تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


عمیر بن حنانی نے آگے بڑھ کر ٹھوکریں ماریں، جس سے آپ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور ہر ٹھوکر لگاتے ہوئے کہتا جاتا تھا، کیوں تم نے ہی میرے باپ کو قید کیا تھا جو بے چارحالت قید ہی میں مر گیا تھا۔ گھر کے اندر یہ قیامت برپا ہوگئی۔ چھت والوں اور دروازے والوں کو خبر ہی نہ ہوئی۔ آپ کی بیوی نائلہ نے آوازیں دیں تو لوگ چھت پر سے اترے اور دروازے کی طرف سے اندر متوجہ ہوئے۔ بلوائی اپنا کام کر چکے تھے، وہ بھاگے۔ بعض ان میں سے حضرت عثمان ؓ کے غلاموں کے ہاتھوں سے مارے گئے۔ اب کسی کو نہ دروازے پر رہنے کی ضرورت تھی، نہ کسی کی حفاظت باقی رہی تھی۔ چاروں طرف سے بلوئیوں، بد معاشوں نے زور کیا۔ گھر کے اندر داخل ہو کر تمام گھر کا سامان لوٹ لیا۔حتیٰ کہ جسم کے کپڑے تک بھی نہ چھوڑے۔ اس بد امنی اور ہلچل کے عالم میں بجلی کی طرح مدینہ میں عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر پھیل گئی۔ یہ ۸۱/ذیالحجہ سنہ۔۵۳ھ یوم جمعہ کو وقع پذیر ہوا۔ تین دن تک حضرت عثمان غنیؓ کی لاش بے گوروکفن پڑی رہی۔ آخر حکیم بن حزام اور جبیر ین مطعم دونوں حضرت علیؓ کے پاس گئے۔ انہوں نے دفن کرنے کی اجازت دی۔ رات کے وقت عشاءو مغرب کے درمیان جنازہ لے کر نکلے۔ جنازہ کے ساتھ زبیر، حسن، ابوجہم بن حذیفہؓ اور مروان وغیرہ تھے۔ بلوائیوں نے جنازہ کی نماز پڑھنے اور دفن کرنے میں رکاوٹ پیدا کرنی چاہی مگر حضرت علیؓ کو معلوم ہوا تو انہوں نے سختی سے ان کو منع کیا۔ جبیربن مطعمؓ نے جنازہ کی نماز پڑھائی۔ بغیر غسل کے انہیں کپڑوں میں جو پہنے ہوئے تھے، دفن کئے گئے۔
حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے وقت ممالک اسلامیہ میں مندرجہ ذیل عامل و امیر مامور تھے۔ عبداللہ بن الحضرمی مکہ میں، قاسم بن ربعیہ ثقفی طائف میں، یعلی بن مینہ صنعا ءمیں، عبداللہ بن ربیعہ جند میں ، عبداللہ بن عامل بصرہ میں، معاویہ بن ابو سفیان ملک شام میں، عبدالرحمن بن خالد حمص میں، حبیب بن مسلمہ قنسرین میں، ابو الاعور سلمی اردن میں، عبداللہ بن قیس فزاری بحرین میں، علقمہ بن حکیم کندی معاویہ کی طرف سے فلسطین میں، ابو موسیٰ الشعریؓ کوفہ میں، امام اور قعقاع بن عمرو سالارلشکر تھے۔ جابر مزنی اور سماک انصاری دونوں خراج سواد پر مامور تھے۔ جریر بن عبداللہ قرقیسیا میں، اشعت بن قیس آذربائیجان میں، سائب بن اقرع اصفہان میں گورنر مقرر تھے، مدینہ منورہ میں بیت المال کے افسر عقبہ بن عمرو اور قضا پر زید بن ثابت ؓ مامور تھے۔
حضرت عثمان غنیؓ ۲۸سال کی عمر میں بارہ سال خلافت کر کے فوت ہوئے۔ جنت البقیع کے قریب مدفون ہوئے۔ آپ کے گل گیارہ بیٹے اور چھ بیٹیاں ہوئی تھی۔
خلافت عثمانی پر ایک نظر: خلافت عثمانی کے واقعات پڑھ کر بے اختیار قلب پر یہ نمایاں اثر ہوتا ہے کہ ہم عہد نبویﷺ اور خلافت صدیقی اور فاروقی کے زمانے کو طے کر کے کسی نئے زمانے میں داخل ہوتے ہیں۔ اس زمانے کی آب و ہوا بھی نئی ہے اور لوگوں کی وضع قطع میں بھی غیر معمولی تغیر پیدا ہوگیا ہے۔ زمین و آسمان غرض ہر چیز کی کیفیت متغیر ہے۔ خلافت فاروقی تک مسلمانوں کی نگاہ میں مال ودولت کی کوئی قعت وقیمت نہ تھی۔ خود خلیفہ کی حالت یہ ہوتی تھی کہ اپنے اہل و عیال کی ضروریات پورا کرنے کے لئے دوسرے لوگوں سے بھی بہت ہی کم روپیہ اس کے ہاتھ میں آتا تھا اور اس بے زری و افلاسی کو نہ خلیفہ وقت کوئی مصیبت تصور فرماتا تھا، نہ عامل لوگ مال و دولت کی طرف خواہش مند نظر آتے تھے۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی خواہش اعلاءکلمتہ اللہ اور ان کی سب سے بڑی مسرت راہ الہٰی میں قربان ہوجانا تھا۔ عہد عثمانی میں یہ بات محسوس طور پر کم ہوگئی تھی۔12300965386_2a143d63b4_b

Scroll To Top