تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


اس کے بعد بلوائیوں نے ان کے مکان کامحاصرہ کر لیا اور سختی شروع کی۔ جب خلیفہ وقت پر پانی بھی بند کر دیا گیا اور پانی کی نایابی سے تکلیف و اذیت ہوئی تو حضرت عثمان غنیؓ اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور اپنے حقوق جتائے اور اپنا سابق الایمان ہونا بھی لوگوں کو یاد دلایا۔ اس تقریر کا بلوائیوں پر کچھ اثر ہوا کہ ان میں سے اکثر یہ کہنے لگے کہ بھائی اب ان کو جانے دو اور ان سے درگزر کرو لیکن اتنے میں مالک بن اشترآگیا۔ اس نے لو گوں کے مجمع کو پھر سمجھایا کہ دیکھو کہیں دام فریب میں نہ آجانا۔ چنانچہ لوگ پھر مخالفت پر آمادہ ہوگئے۔بلوائیوں کو جب یقین ہوگیا کہ ممالک اسلامیہ سے جو فوجیں آگی وہ ضرور حضرت عثمان ؓ کی حامی اور ہماری مخالف ہوں گی تو انہوں نے یعنی ان کے سرداروں نے حضرت عثمان غنیؓ کے شہید کرنے کامصمم ارادہ کر لیا۔ انہیں ایام میں حضرت عائشہ ؓ نے حج کا ارادہ کیا اور اپنے بھائی محمد بن ابی بکرؓ کر بلوایا کہ وہ ہمارے ساتھ چلیں تو محمد بن ابی بکر ؓ نے ان کے ساتھ جانے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ وہ بلوائیوں کے ساتھ شیرو شکر ہورہے تھے۔ حضرت حنظلہ ؓ کا تب وحی نے کہا کہ تم ام المومنینؓ کے ساتھ نہیں جاتے اور سفہا ئے عرب کی پیروی کرتے ہو، یہ تمہاری شان کے بعید ہے۔ محمد بن ابی بکرؓ نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہ دیا، پھر حنظلہ ؓ کوفہ کی طرف چلے گئے۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ؓ اور دوسرے صحابیوں نے اپنے اپنے دروازے بند کر لئے تھے، نہ گھر سے باہر نکلتے تھے، نہ کسی سے ملتے تھے۔ حضرت ابن عباسؓ نے عثمان غنیؓ کے دروازے پر موجود رہ کربلوائیوں کا مقابلہ کیا اور ان کو روکا لیکن ان کو حضرت عثمانؓ نے امیر الحاج بنا کر باصرار مکہ روانہ کیا۔ ورنہ وہ فرماتے تھے کہ مجھ کو ان بلوائیوں سے جہاد کرنا حج کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ حسن بن علی، عبداللہ بن زبیر، محمد بن طلحہ ، سعید بن العاص ؓ نے دروازہ کھولنے سے بلوائیوں کو روکا اور لڑکر ان کو پیچھے ہٹادیا۔
(جاری ہے)12300965386_2a143d63b4_b

Scroll To Top