بڑھاپا دور بھگانے والی آسان عادت

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو

تیز چہل قدمی یا سائیکل چلانا نہ صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ بڑھاپے کی جانب سفر بھی سست کردیتا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

مایو کلینک کی تحقیق کے مطابق ہلکی پھلکی ورزش جیسے تیز چہل قدمی یا تیز رفتاری سے سائیکل چلانا نہ صرف جسمانی دفاعی نظام کو بہتر، ذہن کو تیز، نیند میں مددگار اور مسلز کے لیے اہم ہے بلکہ یہ جسمانی خلیات کی توڑ پھوڑ کو بھی سست کردیتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عادت خلیات کے اسٹرکچر کو دوبارہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور لوگوں کے خلیات میں پروٹین زیادہ جمع ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ جسمانی سرگرمیاں عمر بڑھنے سے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کے عمل کو سست یا تاخیر کار شکار کردیتی ہیں اور ایسا کسی بھی قسم کی ادویات سے کرنا ممکن نہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ بنیادی سائنسی ڈیٹا اس خیال کو سپوٹ کرتا ہے کہ جسمانی سرگرمیاں بڑھاپے کی روک تھام یا اسے التواءمیں ڈالنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں اور ان کا کوئی متبادل نہیں۔

اس تحقیق کے دوران 18 سے 80 سال تک کی عمر کے 72 مرد اور خواتین کو دو گروپس میں تقسیم کرکے تجربات کیے گئے۔

انہیں ورزش کے تین پروگرامز کا حصہ بنایا گیا جن میں تیز چہل قدمی یا سائیکلنگ، وزن اٹھانے والی ورزشیں یا دونوں کا امتزاج۔

محققین نے ان کے تھائی مسلز اور دیگر نمونوں کا موازنہ جسمانی طور پر سست افراد کے ساتھ کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ تیز چہل قدمی یا سائیکلنگ کرنے والے گروپ کے خلیاتی لیول میں سب سے زیادہ فائدہ دیکھنے میں آیا خصوصاً بوڑھے رضاکاروں میں اس کی شرح 69 فیصد تک بڑھ گئی۔

محقین کا کہنا تھا کہ اگر لوگ صرف ایک ورزش چننا چاہیں تو ہم انہیں تیز چہل قدمی یا سائیکلنگ کا مشورہ دیں گے اور ہفتے میں کم از کم تین سے چار دن ایسا کرنا ہی زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے سیل میٹابولزم میں شائع ہوئی۔

Scroll To Top