اہل سیاست مسائل کا خاتمہ چاہتے ہیں ؟

  • ظہیرالدین بابر

مملکت خداداد پاکستان میں ایک طرف دہشت گردی کا معاملہ بدستور حکام کی سنجیدگی کا طلب گار ہے تودوسری طرف قتل وغارت گری سے نمٹنے کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام مسلسل التواءکا شکار ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف اگر مگر چونکہ اور چنانچہ سے کام لیتے ہوئے درپیش تنازعہ کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوررہیں۔ تازہ پیش رفت یہ ہوئی کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اس موقف کے ساتھ سامنے آئے کہ فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی سماعت فوجی افسر کے علاوہ سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج بھی کرے تاکہ مقدمات کی شفافیت پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع سے متعلق نو تجاویز دی ہیں جن کے مطابق سیشن جج کا تعین متعقلہ صوبے کی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کرے گا۔بعقول ان کے فوجی عدالتوں کی مدت ایک سال کے لیے ہوگی جبکہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے علاوہ حزب مخالف کی جماعتوں نے ان عدالتوں کی مدت دوسال کے لیے تجویز دی ۔“
بادی النظر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس حقیقت کو جھٹلانا مشکل ہورہا کہ اہل سیاست انتہاپسندی کو حقیقی معنوں میں ختم کرنے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ سانحہ پشاور کے بعد دوسال تک فوجی عدالتیں بنا دی گئیں مگر اس مدت میں ایسی عدالتی اصلاحات کا نفاذ عمل میں نہ آیا جو دہشت گردی کے مقدمات میں فوری اور موثر فیصلے دے سکیں۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ سیاسی جماعتیں مسائل کو التواءمیں رکھنے کی پالیسی پر اس انداز میں عمل پیراءہیں کہ دہشت گردی جیسا سنگین معاملہ بھی ان کے اس لاپرواہی سے بچ نہیں پایا۔
ہونا تو یہ چاہے کہ انتہاپسندی کے مقدمات میں جتنے بھی ملزمان گرفتار ہوں انھیں 24 گھنٹوں کے اندر اندر عدالت میں پیش کردیا جائے مگر مقام افسوس ہے کہ پانچ سالہ پی پی پی کے دور اقتدار اور اب مسلم لیگ ن کی کم وبیش چار سالہ حکومت میں ان رکاوٹوں کو دور نہیں کیا جاسکا جوقتل وغارت کے سنگین مقدمات کے فیصلے کرنے میں معاون بنیں۔
ایک خیال یہ ہے کہ نظام انصاف میں تاخیر کی زمہ دار کسی ایک ادارے پر نہیں ڈالی جاسکتی بلکہ پولیس اور دیگر سرکاری محکمے بھی مقدمات کے التواءمیںبرابر کے شریک ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسی تجاویز کو پارلمینٹ میں زیر بحث کیوں نہیں لایا جاتا جو سستے اور فوری انصاف کے حصول میں معاون ہوسکیں لہذا حکومت ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی دونوں کو اس ضمن میں اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو ڈر ہے کہ فوجی عدالتوں کا قانون سیاست دانوں کے خلاف استعمال نہ ہوجائے۔ اس ضمن میں تازہ تحفظات کا اظہار سابق صدر زرداری نے ڈاکٹر عاصم حسین کی مثال دے کر واضح کیا۔
ادھر عسکری حکام دہشت گردی کو پوری قوت سے ختم کرنے کے درپے ہیں۔ اس کی بڑی مثال یہ کہ پہلے سندھ میں رینجرز تعینات تھے اب انھیں پنجاب میں لگایا گیا ۔ وفاقی اور صوبائی حکومت دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس حقیقت کو دل وجان سے تسلیم کرنے میں پس وپیش سے کام لے رہی کہ جب تک ریاست کے تمام ستون اپنی آئینی ، قانونی اور اخلاقی زمہ دایاں ادا نہیں کرینگے سوفیصد نتائج کی توقع نہ کی جائے۔
مثلا انتہا پسندی کے خلاف نینشل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت ہر سیاسی ومذہبی قوت اپنا کردار ادا کرنے کا دعوی تو کرتی ہے مگر عملا ٹھو س اقدمات اٹھانے کو تیا رنہیں۔
حیرت ہے کہ ملک آگ اور خون میں نہا رہاہے مگر حزب اقتدار اور حزب مخالف کی جماعتیں کسی طور پر اپنے انفرادی اور گروہی مفاد سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ سیاسی قوتوں کو زیادہ زمہ دارنہ کرداد ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کا پودا اسی صورت طاقتور درخت بنے گا جب اس میں عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیاجائے۔ ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کی دہائی صبح وشام دی جاتی ہے مگر منتخب نمائندوں کو بھی سمجھ لینا چاہے کہ ان کام محض قانو ن سازی ہی نہیں بلکہ عوامی فلاح وبہود پر مبنی قانون سازی پر عمل درآمد بھی کروانا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذہب کے نام پر ہونے والے انتہاپسندانہ مخصوص نظریات کی پیدوار ہیں ۔ انسانی جان کی حرمت پر دل وجان سے یقین نہ رکھنے والوں سے اختلاف کی گنجائش بہرکیف موجود ہے مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عصر حاضر میں نظریاتی تصادم جاری وساری ہے۔ماضی میں القائدہ اور اب داعش کی دنیا بھر میںموجودگی میں یہ ثابت کرنے کے لیے بہت کافی ہے کہ مسلم وغیر مسلم اہل فکر ونظر کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہوگا۔۔۔ مغرب سے کہیں بڑھ کر مسلم دنیا کو دہشت گردی کی بدترین کاروائیوں کا سامنے ہے۔ درجنوں اسلامی ممالک میں موجود آمرانہ حکومتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر عوام کا استحصال کرنے میں ملوث ہیں لہذا انتہاپسند گروہ اس صورت حال کو اپنے حق میں کامیابی سے استمال کررہے ۔ پاکستان کا معاملہ بعض حوالوں سے مختلف ضرور ہے مگر اس لحاظ سے تشویشناک بھی کہ (ڈیک)افغانستان اور روس کی جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا وہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود تباہ کن ثابت ہورہا۔ ماضی کی کوتاہیاں اپنی جگہ مگر اب برسراقتدار حضرات کا آئینی ، قانونی اوراخلاقی زمہ داریوں سے پہلو تہی کرنا صورت حال مذید پچیدہ کررہا ۔ (ڈیک)

Scroll To Top