تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے ان لوگوں کو قسمیں دے کر لڑنے سے روکا اور گھر کے اندر بلا لیا۔ بلوائیوں نے دروازہ میں آگ لگا دی اور اندر گھس آئے۔ ان لوگوں نے ان کو پھر مقابلہ کر کے باہر نکال دیا۔ اس وقت حضرت عثمان غنیؓ قرآن مجید پڑھ رہے تھے۔ جب اس آیت پر پہنچے (الذین قال لھم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشواہم ایماناً وقالو احسبنا اللہ ونعم الوکیل) ” وہ لوگ ہیں جن لوگوں نے آکر خبر دی کہ مخالف لوگوں نے تمہارے ساتھ لڑنے کے لئے بھیڑ جمع کی ہے۔ ذرا ان سے ڈرتے رہنا تو اس خبر کو سن کر ان کے ایمان اور بھی مضبوط ہوگئے اور بول اٹھے کہ ہم کو اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے“ تو حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے۔ میں اس عہد پر قائم ہوں اور تم ہرگز ان بلوائیوں کا مقابلہ اور ان سے قتال بالکل نہ کرو۔ حضرت حسن بن علیؓ کو حکم دیا کہ تم بھی اپنے باپ کے پاس چلے جاو¿ لیکن انہوں نے نے جانا پسند نہ کیا اور دروازہ پر بلوائیوں کو روکتے رہے۔
مغیرہ بن الاخنسؓ یہ حالت دیکھ کر تاب نہ لا سکے۔ اپنے چند ہمراہیوں کو لے کر بلوائیوں کے مقابلہ پر آئے اور لڑکر شہید ہوئے ۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ ؓ بھی یہ کہتے ہوئے( یاقوم مالی ادعو کم الی النجاة وتد عونبی الی النار) ” لوگو! مجھے کیا ہوا ہے میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو“ بلوائیوں پر ٹوٹ پڑے۔ حضرت عثمان غنیؓ کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے یاصرار حضرت ابو ہریرہؓ کو واپس بلوایا اور لڑائی سے باز رہنے کا حکم دیا۔ اسی عرصہ میں حضرت عبداللہ بن سلام تشریف لائے انہوں نے بلوائیوں کو سمجھانا اور فتنہ سے بازرکھنا چاہا لیکن بجائے اس کے کہ ان کی نصیحت کا بلوائیوں پر کچھ اثر ہوتا۔ وہ عبداللہ بن سلام سے بھی لڑنے پر آمادہ ہوگئے۔ حضرت عثمان غنیؓ کے مکان میں جس قدر آدمی تھے، ان میں سے کچھ تو کوٹھے پر چڑھے ہوئے تھے اور باغیوں کی کوشش اور نقل وحرکت کے نگراں تھے، کچھ لوگ دروازہ پر تھے اور باہر سے داخل ہونے اور گھنسے والے بلوائیوں کو اندر آنے سے روک رہے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ اور ان کی بیوی نائلہ بنت الفرفصہ کھر میں تھے۔
بلوائیوں نے ہمسائے کے گھر میں داخل ہو کر اور دیوار کو دکر حضرت عثمانؓ پر حملہ کیا۔ سب سے پہلے محمد بن ابی بکرؓ حضرت عثمان غنیؓ کے قریب پہنچے اور ان کی داڑھی پکڑ کر کہا کہ اے نعثل (لمبی داڑھی والے) اللہ تجھ کو رسوا کرے۔ حضرت عثمان ؓ نے کہا کہ میں نعثل نہیں بلکہ عثمان امیر المومنین ہوں۔ محمد بن ابی بکرؓ نے کہا، تجھ کو اس بڑھاپے میں بھی خلافت کی ہوس ہے۔ حضرت عثمان ؓ نے کہا کہ تمہارے باپ ہوتے تو وہ میرے اس بڑھاپے کی قدر کرتے اور میری اس داڑی کو اس طرح نہ پکڑتے۔ محمد بن ابی بکرؓ یہ سن کر کچھ شرما گئے اور داڑھی چھوڑی کر واپس چلے گئے۔ ان کے واپس جانے کے بعد معاشوں کا ایک گروہ اسی طرح سے دیوار کو دکر اند ر آیا۔ جس میں بلوائیوں کا ایک سرغنہ عبدالرحمن بن عدیس کنانہ بن بشیر عمرو بن عمق، عمیر بن حنانی، سوادان بن حمران غافقی تھے۔ کنانہ بن بشیر نے آتے ہی حضرت عثمان غنیؓ پر تلوار چلائی ان کی بیوی نائلہ نے فوراً آگے بڑھ کر تلوار کو ہاتھ سے روکا ۔ ان کی انگلیاں کٹ کر الگ جا پڑیں، پھر دوسرا وار کیا، جس سے آپ شہید ہوگئے۔ اس وقت آپ قرآن کی تلاوفت میں مصروف تھے۔ خود کے قطرات قرآن مجید کی آیت پر گرے(فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم) عمرو بن عمق نے آپ پر نیزے سے نوزخم پہنچائے۔

Scroll To Top