اور وائرس سے لڑنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

اور اس کے ساتھ ساتھ یہ پرانے فضلے کو صاف کر کے نئے خلیوں کے لیے جگہ بھی بناتا ہے۔

آٹوفیگی کے عمل کی بندش کا تعلق ڈیمنشیا جیسی بڑھاپے میں ہونے والی کئی بیماریوں سے ہے اور اب ایسی دواؤں کی تیاری کا عمل جاری ہے جو کینسر سمیت مختلف بیماریوں میں آٹوفیگی کے عمل کو ہدف بنا سکیں۔

ڈاکٹر اوشومی کا کہنا ہے کہ وہ نوبیل انعام ملنے پر حیران ضرور ہیں لیکن اسے وہ اپنے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔

رواں برس طب کے نوبیل انعام کے لیے 270 سے زیادہ سائنسدانوں کو نامزد کیا گیا تھا۔

نوبیل انعام کے ساتھ ڈاکٹر اوشومی کو 80 لاکھ سویڈش کرونا (نو لاکھ 36 ہزار ڈالر) کی رقم بھی ملے گی

Scroll To Top